نام نہاد جمہوری اصولوں کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی سلیکٹڈ حکومت کی جانب سے پیش کردہ آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی اصول پرستی اور جمہوریت پسندی کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ عوام کی بجائے بوٹ کو مشترکہ طور پر عزت عطا کرنے کے بعد نہ تو نون لیگ کی قیادت دوبارہ کبھی ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگا سکے گی اور نہ ہی پیپلز پارٹی زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ بلند کر سکے گی۔
بھٹو شہید کا کہنا تھا کہ سیاست اصولوں کی بنیاد پر ہوتی ہے جنہیں چھوٹے موٹے ذاتی مفادات کے لیے توڑا نہیں جا سکتا۔ لیکن 7 جنوری کو ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ ہماری سیاسی جماعتیں اصولوں کی بجائے عسکری اداروں اور انکے ذاتی مفادات کے تابع ہیں اور جمہوری اصولوں کی دعویداری کے کھوکھلے نعرے صرف عوام کو ماموں بنانے کے لئے لگائے جاتے ہیں۔ آرمی ترمیمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کرکے دراصل محمود اور ایاز یعنی پی پی پی اور نون لیگ بھی باقاعدہ طور پر بوٹ پالش کرنے والوں کی صف میں کھڑی ہو گئیں۔ یعنی ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے آصف اور نواز، نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔ خس کم جہاں پاک۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی اعلی قیادت یہ ٹھان چکی ہے کہ اُسے ہر قیمت پر گیم کو اپنے حق میں چینج کرنا ہے۔ یعنی انہیں اب یہی سمجھ آئی ہے کہ اگر دوبارہ اقتدار میں آنا ہے تو سپہ سالار کا پیادہ بننا پڑے گا جس کے لیے ایک چھوٹی سی قربانی دینا پڑتی ہے اور وہ ہے اپنے اصولوں کی۔ آرمی ترمیمی ایکٹ میں فرد واحد کے لیے کی جانے والی اور اسی فرد کے گرد گھومتی قانون کی شقیں اپنے ہی ضابطوں اور قاعدوں کا مذاق اڑا رہی ہیں اور جمہوریت کا راگ الاپتی سیاسی جماعتیں بذات خود آمریت کو جنم دے رہی ہیں۔
ان حالات میں کھیل انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ میچ میں بظاہر ہر کھلاڑی دوسرے کو ٹف ٹائم دینے کے ارادے سے رنگ میں اُتر رہا ہے۔ کھیل کے قاعدے اور ضابطے تیار کرنے والے ریفری البتہ اس بار خود کھلاڑی ہیں۔ ایسے میں ڈیڑھ سال کی آزمائشوں سے گزرنے والی ن لیگ عین اس وقت رنگ میں سرنڈر کر گئی جب گنوانے کے لیے اس کے پاس کچھ باقی نہ بچا تھا بلکہ دوسری جانب کے سلیکٹڈ کھلاڑی کا سب کچھ داؤ پر لگ چکا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ نام نہاد فہم و فراست میں چھپی موقع پرستی، پسپائی میں چھپی سیاسی سوجھ بوجھ اور انقلاب میں لپٹی بے بسی محض فریب اور دھوکہ ہے اور اب کی بار یہ فریب بیچ بازار بکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنے نام نہاد اصولوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوڑنے کے بدلے ان سیاسی جماعتوں کو حاصل کیا ہو گا؟ کیا کوئی ان ہاؤس تبدیلی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے؟ پنجاب میں حکمرانی کا ادھورا خواب پورا کرنے کا وعدہ ہے؟ نئے انتخابات کی نوید سنائی گئی ہے یا کچھ اور ؟
ن لیگ نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ کس وعدے اور کس آسرے پر بنا دیکھے، بنا سوچے، بنا سمجھے ووٹ کو عزت دینے کے بیانیے کی تدفین کی گئی۔ کچھ وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔ بغیر پڑھے ترمیم کی حمایت دو ہی صورتوں میں ممکن ہے کہ یا تو اقتدار کا لالچ ہو یا مقدمات کا خاتمہ اور تیسری صورت میں دشمن کو دیوار سے لگانا۔ اب پہلی صورت یا تو عدم اعتماد کے ذریعے پوری ہو سکتی ہے جس کے لیے اپوزیشن میں اعتماد کی کمی ہے۔۔۔ یا پھر حکومت کے اتحادیوں کا الگ ہونا جس پر پنجاب میں رابطے جاری ہیں۔
البتہ کہنے والے کہتے ہیں کہ جب کپتان ہر اُمید پر پورا اُتر رہا ہے، ہر خدمت سر انجام دی جا رہی ہے، خارجہ پالیسی ہو یا معیشت، داخلہ کے معاملات ہوں یا مقننہ کے، یہاں کہا ‘ہو جا’ تو ہو جاتا ہے تو پھر گھوڑا بدلنے کی کیا ضرورت؟
اس اہم قانون سازی نے جہاں جمہوری سیاسی جماعتوں کا پول کھولا وہیں طاقت کے ہر مرکز کو اُنھی سے بات کرنے پر مجبور کیا جن کے بارے میں چند ماہ پہلے تک یہ بیانیہ دیا جا رہا تھا کہ یہ بدعنوان عناصر ہیں اور ان سے حساب لیا جائے گا۔ لیکن داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ بیانیہ صرف ن لیگ کا نہیں بدلا بلکہ طاقتوروں کا بھی بدلا ہے۔ تنقید صرف اپوزیشن پر ہی نہیں با اختیار حلقوں پر بھی ہو رہی ہے۔ اپنی پوزیشن سے صرف بدعنوان سیاست دان ہی پیچھے نہیں ہٹے بلکہ وہ بھی ہٹے ہیں جنھیں اپنے سوا کوئی اور کچھ نظر نہیں آتا۔ جناب! تنقید جس پر بھی ہو، جو بھی ہو، گھوم کر ہدف تنقید آپ ہی بنے تو اندازہ لگا لیجیے کہ نیا بیانیہ جنم لے چکا۔۔۔ آپ کو سب مل جائے گا مگر کس قیمت پر؟
