اب وزیراعظم کوئٹہ گئے تو جوتے اور پیاز کھانے والی بات ہوگی

بلوچستان میں دس کان کنوں کے قتل کے خلاف کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا دھرنا پانچویں دن میں داخل ہو گیا ہے لیکن دھرنے کے شرکا وزیراعظم عمران خان کی آمد تک اسکو ختم کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم کا موقف ہے کہ وہ کوئٹہ ضرور جائیں گے لیکن ہزارہ برادری کے لوگ اپنے پیاروں کی تدفین کردیں۔ کان کنوں کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ کی کوئلہ فیلڈ میں پیش آیا تھا جب مسلح افراد نے ہزارہ کان کنوں کو شناخت کے بعد ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کے گلے کاٹ دیے تھے۔
ہزارہ مظاہرین اپنے پیاروں کی لاشیں لیے پچھلے چار روز سے منفی درجہ حرارت میں سڑک پر بیٹھے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک وزیر اعظم ان کے پاس نہیں آئیں گے وہ اپنی میتوں کو نہیں دفنائیں گے۔ اس مطالبے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ 2012 میں جب کوئٹہ میں خودکش دھماکوں میں سو سے زیادہ ہزارہ برادری کے لوگ جاں بحق ہوئے تھے تو عمران خان فوری طور پر کوئٹہ دھرنے میں پہنچ گئے تھے اور انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری پیپلزپارٹی کی حکومت پر ڈالتے ہوئے آصف زرداری سے مطالبہ کیا تھا کہ اسلم رئیسانی کی بلوچستان حکومت فوری طور پر ختم کی جائے۔ تب کی وفاقی حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اسلم رئیسانی کی چھٹی کروا دی تھی۔ اب ہزار مظاہرین جام کمال کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان ایسا کوئی فیصلہ کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے اور اسی لیے شاید وہ کوئٹہ بھی نہیں جا رہے۔ دوسری طرف کوئٹہ مظاہرین نے جو اسٹیج لگا رکھا ہے اس سے وقفے وقفے سے ایک ہی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان ہمارے پاس آؤ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک۔پیغام میں دھرنے کے شرکا کو اپنی آمد کا یقین دلاتے ہوئے ہلاک شدگان کی تدفین کی درخواست کی تھی۔ تاہم 7 جنوری کو بھی دھرنے کے مقام پر شدید سردی کے باوجود لوگوں کی بہت بڑی تعداد جن میں خواتین بھی شامل ہیں، میتوں کے ہمراہ موجود ہے۔
اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان کے سیاسی مخالفین نے کوئٹہ پہنچنے کا فیصلہ کیا اور 7 جنوری کی صبح بلاول بھٹو اور مریم نواز دونوں کوئٹہ پہنچ گئے اور مظاہرین کے ساتھ جا کر اظہار یکجہتی کیا۔ دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوئٹہ پہنچ کر مظاہرین کے مطالبات سنیں اور انکے زخموں پر پھاہا رکھیں۔ اب تک عمران خان کے کوئٹہ کے دورے کا تو کوئی شیڈول سامنے نہیں آیا ہے تاہم انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کوئٹہ جانے کے حوالے سے مشورہ ضرور کیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ وہ بھی جلد کوئٹہ پہنچیں گے۔ تاہم اب وزیراعظم کوئٹہ گئے تو یہی تائثر ملے گا کہ اپنے سیاسی مخالفین کے وہاں پہنچنے کے بعد عمران خان نے دباؤ لیتے ہوئے کوئٹہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اسلیے ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ اب وزیراعظم کوئٹہ جائیں یا نہ جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے۔
اس دوران جمعرات کو کوئٹہ شہر میں کان کنوں کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے دی تھی اور ہڑتال کے باعث شہر کے تمام اہم کاروباری مراکز بند اور نظامِ زندگی معطل رہا۔
اس موقع پر دھرنا مظاہرین کے پاس پہنچ کر مریم نواز مچھ واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان کوئٹہ نہیں آسکتے تو پھر عوام انہیں اسلام آباد میں بھی بیٹھنے نہیں دیں گے۔ مریم نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس پر میں اپنے والد نواز شریف، شہباز شریف اور اپنی طرف سے دلی تعزیت کرتی ہوں، پانچ دنوں سے ہم یہ سب ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں، ہمیں آپ کی تکلیف کا احساس ہے، مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اپنی بات کہاں سے شروع کروں اور کن الفاظ میں اپنے دکھ اور غم کو بیان کروں کیونکہ جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم سب اور پوری قوم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں لیکن مجھے اس بات کا احساس ہے کہ جو آپ پر گزری ہے اور جو مصیبت آپ پر ٹوٹی ہے ہم اس کو سمجھ نہیں سکتے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘مجھے وہ تصاویر بھی دکھائی گئیں جو میں نہیں دیکھ پائی’۔ اس موقع پر مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم اس لیے کوئٹہ نہیں آرہے کہ ان کو مظاہرین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن میں انہیں کہوں گی کہ وہ تھوڑی سی تنقید برداشت کرلیں لیکن ان لوگوں کے پاس آ کر ان کے سر پر دست شفقت ضرور رکھیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ ’ہم کوئٹہ سیاست کرنے نہیں بلکہ دکھ بانٹنے کے لیے آئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ جب بھی کوئٹہ آتے ہیں دکھ میں شریک ہونے کے لیے آتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک ایسی دھرتی ہے جہاں ہمارے شہیدوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے، لاشوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔‘ بلاول کا کہنا تھا کہ ملک میں سب کچھ مہنگا ہوتا جا رہا ہے مگر مزدور کا خون سستا ہو رہا ہے۔ ’آپ کا مطالبہ ایک ہی ہے کہ ہمیں جینے دو۔ آپ کا یہی مطالبہ کراچی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر پیپلز پارٹی کے ورکرز بھی اس میں آپ کے ساتھ شریک ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم اس ریاست سے اپیل کرتے ہیں کہ جو ملک میں سب سے زیادہ محب وطن ہیں وہ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں۔ ہم صرف اور صرف انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، جینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے، اے پی ایس کے بچوں کو انصاف دلائیں گے مگر یہ پلان ناکام ہے۔ ‘ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ نہیں سننا چاہتے کہ بیرونی سازش ہے، اگر ہم اپنے شہریوں کو قتل کروا رہے ہیں تو یہ ہماری ریاست کی ناکامی ہے۔‘
دوسری طرف قتل ہونے والوں کی تدفین کو دھرنے کے شرکا نے وزیر اعظم کی کوئٹہ آمد، مذاکرات اور ان کے مطالبات پورے کرنے سے مشروط کردیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزرا شیخ رشید احمد، علی زیدی اور زلفی بخاری نے دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کیے جو بے نتیجہ رہے۔ اس دوران وزیراعظم کے قریبی دوست اور ان کے مشیر زلفی بخاری نے کوئٹہ پہنچ کر دھرنے کے شرکاء سے ملاقات میں ایک ایسی بونگی ماری جو اس وقت پورے پاکستان میں موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں زلفی بخاری دھرنے کے شرکاء کو یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وزیراعظم اگر آج اس دھرنے پر آگئے تو کل کو پورے ملک میں جہاں بھی قتل عام ہوگا یہی مطالبہ کیا جائے گا کہ وزیراعظم آئیں۔ زلفی بخاری نے یہ بھی فرمایا کہ اگر وزیراعظم آپ کے پاس دگرنے میں آجائیں تو آپ ان کو کیا فائدہ دیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری ہے۔ کراچی میں 15 سے زیادہ مقامات بشمول ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن کے مقام پر، گلستانِ جوہر میں کامران چورنگی، نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی، ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی، قومی شاہراہ پر ملیر 15، شارعِ فیصل پر ناتھا خان برج، ملیر میں کالا بورڈ، گلشنِ اقبال میں یونیورسٹی روڈ سمیت مختلف مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چائنا چوک کے مقام پر بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے جبکہ لاہور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے دیا جا رہا ہے۔
ترجمان مجلس وحدت مسلمین علامہ مقصود علی ڈومکی کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں آزاد کشمیر سمت گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے لوگ مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا ہم ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کی منظوری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ورثا سے ملاقات میں وزیر اعظم کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ اس کا نقصان مستقبل میں انھیں کو اٹھانا پڑے گا۔
