پارلیمنٹ کے بغیر طالبان سے NRO کے لیے مذاکرات کیوں؟

https://youtu.be/7vTcPqUDpxk
پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی بجائے صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے حکومت چلانے والے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان سے خفیہ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ جب انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر بنایا تھا تو اس کے برخلاف جانے کے فیصلے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان سے خفیہ مذاکرات اور عام معافی کی تجویز اس وقت شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ وزیر اعظم عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر کرنے کے مجاز نہیں تھے خصوصا جب اسی پارلیمنٹ نے طالبان کے خلاف نیشنل ایکشن ایکشن پلان تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ اپوزیشن قائدین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ این آر او نہ دینے کے دعویدار عمران خان نے پارلیمنٹ سے بالا بالا ہی 80000 معصوم پاکستانیوں کی قاتل تنظیم کے ساتھ نہ صرف مذاکرات شروع کر دیئے بلکہ انھیں عام معافی کی پیشکش بھی کردی جو کہ وطن سے غداری کے مترادف ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکاری ہیں لیکن معصوم شہریوں کے قاتلوں کے ساتھ مل بیٹھنے پر راضی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ٹی ٹی پی کو معافی دینے کی بات کرنے سے پہلے کیا عمران نے ممبران پارلیمنٹ سے پوچھا کہ اس بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں؟ شیری رحمٰن نے کہا کہ آپ ان لوگوں کو کیسے معافی دے سکتے ہیں جنہوں نے آرمی پبلک اسکول کے سینکڑوں بچوں کو شہید کیا، آپ ان لوگوں کو کیسے معافی دے سکتے ہیں جو سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمے دار ہیں، ایسے فیصلے کرنے پر دنیا آپ پر ہنس رہی ہے۔

دوسری جانب عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کس منہ سے طالبان کو این آر او دینے کی بات کر رہا ہے جبکہ ہزاروں پاکستانی فوجی جوانوں نے نے ان ظالموں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان کے ہاتھوں فوجی آپریشن کے دوران جام شہادت نوش کرنے والوں کے خون کا سودا کرنے کا حق عمران خان کو کس نے دیا ہے۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ یاری ڈالنے کا منصوبہ ملک اور قوم سے غداری ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

سینئر صحافی سلیم صافی نے بھی عمران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے حکمران کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جب دنیا پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے، وزیر اعظم کی طرف سے طالبان کے لئے عام معافی کا اعلان پوری دنیا میں پاکستان کو تنہا کر کے رکھ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاش وزیراعظم بنوانے سے پہلے عمران خان کو اقتدار میں لانے والے انکو سفارتی امور پر بات کرنے کی تربیت ہی دے دیتے، یا کاش شاہ محمود قریشی میں اتنی ہمت ہوتی کہ عمران کے سامنے کہہ سکتا کہ خارجہ معاملات پر اس انداز میں بولنے سے ان کا نہیں بلکہ پاکستں کا نقصان ہوتا ہے۔

اسی معاملے پر سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے سوال کیا کہ ایک کالعدم تنظیم کی رام کرنے کی خاطر ہم اتنا کیوں جھک رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی نے تو عام معافی کی پیشکش پہلے ہی مسترد کردی تھی اور ہمارے منہ پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ معافی ہم نے نہیں مانگنی بلکہ ریاست پاکستان نے مانگنی ہے، لیکن اس کے باوجود ہم جھکے جا رہے ہیں، آخر کیوں اور کس لیے، کیا ہم مزید 80 ہزار افراد شہید کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پیشکش سے ریاست پاکستان کی رٹ ختم ہو جائے گی۔

سینئر صحافی اسد علی طور نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے تو کہا تھا کہ انہوں نے اپنے دفتر میں آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر وہ صبح کام کا آغاز کرتے ہیں۔ لہذا میں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے انکشاف کے بعد کیا آرمی چیف کے دفتر میں اے پی ایس کے شہید طالب علموں کی تصاویر اب بھی موجود ہیں یا نہیں؟

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے طالبان کو معافی دینے کی پیشکش کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی پالیسیاں ایک مخصوص پس منظر میں بنتی ہیں۔ ٹی ٹی پی کے مختلف گروپس ہیں۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو پاکستان کے ساتھ اپنی وفا کا عہد نبھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ریاست کو موقع دینا چاہیے کہ وہ زندگی کے دھارے میں واپس آ سکیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیان داغنے سے پہلے وفاقی وزیر کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جن کے پیارے طالبان کے ہاتھوں دنیا سے چلے گئے وہ تو کبھی واپس نہیں لائے جا سکتے۔

Back to top button