میشا شفیع کے ذکر پر علی ظفر نے اپنا کون سا گیت یاد دلایا؟

https://www.youtube.com/watch?v=VG_vNI6s980
گلوکار علی ظفر اور گلوکارہ میشا شفیع کے درمیان جنسی ہراسانی کے الزام پر دو سال سے جاری قانونی جنگ کا تا حال کوئی نتیجہ تو نہیں نکل پایا تاہم حال ہی میں علی ظفر نے دنیاوی لالچ کے موضوع پر گائے گے ایک گانے کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے بالواسطہ بتایا کہ میشا شفیع کا نام سنتے ہی ان کے ذہن میں کیا خیال آتا ہے۔
علی ظفر نے تین جنوری کو ٹوئٹر پر ‘آسک علی ظفر’ کے سلسلے کے تحت مداحوں کے سوالوں کے جوابات دیے۔
ایک مداح نے ان سے سوال کیا کہ جب بھی وہ میشا شفیع کا نام سنتے ہیں تو ان کے ذہن میں کیا خیال آتا ہے؟ جس پر علی ظفر نے اپنے ایک دہائی پرانے گانے ‘چل دل میرے’ کی ویڈیو شیئر کی، جسکا موضوع دنیاوی لالچ ہے۔ علی ظفر کی جانب سے یہ گانا شیئر کرنے پر مداحین کا خیال ہے کہ انکا مخاطب میشا شفیع ہیں۔ اس گانے کے معنی خیز بول کچھ یوں ہیں:
اے دل میرے چھوڑ یہ پھیرے یہ دنیا جھوٹی لوگ لٹیرے دولت پجاری حسن بیوپاری وعدوں کے کچے حوس حواری جھوٹی ادائیں کھوٹی انائیں
اتنے فخر سے میک اپ سجائیں
اپنی کہانی رو رو سنانی
ہم سے نہ ہو ایسی نادانی
چل دل میرے ۔۔۔۔۔۔
یاد رہے کہ 18 اپریل 2018 کو گلوکارہ میشا شفیع نے اپنی ایک ٹویٹ میں گلوکار اور اداکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ یہ پوسٹ اس وقت کی گئی جب دنیا بھر میں ’می ٹو‘ کی مہم اپنے عروج پر تھی جس کے تحت خواتین خود کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔ میشا شفیع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ میں اس وجہ سے یہ بات شیئر کر رہی ہوں کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے اپنے تجربے کے بارے میں بات کرکے میں خاموشی کی اس روایت کو توڑ سکتی ہوں جو ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ تاہم ’اس طرح کھل کر بات کرنا آسان نہیں ہے، لیکن خاموش رہنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ میرا ضمیر مجھے اب مزید اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میری ہی صنعت میں میرے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے مجھے ایک سے زیادہ بار جنسی طور پر ہراساں کیا ہے اور اسکا نام یے علی ظفر۔ یہ سب تب نہیں ہوا جب میں چھوٹی تھی یا صنعت میں نئی تھی۔ یہ میرے ایک پراعتماد، کامیاب، اور چپ نہ رہنے والی عورت بن جانے کے باوجود ہوا۔ یہ سب میرے ساتھ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود ہوا۔‘
میشا کے اس الزام کے جواب میں گلوکار علی ظفر نے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ میں ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہوں۔ میں می ٹو نامی عالمی تحریک سے واقف ہوں، اور اس کی حمایت بھی کرتا ہوں۔ میں ایک بچی اور بچے کا باپ ہوں۔ ایک بیوی کا شوہر اور ایک ماں کا بیٹا ہوں۔ تاہم میں اس معاملے کو عدالت لیجا کر اس الزم سے سنجیدگی سے نمٹوں گا۔ اس کے بعد علی ظفر نے جون 2018 میں لاہور کی سیشن عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دعویٰ دائر کر دیا، جس میں کہا گیا کہ میشا نے جھوٹے الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے بعد میشا شفيع کی جانب سے صوبائی محتسب کے پاس گلوکار علی ظفر کے خلاف شکایت درج کروائی گئی جسے محتسب کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ درخواست گورنر پنجاب کے پاس گئی اور اسے وہاں سے بھی مسترد کر دیا گیا۔ میشا نے محتسب اور گورنر کی جانب سے اپنی شکایت کو مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف پنجاب پروٹیکشن برائے خواتین ایکٹ 2012 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد اکتوبر 2019 میں ان کی اپیل کو وہاں سے اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ میشا شفیع اور کمپنی کے مابین معاہدہ خدمات کی فراہمی کےلیے کیا گیا تھا اور اس کی ایک شق کے مطابق فریقین کے درمیان تعلقات کو ملازمت تصور نہیں کیا جائے گا۔ اس سب کے بعد میشا شفيع کی جانب سے بھی علی ظفر کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر دیا گیا۔ علی نے عدالت سے مقدمے کی سماعت روکنے کی درخواست کی جس پر عدالت نے فروری 2020 میں کیس کی سماعت روکنے کا حکم جاری کیا اور کہا کہ علی ظفر اور میشا دونوں کے الزامات کی نوعیت ایک جیسی ہے لیکن چونکہ گلوکار علی ظفر کا دعویٰ پہلے ہی زیر سماعت ہے اور گواہان کی شہادتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اسلیے میشا کا جوابی دعوی قابل سماعت نہیں۔
عدالتی کارروائی کے علاوہ نومبر 2018 میں گلوکار علی ظفر نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں بھی شکایت درج کروائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ نیشا کے ایما پر بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ’دھمکیاں اور بدنامی پر مبنی مواد‘ پوسٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس دعوے کے ساتھ ثبوت کے طور پر کچھ ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے دو سال اس حوالے سے تحقیقات جاری رہیں جس کے بعد ایف آئی اے نے چالان مکمل کرکے پراسکیوشن کو جمع کروا دیا گیا۔ اس چالان میں علی ظفر کی شکایت کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ میشا شفیع اور دیگر آٹھ لوگوں جن پر الزام لگایا گیا ان کے بارے میں تحقیقات کی گئیں اور دوران تفتیش شکایت کنندہ کی جانب سے فراہم کے گئے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اور علی ظفر کے خلاف پوسٹ کیے جانے والے مواد کی تصدیق ہو گئی ہے۔
