ٹرمپ نے امن معاہدہ پیش کیا تو اوسلو معاہدے سے دستبردار ہو جائینگے

فلسطینی حکام نےدھمکی دی ہےکہ اگرامریکا کے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ سے متعلق امن منصوبے کا اعلان کیا تو وہ اوسلومعاہدے کی کلیدی شقوں سے دستبردار ہوجائیں گے۔
واضح رہے کہ فلسطینی حکام نے اوسلو معاہدے کی جن کلیدی دفعات سےدستبرداری کی دھمکی دی ہےوہ اسرائیل کےساتھ تعلقات کی وضاحت کرتی ہیں۔ ذرائع کےمطابق سینئرفلسطینی رہنما اورفلسطینی انتظامیہ کےمذاکراتی امور کےسربراہ صائب اراکات نے کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے امن منصوبےکااعلان کیا توفلسطین لبریشن آرگنائزیشن اسلو معاہدے کی انتہائی اہم ڈیل کے’عبوری معاہدے سے دستبردار’ ہونے کا مکمل حق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ ٹرمپ کا اقدام فلسطینی سرزمین پراسرائیل کےعارضی قبضے کو مستقل قبضے میں بدل’ دے گا۔
اس سےقبل فلسطینی اتھارٹی (پی اے) نےامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےمشرق وسطیٰ کےلیےامن منصوبہ لانے کےاعلان پرخبردارکرتےہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اورامریکا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں، اس کوہمارےعوام قبول نہیں کریں گے۔ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کےاجلاس میں شرکت کےبعد واپسی پرصحافیوں سےبات کرتےہوئے ٹرمپ نےتسلیم کیا تھا کہ فلسطینی اس منصوبےپرابتدائی طورپرمنفی ردعمل دےسکتےہیں لیکن یہ حقیقت میں ان کےلیے مثبت ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نےدورہ واشگنٹن کی دعوت کو قبول کرتے ہوئےاورکہا تھا کہ ‘یہ ایک عظیم منصوبہ ہے، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو حقیقی معنوں میں کارآمد ہوگا’۔ یاد رہے کہ اسرائیل اورفلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھےجبکہ فلسطین نےٹرمپ کی جانب سےامن منصوبے کوپیش کیےجانےسےقبل ہی اسے مسترد کردیا تھا۔
ٹرمپ کے منصوبے کےحوالےسےفلسطینی قیادت کا موقف تھا کہ چونکہ امریکی صدر کی پالیسیاں اسرائیل نواز ہیں اس لیے ان کا معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا اوراس کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ سے سیاسی ملاقاتوں کا بھی بائیکاٹ کردیا تھا۔ فلسطین نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بیت المقدس (یروشلم) کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلےکو مسترد کردیا تھا جس کی عالمی سطح پردیگر ممالک نے بھی حمایت کی تھی۔
فلسطین اورعالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کوجنیوا کنونشن 1949 کےتحت غیرقانونی قراردیتا ہے جو جنگ کے دوران قبضےمیں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قراردیتا ہے۔ امریکی صدر نے 6 دسمبر2017 کومقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنےکا اعلان کرتےہوئےامریکی سفارت خانے کو تل ابیب سےبیت المقدس منتقل کرنےکی ہدایات جاری کردی تھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘کچھ امریکی صدور نےکہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن بیت المقدس کودارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button