مہنگے ہونے کے باوجود آئی فونز کی ڈیمانڈ کیوں بڑھ رہی ہے؟

آئی فون کے نئے ماڈلز عام پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر ہی سہی لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس موبائل سے جنون کی حد تک لگائو رکھتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ مارکیٹس میں آج بھی آئی فون کی ڈیمانڈ دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ کراچی کی مقامی مارکیٹ کے ایک دکاندار نے بتایا کہ لوگوں کو آئی فون کا زیادہ شوق نہیں ہے لیکن اب یہ معاشرے میں سٹیٹس اور ٹرینڈ بن گیا ہے، کہ جس کے پاس آئی فون ہے وہ بہت زیادہ ماڈرن اور ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ دکاندار نے بتایا کہ ہمارے پاس آئی فون خریدنے زیادہ تر وہ افراد یا نوجوان آتے ہیں جوکہ ٹک ٹاکر ہیں، یا سوشل میڈیا ایپس پر نام بنانا چاہتے ہیں، ہمارے پاس کافی ایسے لوگ آتے ہیں جن کو آئی فون کی بنیادی چیزوں کے متعلق بھی علم نہیں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کی آئی ڈی تک بنانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ آئی فون کا زیادہ نیا ماڈل لینے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی آدھی سے زائد سروسز تو پاکستان میں استعمال ہی نہیں کی جا سکتی ہیں، ظاہر ہے جو امیر طبقہ ہے وہ تو نئے ماڈلز کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ہمارے پاس زیادہ تر کیٹیگری 7 پلس، ایکس، ایکس ایکس میکس، 12 پرو میکس کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے، یہ موبائل فونز ہمارے پاس رننگ آئٹمز میں موجود ہیں جبکہ آئی فون 13 یا 14 پرو بہت زیادہ مہنگے ہیں اور ہر شخص کی رسائی میں نہیں ہیں۔
دکاندار نے بتایا کہ لوگ زیادہ نان پی ٹی اے موبائل فونز کو ترجیح دیتے ہیں، پی ٹی اے سے منظور شدہ موبائل فونز کو کم خریدا جاتا ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی اے سے منظور شدہ موبائل فونز کے لیے زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور نان پی ٹی اے موبائل فون کم قیمت میں دستیاب ہوتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ فی الوقت موبائل فون کی قیمتوں میں کمی کے امکانات بہت کم ہیں، انکا کہنا تھا کہ اگر نئے موبائل فونز کی قیمتیں نیچے آئیں گی تو پرانے موبائل فونز کی قیتمیں بھی گرتی ہیں، انھوں نے صارفین کو نیا موبائل فون خریدتے وقت احتیاطی تجاویز پر عملدرآمد کیلئے زور دیا کہ دیکھا جائے کہ موبائل فون کا ڈسپلے ٹھیک ہے، بیٹری کے استعمال کو مانیٹر کرنا ہے، اگر واٹر پرووف ہے تو اس کی بھی جانچ لازمی کی جانی چاہئے، فون میں ٹو ٹون کا فیچر بھی چیک کرنا چاہئے۔ ان چیزوں کی جانچ سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ موبائل فون کو ری پیئر کیا گیا ہے یا نہیں۔
