میر ظفراللہ خان جمالی کفن پر کون سا داغ ساتھ لے کر گئے؟


76 برس کی عمر میں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں انتقال کر جانے والے سابق وزیر اعظم میرظفراللہ خان جمالی کو ہماری سیاسی تاریخ میں قیام پاکستان کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوالیکن ان کا یہ اعزاز اس لیے داغدار رہا کہ انہیں پاکستان کے چوتھے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے بطور صدر چن کر اپنا وزیر اعظم بنوایا۔ میر ظفر اللہ جمالی کا شمار بلوچستان کے ان چند بلوچ سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنھوں نے وفاقی جماعتوں کے ساتھ سیاست کو ترجیح دی اور صوبے میں مقبول قوم پرستی کے رجحان سے خود کو دور رکھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مشرف دور حکومت میں بلوچ قوم پرستوں کے حقوق کیلئے لڑنے والے نواب اکبر بگٹی فوج کے ہاتھوں ایک غار میں مارے گئے۔ لیکن بگٹی آج بھی زندہ ہے اور مشرف ایک زندہ لاش بن چکا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر فوجی آمر نے اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کے لئے ہمیشہ ڈمی وزیراعظم بنائے۔ پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں تین کٹھ پتلی یا ٹٹو وزیراعظم بنوائے جن میں سے پہلا نمبر میر ظفر اللہ جمالی کا ہے۔ انہیں 2004 میں گھر بھجوانے کے بعد تین ماہ کی عبوری مدت کے لئے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کو وزیراعظم بنایا گیا اور پھر امپورٹڈ وزیراعظم شوکت عزیز کا نمبر لگایا گیا۔ جنرل مشرف کے نیچے کام کرنے والے تینوں وزراء اعظم کو سو فیصد بے اختیار اور ٹٹو قرار دیا جاتا ہے اس لیے آج جب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے وزراء اعظم کا ذکر ہوتا ہے تو ظفراللہ جمالی، شجاعت حسین اور شوکت عزیز کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا۔
میر ظفر اللہ جمالی کی پیدائش قیام پاکستان سے تین سال قبل یعنی 1944 میں ڈیرہ مراد جمالی کے قصبے روجھان جمالی میں ہوئی۔ انھوں نے پرائمری تعلیم مقامی طور پر حاصل کی اور اس کے بعد گھوڑا گلی مری میں بورڈنگ سکول چلے گئے جس کے بعد اے لیول انھوں نے لاہور کے ایچی سن کالج سے کیا۔ انھوں نے کالج کے بعد مزید تعلیم پنجاب میں ہی جاری رکھی اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبے سیاست سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اردو، پنجابی، سندھی، پشتو اور براہوی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔
ظفر اللہ جمالی کا گھرانہ مسلم لیگ سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کے چچا جعفر خان جمالی محمد علی جناح اور بعد میں ان کی بہن فاطمہ جناح کے قریب رہے۔ فوجی آمر مشرف کا ساتھ دینے والے ظفر اللہ جمالی کا دعویٰ تھا کہ ان کے چچا نے فاطمہ جناح کو رضامند کیا تھا کہ وہ جنرک ایوب خان کے خلاف انتخاب لڑیں جبکہ اس سے قبل وہ خواجہ ناظم الدین اور حسین سہرودری کو انکار کر چکی تھیں۔ ظفر اللہ جمالی نے فاطمہ جناح کے انتخابی دورے کے وقت ان کے گارڈ کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیے اور بعد میں ان کے پولنگ ایجنٹ بھی مقرر ہوئے۔ روجھان جمالی کے جمالی خاندان کی سیاسی شناخت جعفر خان جمالی تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ ذمہ داری میر ظفراللہ جمالی نے سنبھالی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ م 1970 کے انتخابات میں انھیں سردار چاکر خان نے شکست دی اس کے بعد وہ 1977 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔
لیکن جب جنرل ضیاالحق نے جب مارشل لا نافذ کیا تو وہ ان سیاست دانوں میں شامل تھے جنھوں نے ضیا کا ساتھ دیا۔1985 کے غیر جماعتی الیکشن میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ان کو پانی بجلی کی وزارت دی گئی۔ پھر جب جنرل ضیا نے محمد خان جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا تو جمالی کو بلوچستان کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ وہ پھر وفاداری بدلتے ہوئے 1988 میں دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد وہ ہر اس سیاسی جماعت میں شامل رہے جو حکومت میں رہی، اس دوران انہوں نے مسلم لیگ ، مسلم لیگ ق اور پھر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تاہم ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھے والے قوم پرست سیاست دانوں سے نواب خیربخش مری، سردار عطااللہ مینگل اور میر غوث بخش بزنجو سے میر ظفر اللہ جمالی کی ذاتی اور سیاسی قربت نہیں رہی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ان بڑے سیاستدانوں کی طرح فوجی آمروں کے خلاف مزاحمت کرنے کی بجائے ان کا ساتھ دینے پر یقین رکھتے تھے۔
میر ظفراللہ جمالی کو پاکستان کا 13 واں اور بلوچستان سے پہلا وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ ان کی نام زدگی سے قبل مسلم لیگ ق اور متحدہ مجلس عمل میں اتحادی حکومت سازی کے لیے مذاکرات جاری تھے۔مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان جمالی کے خلاف تھے کیونکہ بلوچستان کی سیاست میں فضل الرحمان اور جمالی ایک دوسرے کے حریف تھے دوسری وجہ یہ تھی کہ مولانا فضل الرحمان خود بھی امیدوار تھے۔ ایم ایم اے سے مذاکرات میں کامیابی کے بعد پرویز مشرف نے وزیر اعظم کی نامزدگی چوہدری شجاعت پر چھوڑ دی اور ان کی رائے تھی کہ بلوچستان میں ہمیشہ سے احساس محرومی کا شکار رہا ہے وہاں سے کوئی وزیراعظم نہیں ہوا اس طرح جمالی کا نام حتمی ہو گیا۔شیخ رشید کا خیال ہے کہ چوہدری برادران نے جمالی کو اس لیے چنا تھا کہ ان کے خیال میں ایک چھوٹے صوبے کا وزیر اعظم حکم عدولی نہیں کرسکے گا اور جس طرح چوہدری کہیں گے ویسے ہی ہو گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ جمالی وزیراعظم نظر آنا شروع ہو چکے تھے اور امریکی دورے کے بعد تو ان کا خیال تھا کہ وہ بہترین پوزیشن میں ہیں۔ وہ مسلم لیگ ق کا کوئی عہدہ لینا چاہتے تھے اور چوہدری کسی صورت میں انہیں عہدہ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چوہدری شجاعت حسین کے مطابق مشرف کو جمالی سے پہلی شکایت یہ تھی کہ وہ سست آدمی ہیں۔ سرکاری فائلیں کئی کئی روز تک ان کے دفتر میں ان کے دستخطوں کی منتظر رہتی ہیں جبکہ دوسری شکایت اس وقت پیدا ہوئی جب جمالی بطور وزیراعظم امریکہ کےدورے پر گئے اور واپسی پر انھوں نے مشرف کو جو بریفنگ دی وہ اس سے مختلف تھی جو مشرف کو ذرائع سے ملی تھی۔ ان حالات میں مشرف نے چوہدریوں کے ذریعے جمالی کو فارغ کرنے کا عندیہ دیا تو انہوں نے عزت بچانے کے لئے خود ہی مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ جمالی 23 نومبر 2002 سے 26 جون 2004 تک وزارت عظمیٰ پر فائز رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button