وحید مراد نے اپنی موت کے بعد کامیابی کیسے حاصل کی

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے چاکلیٹی ہیرو کہلانے والے معروف اداکار وحید مراد عروج دیکھنے کے بعد زوال کی جانب گامزن ہوئے تو فلم سازوں نے انہیں کاسٹ کرنے سے انکار کر دیا، چنانچہ انہوں نے خود کو ثابت کرنے کے لیے اپنی ایک فلم بنانے کا فیصلہ کیا جس کا نام ہیرو تھا۔ اس فلم میں انہوں نے ڈبل رول ادا کیا لیکن فلم مکمل ہونے سے پہلے ہی ان کا پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کے دو برس بعد فلم مکمل کر کے ریلیز کی گئی تو اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔

 

وحید مراد نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان پر یہ وقت بھی آئے گا کہ فلم ساز اور ہدایتکار ان سے نگاہیں چرانے لگیں گے اور ان کو فلموں میں کاسٹ کرنے سے انکاری ہو جائیں گے۔ دراصل بیش تر فلم ساز یہ مان چکے تھے کہ اب وحید مراد کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ یہ وہی ہیرو تھا جو چاکلیٹی کہلاتا تھا، جو جہاں جاتا پرستاروں کا ہجوم لگ جاتا۔ صنف نازک تو اس کی ایک ایک ادا کی دیوانی ہواکرتی تھی۔ نوجوان نسل یہ جاننے کے لیے بے تاب رہتی تھی کہ یہ خوبرو اور پرکشش ہیرو جو پاکستانی فلموں کا پہلا سپر سٹار کہلایا، کیا کھاتا ہے اور کیا پیتا ہے۔ عالم یہ تھا کہ بیش تر نوجوان تو ان کا ہیئر سٹائل کاپی کرتے تھے، لیکن پھر وقت نے ستم ڈھانا شروع کر دیا۔

 

وحید مراد کی ایک کے بعد ایک فلمیں فلاپ ہونا شروع ہوئیں تو فلمساز انہیں کاسٹ کرنے سے انکاری ہو گئے۔ 80 کی دہائی تک آتے آتے وحید مراد کی بیش تر فلمیں بری طرح ناکامی سے دوچار ہونے لگی تھیں۔ فلم نگری میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے وحید مراد نے ‘انوکھا داج’ اور ‘ووہٹی جی’ جیسی پنجابی فلموں میں بھی کام کیا لیکن ناکامی کے سائے ان کے سر پر منڈلانے لگے تھے۔ بدقسمتی سے اسی دوران وہ ایک کار حادثے کا شکار ہوئے جس نے ان کے چہرے کا ایک حصہ بری طرح متاثر کیا۔ حالانکہ انہوں نے مہنگی پلاسٹک سرجری کروا کر اپنا پرانا چہرہ پھر سے پا لیا تھا لیکن کہیں نہ کہیں جھول رہ گیا تھا۔ جبھی تو فلم ساز ان پر سرمایہ لگانے پر تیار نہیں تھے اور اسی بات نے انہیں خاصا دلبرداشتہ کر دیا تھا۔ اس حادثے کے بعد انہیں اس بات کا بھی احساس ہوا کہ اصل طاقت آپ کی اداکاری نہیں بلکہ چہرہ ہے۔

 

چنانچہ کراچی سے تعلق رکھنے والے فلم ساز اور فلم ڈسٹری بیوٹر نثار مراد کے اکلوتے اور لاڈلے صاحبزادے وحید مراد نے زندگی کا ایک کٹھن فیصلہ کیا۔ ناکامی اور مایوسی کے اس موڑ پر انہوں نے اپنی فلم بنانے کا ارادہ کیا۔ وحید کے لئے فلم سازی کے میدان میں کودنا کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ اس سے پہلے بھی وہ اس شعبے میں خود کو منوا چکے تھے۔ لاہور کے نگار خانوں میں تب سب نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وحید مراد فلم ‘ہیرو’ کے لئے فلم سازی کر رہے ہیں جس کی کہانی ان کی ہے اور وہ خود اس میں ڈبل رول میں ہوں گے جبکہ ان کی ہیروئنز بابرہ شریف اور ممتاز ہوں گی۔ وحید مراد نے ‘ہیرو’ کے لئے ہدایتکار کے طور پر اقبال یوسف کا انتخاب کیا تھا۔ وحید کی فرمائش پر ندیم اس فلم میں بطور مہمان اداکار جلوہ گر ہونے پر رضامندی ظاہر کر چکے تھے۔ صرف ندیم ہی نہیں طالش، لہری، اسلم پرویز، الیاس کاشمیری، شاہد اور علی اعجاز تک نے اپنے پرانے دوست وحید مراد کا مشکل گھڑی میں ساتھ دیتے ہوئے انکی فلم میں بطور مہمان اداکار اپنی جھلک دکھائی۔

 

وحید مراد کو یقین تھا کہ ان کے چاہنے والے ہیرو نامی فلم میں انکے ڈبل رول کو پسند کریں گے کیونکہ ان میں سے ایک رول شریف آدمی کا جب کہ دوسرا برے انسان کا تھا۔ فلم کی عکس بندی تیزی سے جاری تھی لیکن اس دوران ان کی اہلیہ سلمیٰ مراد بھی انہیں چھوڑ کر چلی گئیں۔ اپنوں کی بے رخی اور بے وفائی کا غم وحید مراد کو اندر ہی اندر ختم کرتا جا رہا تھا۔ وحید مراد ہمت ہار بیٹھے اور لاہور چھوڑ کر مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے جہاں کہ فلم ‘ہیرو’ کی عکس بندی ہو رہی تھی۔ وحید مراد اس فلم کو اپنی بقا کی آخری جنگ تصور کئے بیٹھے تھے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بے جا ذہنی دباؤ نے وحید مراد کو کچھ زیادہ ہی تذبذب کا شکار کر دیا تھا۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ وہ خاصے ڈپریشن زدہ ہو چکے تھے۔

وحید مراد کی کوشش تھی کہ اپنی فلم کو کامیاب بنا کر وہ ان لوگوں کو غلط ثابت کر دیں جو کہتے تھے کہ وحید مراد کا دور ختم ہو گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ فلم مکمل ہونے سے پہلے ہی 23 نومبر 1983 کو وحید مراد پرسرار حالات میں نیند کے دوران ہی انتقال کر گئے۔ کسی نے کہا کہ انہوں نے خودکشی کرلی تو کسی نے کہا کہ انھیں زہر دیا گیا۔ تاہم وحید کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ اس مرحلے پر سلمیٰ مراد نے شوہر کے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔ اس مرحلے پر ان کی رہنمائی کے لئے فلم سٹار محمد علی آگے بڑھے۔ ہیرو نامی ادھوری فلم مکمل کرنے کے لئے وحید مراد کے ڈپلی کیٹ اداکار کا استعمال کیا گیا۔ دو برس بعد جب یہ فلم نمائش پذیر ہوئی تو اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیے اور کراچی اور حیدر آباد میں سلور جوبلی مکمل کرکے وحید مراد کا یہ دعویٰ ثابت کر دیا کیا ان کا دور ابھی ختم نہیں ہوا۔ لیکن افسوس کہ اپنی یہ کامیابی دیکھنے کے لئے وحید مراد اس جہان فانی میں موجود نہیں تھے۔

Back to top button