کیا عمران خان کا نام بھی پنڈورا پیپرز میں آنے والا ہے؟


اسلام آباد کے حکومتی حلقوں میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ پنڈورا پیپرز لیکس میں کئی معروف پاکستانی سیاستدانوں کے مالی سکینڈلز بھی سامنے آنے والے ہیں جن میں وزیراعظم عمران خان بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ جب پچھلی مرتبہ پاناما پیپرز لیکس سامنے آئی تھیں تو نواز شریف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پنڈورا پیپرز لیکس کے متوقع اعلان نے جہاں عوام میں ایک تجسس پیدا کیا ہے وہیں حکومتی حلقوں میں تشویش کی لہر بھی دوڑ گئی ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ ایک اور وزیراعظم اقتدار سے محروم ہو سکتا ہے۔

پنڈورا پیپرز کے حوالے سے سب سے پہلے ابصار عالم نے ٹوئیٹ کی کہ پاناما سے بھی بڑا ایک سکینڈل سامنے آنے والا ہے۔ اس ٹوئیٹ کے کچھ ہی دیر بعد یہ خبر چل رہی تھی کہ جیو نیوز سے منسلک دو سینئر صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی ایک عالمی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ تھے جس نے پانامہ لیکس کی طرز پر آف شور کمپنیوں سے متعلق نئے حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے اور یہ پنڈورا لیکس نامی یہ حقائق اتوار کی شام کو میڈیا پر جاری کر دیئے جائیں گے۔

تاہم اس حوالے سے کچھ نام جو پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں، ان میں سے ایک وزیراعظم عمران خان کا ہے جن کے بارے میں ماضی میں بھی آف شور کمپنیاں رکھنے کا انکشاف ہو چکا ہے لیکن تب ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھا ، اس لئے ان کی آف شور کمپنی سے ملکی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

لیکن کہا جا رہا ہے کہ پنڈورا پیپرز میں جس پاکستانی آف شور کمپنی کا انکشاف ہونے والا ہے اس کے مالک کا رہائشی پتہ لاہور کے علاقے 2 زمان پارک کا ہے جوکہ عمران خان کی ملکیت ہے۔ تم چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق ہفتے کی رات ہی ان افواہوں کے بعد اسٹیبلشمنٹ نواز اور کپتان دوست ٹی وی چینل اے آر وائے نے یہ خبر چلا دی کہ لاہور کے علاقے زمان پارک میں واقع عمران خان کے 2 زمان پارک کے ایڈریس پر 3 گھر موجود ہیں جن میں سے ایک تو ان کا ہے اور ایک کسی اور کا۔ اس معاملے پر سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چور نے ریلہ آنے سے پہلے ہی دھوتی اتار کر کندھے پر رکھ لی ہے۔

اے آر وائے نیوز کے رپورٹر نے زمان پارک سے تعلق رکھنے والے کسی فریدالدین نامی شخص کا پتہ بھی لگا لیا جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک آف شور کمپنی کے مالک ہیں اور عمران خان کا اس کمپنی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ فرید الدین نے اے آر وائے نیوز کو بتایا کہ 2008 میں انہوں نے لاک گیٹ نامی کمپنی بنائی تھی جس کے بعد انہوں نے ایک دوست کے نام پر ہاک فیلڈ لیمیٹڈ نامی کمپنی بھی بنائی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کا زمان پارک کے مشہور برکی خاندان سے تعلق ہے اور ان کی عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں بھی رہی ہیں لیکن 2018 میں ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے ان کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ فرید نے بتایا کہ عمران کا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ زمان پارک میں تین گھر ایسے ہیں جن کا پتہ ایک ہی ہے۔

تاہم اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پنڈورہ پیپرز سکینڈل سامنے آنے سے پہلے ہی خود پر لگنے والے الزامات کے خلاف پیش بندی کرنے کی کوشش کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انھیں خود پر الزامات کا تب پتہ چلا جب پنڈورا پیپرز سے وابستہ تحقیقاتی صحافیوں نے ان کی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے موقف جاننے کی کوشش کی۔

سینئر صحافی ابصار عالم نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ “چور کی داڑھی میں تنکا” محاورہ تب بولا جاتا ہے جب چور کو شک ہو کہ اس پر شک کیا جا رہا ہے، مجھے یہ مُحاورہ تب یاد آیا جب ایک TV چینل پر عمران خان کی اس خبر پر صفائی پیش کی گئی جو ابھی آئی ہی نہیں یعنی زمان پارک والی آف شور کمپنیاں خان کی نہیں جنہیں اس بارے میں نہیں پتہ تھا اُنہیں بھی پتہ چل گیا کہ ساری کی ساری دال کالی ہے۔

ماضی میں کپتان کے قصیدے پڑھنے والے اینکر مبشر لقمان نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ پنڈورا لیکس میں 2 زمان پارک کے جس پلاٹ کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ ایک آف شور کمپنی کے نام پر ہے جس کی ملکیت فریدالدین برکی نامی شخص لی ہے جو کہ عمران خان کے دور کے کزن بھی ہیں۔ مبشر نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ ان کا جو پتہ لکھا ہوا ہے وہ 2 زمان پارک کا ہے جبکہ 2 زمان پارک عمران خان کے گھر کا بھی پتہ ہے۔ اب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ایک گھر کا داخلی دروازہ ایک سڑک سے جبکہ دوسرے گھر کا راستہ دوسری سڑک سے لگتا ہے۔ اس طرح دونوں لوگ ایک ہی گھر اور ایک ہی پلاٹ میں رہتے ہیں۔” مبشر لقمان کا کہنا تھا عمران خان اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں یہ آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا لیکن ایک بہت بڑا سکینڈل آ رہا ہے اور پی ٹی آئی کے لئے یہ بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوگا۔

دوسری جانب عمران خان کے خاندانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ فریدالدین برکی کی آف شور کمپنی سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں اور یہ دعویٰ کرنے والوں کو یقینا سبکی کا سامنا ہوگا کیونکہ عدالت میں یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عدالت میں یہ ثابت کرنا بھی بہت مشکل ہوگا کہ پاکستان میں ایک ایڈریس ایسا بھی ہے جس پر دو تین گھر علیحدہ علیحدہ بنے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک وزیراعظم کا ہے۔

چنانچہ یہ کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک بڑے سکینڈل کا نشانہ بننے جا رہے ہیں جس کے سچا ثابت ہونے کی صورت میں انہیں بھی نواز شریف کی طرح اقتدار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پنڈورا پیپرز 1کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مبنی ہیں جنکی تحقیقات میں 600 سے زیادہ صحافیوں اور 150 سے زیادہ میڈیا اداروں نے حصہ لیا۔پنڈورا پیپرز نامی پروجیکٹ کی تحقیقات اتوار کی شام کو پبلک کر دی جائے گی جن میں 117 ممالک کی اہم شخصیات کی مالی تفصیلات شامل ہیں۔

Back to top button