ٹرمپ نے پاکستان کیلئے ملٹری ٹریننگ پروگرام بحالی کی توثیق کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) بحال کرنے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
امریکا کی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘مشترکہ ترجیحات پر عسکری سطح پر تعاون کو فروغ دینے اور امریکا کی قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے آئی ایم ای ٹی بحال کرنے کی توثیق کردی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر پاکستان کی فوجی امداد معطل رہے گی۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پروگرام میں شرکت کی منظوری ایک سال سے زائد عرصے تک معطلی کے بعد دی گئی ہے۔پروگرام میں پاکستان کی شرکت بحال کرنے کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے درمیان رواں سال ہونے والی ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی کو ظاہر کرتا ہے۔
To strengthen mil2mil cooperation on shared priorities & advance US national security, @POTUS authorized the resumption of International Military Education and Training #IMET for Pakistan. The overall security assistance suspension for Pakistan remains in effect. AGW
— State_SCA (@State_SCA) January 3, 2020
واشنگٹن، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے اس کے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد اور سہولت فراہم کرنے پر بھی پاکستان کا معترف ہے۔یہ امریکا کی جانب سے پاکستان کی تقریباً 2 ارب ڈالر کی فوجی امداد پروگرامز کا ایک چھوٹا حصہ ہے، یہ امداد جنوری 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک جاری کیے گئے حکم کے بعد معطل کردی گئی تھی۔
گزشتہ سال کے اوائل میں کالعدم جیش محمد گروپ کی طرف سے پلوامہ میں حملے میں بھارتی پیرا ملٹری کے 40 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد امریکی حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے حملے کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان نے ای میل پر پروگرام کی بحالی کے حوالے سے کہا تھا کہ ‘ٹرمپ کے 2018 کے سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کے فیصلے سے ان پروگرامز کو رعایت دی گئی ہے جو امریکا کے سکیورٹی مفاد میں ہیں، جبکہ پاکستان کی آئی ایم ای ٹی میں شرکت کی بحالی کا فیصلہ بھی یہی ایک رعایت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام سے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ ترجیحات کے تحت دوطرفہ تعاون بڑھانے کا موقع ملتا ہے، جبکہ ہم علاقائی سیکیورٹی اور استحکام بڑھانے کے لیے اس طرح کے ٹھوس اقدامات جاری رکھیں گے۔
