کیا پاکستان اپنی تمام "جہادی اثاثے” ٹھکانے لگانے جا رہا ہے؟


لشکر طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوہ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کو دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے کے الزام پر لمبی سزائیں سنائے جانے کے بعد لشکر طیبہ کے چیف آپریشنل کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی کی گرفتاری کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے واقعی اپنے جہادی اثاثوں کو ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کے لیے پاکستان پر یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ تمام جہادی تنظیموں کو ختم کرے اور مطلوب جہادی رہنماؤں کو سزائیں دے۔
لہذا محکمہ انسدادِ دہشت گردی پنجاب کی جانب سے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے کمانڈر اور ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی گرفتاری کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے جو کہ 2014 میں ضمانت پر رہائی کے بعد پچھلے چھ برس سے آزادانہ زندگی گزار رہے تھے۔ لکھوی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں 2008 کے بمبئی حملوں کے بعد 2014 تک جیل میں قید کے دوران اولاد پیدا کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی اور وہ پہلے پاکستانی قیدی تھے جو کہ پابند سلاسل ہونے کے باوجود ایک بیٹے کے باپ بنے۔
لاہور سے پکڑے جانے والے ذکی لکھوی کی گرفتاری کے بعد یہ بحث بھی جاری ہے کہ اُنہیں کسی بیرونی دباؤ پر گرفتار کیا گیا یا یہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے سلسلے کی ہی کڑی ہے جس میں حالیہ عرصے میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق لکھوی پر الزام ہے کہ وہ لاہور میں قائم ایک ڈسپنسری سے رقوم اکھٹی کر کے اپنے ذاتی اخراجات کے علاوہ اسے دہشت گردی کے لیے بھی استعمال کرتے تھے۔ اُن کے خلاف کیس کی سماعت لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ہو گی۔ یاد رہے کہ ذکی الرحمان لکھوی کو بھارتی حکومت نے 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا اور اس حوالے سے ثبوت حکومت پاکستان کے حوالے کیے تھے۔ تاہم چھ سال کیس چلنے کے بعد 2014 میں لکھوی کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ اس دوران ممبئی حملہ کیس میں چیف پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کو بھی اسلام آباد میں دن دھاڑے قتل کر دیا گیا۔
اب ذکی الرحمٰن لکھوی کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا خواہاں ہے اور نہیں چاہتا کہ اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے۔ سینئر تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجودگی پاکستان کے لیے تشویش ناک ہے اور اس سے نکلنے کا انحصار ایسی کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی پر ہے جو اب بھی چندہ جمع کرنے میں سرگرم ہیں۔ زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو بھی گرفتار کیا گیا اور انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اُن کے بقول اس سے قبل یا تو حافظ سعید کو نظر بند کیا جاتا تھا یہ پھر کچھ عرصے کے لیے تحویل میں لے کر بعد میں رہا کر دیا جاتا تھا۔ لیکن اب نہ صرف کشمیر میں متحرک پاکستانی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو بلکہ انکے کارکنوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس مرتبہ اپنے جہادی اثاثوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے بھی پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف کارروائی کرے۔ بھارت ماضی میں لکھوی کے خلاف کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا رہا ہے۔
لیکن زاہد حسین کے مطابق پاکستان پر بھارت سے زیادہ بین الاقوامی برادری کا دباؤ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں پاکستان پر ہمیشہ یہی اعتراضات لگتے ہیں کہ ابھی تک یہاں ایسی کالعدم تنظیمیں فعال ہیں جو چندہ جمع کر رہی ہیں۔ خیال رہے کہ نومبر 2008 میں ممبئی حملہ کیس میں بھارت نے حافظ سعید اور ذکی الرحمٰن لکھوی پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس حملے میں 160 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد ذکی لکھوی کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔چھ سال بعد دسمبر 2014 میں ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت پر رہائی ہوئی تھی۔
اس دوران اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ذکی الرحمٰن لکھوی کا نام دسمبر 2008 میں لشکرِ طیبہ اور القاعدہ سے تعلق کی بنیاد پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ لکھوی لشکرِ طیبہ کے چیف آپریشنز کمانڈر رہنے کے علاوہ چیچنیا، بوسنیا، عراق اور افغانستان سمیت دیگر ممالک میں عسکریت پسند سرگرمیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے بعد ایسے تمام افراد کے اثاثے منجمد کر دیے جاتے ہیں اور ان پر سفری پابندی کے ساتھ ساتھ اسلحے کے حصول پر بھی پابندی عائد ہوتی ہے۔
حافظ سعید اور ذکی لکھوی کے خلاف ایکشن ایک ایسے وقت میں لیا جا رہا ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ آزادانہ طور پر گھومنے والے جہافی دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کرے۔ سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کا کہنا ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان کی نیت پر ہمیشہ شک کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ نہ ہوتا تو پھر اسے کسی دوسرے تناظر میں دیکھا جاتا۔آصف یاسین کا مزید کہنا تھا کہ دراصل اس قسم کے افراد کے خلاف عدالتوں میں لوگ گواہی دینے سے کتراتے ہیں جس وجہ سے پراسیکیوشن کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قطع نظر کہ عدالت میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں، حکومت نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اور اسے سراہنا چاہیے۔
سابق سیکرٹری دفاع نے واضح کیا کہ جب پاکستان، افغانستان اور بھارت پر زور دیتا ہے کہ ان کی سر زمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہ ہو تو اس کے لیے بھی ایسے اقدامات کرنا ناگزیر تھے جس سے دنیا کو پاکستان کی سنجیدگی پر کوئی شک نہ ہو۔
دوسری طرف زاہد حسین کے مطابق پاکستان پر دباؤ کی نوعیت بہت مختلف ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا بلیک لسٹ میں جانا کافی خطرناک ہو سکتا ہے اور گرے لسٹ میں بھی مستقل رہنے کے باعث عالمی پابندیوں کا خدشہ ہوتا ہے۔اُن کے بقول اب دیکھنا یہ ہے کہ ان ملزمان کے ٹرائل کے دوران کیا ہوتا ہے، بلاشبہ یہ حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حافظ سعید اور ذکی لکھوی مستقبل میں بھی جیل ہی میں رہتے ہیں یا ماضی کے طرح کچھ عرصہ اندر رہنے کے بعد باہر آ جاتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button