مینگل سےاتحاد ختم ہونے کے بعد حکومت عملی طور پر ختم ہو چکی

گزشتہ روز اختر مینگل نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے حکومتی اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد تجزیہ پیش کرتے ہوئے حامد میر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بی این پی مینگل کا حکومتی اتحاد ختم کرنے کے بعد یہ حکومت عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اب فوری طور پر ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہیئے کیوں کہ اختر مینگل کے ووٹ کے بعد عمران خان الیکشن کے بعد وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔تجزیہ نگار اس کے علاوہ اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ بلوچستان سے ایک آزاد ایم این اے بھی حکومت سے کافی ناراض ہیں جس کی وجہ سے عمران خان کو ان کی جانب سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ بی این پی مینگل سے پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل کی جانب سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمارے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کو پورا نہیں کیا۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگست 2018 کو پہلا معاہدہ ہوا،شاہ محمود،جہانگیرترین اوریارمحمدرند نے دستخط کئے، ہم نے2 سال تک اس معاہدے پرعملدرآمد کا انتظارکیاہے۔
ان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم مزید انتظار کرنے کو بھی تیار ہیں، لیکن حکومت کچھ کرے تو سہی، وہ لوگ کرتے کچھ بھی نہیں ہیں۔ اپنے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر بات کرتے ہوئے اختر مینگل کی جانب سے ایوان میں سوال بلند کیا گیا ہے کہ ان دونوں معاہدوں میں کوئی بتادےکہ کوئی بھی ایک غیرآئینی مطالبہ ہے؟ کیوں آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ؟ حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی جس کا بھائی لاپتا تھا اس کے بازیابی کےلئے وہ چارسال لڑتی رہی لیکن اب اس لڑکی نے دو دن پہلے خود کشی کرلی،اس کی ایف آئی آرکس کےخلاف کاٹی جانی چاہیے؟ اختر مینگل کی جانب سے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہاتھ ملایا آپکے ساتھ ،گلہ نہیں کررہے،صدر،اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر،چیئرمین سینیٹ سمیت ہرموقع پر ووٹ دیا لیکن ہمارے ساتھ کیا گیا ایک بھی معاہدہ حکومت کی جانب سے پورا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہم اتحاد ختم کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button