نئے بھارتی آرمی چیف کے بیان پر پاکستان کا سخت جواب

پاكستان نے بھارت کے نئے بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند ناراوین كے ایل او سی پار حملوں کے غیر ذمہ دارانہ بیان كو مسترد كرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے كسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا۔
بھارتی آرمی چیف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عزم اور تیاری کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا، کسی کو بھی بالاکوٹ میں بھارتی مس ایڈوینچر کے نتیجے میں پاکستان کے موثر ردعمل کو یاد رکھنا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیر میں غیر انسانی لاک ڈاؤن کو 150 دن ہوچکے ہیں، پاکستان بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا’۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول پر لانے کے دعووں میں کوئی حقیقت نہیں، حکام اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کی قراردادوں کے مطابق معاملہ حل کریں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘سینئر کشمیری قیادت خاص طور پر چھوٹے بچوں کو رہا کیا جائے، 9 لاکھ سیکیورٹی اہلکاروں کو فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے نکالا جائے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘بھارت جھوٹے آپریشن کی بجائے اپنے اندرون مسائل پر قابو پائے اور اندرونی حالات اور قوم پرست دہشتگردی کی روک تھام پر توجہ دے’۔
خیال رہے کہ 2 روز قبل بھارت کے 28ویں آرمی چیف تعینات ہونے والے جنرل منوج مکند ناراوین کا کہنا تھا کہ ‘نئی دہلی لائن آف کنٹرول کے پار حملوں کا اختیار رکھتا ہے’۔
بھارتی آرمی چیف نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی کہنا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کی معاونت کو ختم نہیں کرتا تو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر بھارت کو پاکستان پر حملے کا اختیار حاصل ہے اور ہماری اس نیت کا مظاہرہ بالاکوٹ آپریشن اور سرجیکل اسٹرائکس کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنرل منوج مکند ناراوین اپنی تعیناتی سے قبل بھارت کے نائب آرمی چیف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں اور انہیں یہ عہدہ سابق آرمی چیف بپن روات کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفس اسٹاف تعینات ہونے کے بعد ملا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بپن روات نے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کبھی بھی کشیدہ ہوسکتی ہے جس کے رد عمل میں انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ان کے بیان کو ‘دنیا کی بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا تھا۔
