ننکانہ صاحب واقعے کو مذہبی رنگ دینا غلط ہے

پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں 3 جنوری کو پیش آنے والے واقعے کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ واقعے کو مذہبی مسئلہ قرار دینے کی کوششیں غلط ہیں۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ننکانہ صاحب میں ایک چائے کے اسٹال پر 2 مسلمان گروہوں کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا تھا۔بیان میں بتایا گیا کہ جھگڑے کے بارے میں صوبائی حکومت نے آگاہ کیا جس کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا جو اب زیر حراست ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ گردوارہ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا، اس کے برخلاف تمام انتشار اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرنے کے دعوے جھوٹے اور شرارت پر مبنی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان امن و امان کو برقرار رکھنے اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں کرتارپور صاحب راہداری کا افتتاح قائد اعظم محمد علی جناح کے اقلیتوں سے متعلق ویژن کا ایک مظہر ہے۔
مذکورہ واقعے کے بارے میں بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ چند مقامی افراد نے گرفتار افراد کی رہائی کے لیے پولیس کے خلاف احتجاج کیا تھا جنہیں انتظامیہ نے خوش اسلوبی سے منتشر کر دیا تھا۔وفاقی وزیر کے مطابق واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا جبکہ اس سلسلے میں حکومت پنجاب اور متروکہ وقف املاک انتظامہ عمائدین علاقہ سے رابطے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معمولی تنازع کو مذہبی تصادم کا رنگ دینا غلط ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا افسوسناک ہے۔نورالحق قادری کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان اپنے ملک میں سراپا احتجاج اقلیتوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ننکانہ صاحب میں گرو گوبند سنگھ کے جنم دن کی تقریبات معمول کے مطابق جاری ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ننکانہ صاحب میں ایک چائے کے اسٹال پر ہونے والی بحث سے شروع ہونے والا جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ امن و عامہ کی صورتحال کے لیے خطرہ بن گیا جس کے باعث پولیس مداخلت کرنی پڑی۔اطلاعات کے مطابق گردوارہ جنم استھان کے سامنے قائم زمان نامی شخص کے چائے کے اسٹال پر 4 افراد چائے پی رہے تھے جنہوں نے اس کے بھیتجے محمد احسان کے بارے میں بات کرنی شروع کردی۔
واضح رہے کہ محمد احسان کا نام کچھ ماہ قبل اس وقت خبروں میں آیا تھا جب اس پر ایک سکھ لڑکی سے مبینہ طور پر جبراً مذہب تبدیل کروانے کے بعد شادی کا الزام لگا تھا جس کے بعد اسے گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔
دوسری جانب یہ بات سامنے آئی تھی کہ لڑکی قانونی طور پر بالغ ہے جس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا تھا، بعد ازاں حکومت نے اس معاملے میں مداخلت کی اور معاملہ سلجھا دیا تھا۔چائے اسٹال پر موجود افراد کی باتوں پر زمان نے غصے میں ردِعمل دیا جو 2 گروہ میں تنازع کی صورت اختیار کرگیا۔جھگڑے کے بعد ایک مجمع جمع ہوگیا جو نعرے بازی کرنے لگا، اس موقع پر ننکانہ صاحب پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button