پاک بھارت مذاکرات پر فوج اور حکومت کا موقف مختلف کیوں؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ ایک حالیہ ملاقات میں پاک بھارت بیک دوڑ ڈپلومیسی کی تصدیق کے باوجود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نہ جانے کیوں کوے کو سفید قرار دیتے ہوئے پاک بھارت ’خفیہ‘ مزاکرات کی تردید کر دی ہے۔ انکا اصرار ہے کہ کہ نہ تو پاکستانی اور بھارتی شخصیات کی ملاقاتیں جاری ہیں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کا اس سلسلے میں کسی قسم کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں شاہ محمود قریشی کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین لائن آف کنٹرول پر حالیہ سیزفائر کے پیچھے بھی بیک چینل ڈپلومیسی ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی ملاقاتوں میں پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرنے کے ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل بھی نکل آئے۔
اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کے واشنگٹن میں تعینات سفیر نے بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والے مذاکرات کی سرکاری سطح پر تصدیق کی تھی اور تسلیم کیا تھا کہ اس سلسلے میں یو اے ای اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ نے بھی دعوی کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بیک چینل ڈپلومیسی میں سعودی عرب اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم حیران کن طور پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی اور۔پاکستانی حکام کی ’خفیہ ملاقاتوں‘ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ نہ تو کسی قسم کی ملاقاتیں جاری ہیں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کا ان میں کوئی کردار ہے۔ شاہ محمود قریشی نے یہ بات ترکی میں مقامی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔ دوسری جانب موقر انگریزی اخبار ڈان نے آرمی چیف کی صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے بعد ‘سرکاری ذرائع’ کے حوالے سے پاکستان اور بھارتی شخصیات کے مابین خفیہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی پیشکش بھارت کی جانب سے آئی تھی، اور کشمیر کو ترجیح رکھتے ہوئے مشترکہ نکات پر باضابطہ بات چیت کے لیے ماحول ساز گار کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں دیر پا امن و استحکام رہ سکے۔‘
اب سوال یہ ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات نے پاک بھارت مذاکرات میں کوئی کردار ادا کیا بھی ہے تو وزیر خارجہ شاہ محمود نے اسکی تردید کیوں کی جبکہ پاکستان کے سرکاری ذرائع نے تیسرے ملک میں خفیہ ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے؟ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سفارتی اہلکار نے بتایا کہ یہ دفتر خارجہ کا پالیسی بیان ہے جس پر وزیر خارجہ نے عمل کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: ’ڈپلومیسی میں بہت سی باتوں کی فوراً تصدیق نہیں کی جاتی بلکہ جاری عمل کا جائزہ لینے کے لیے وقت حاصل کیا جاتا ہے۔ سارے پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد باضابطہ دفتر خارجہ سے تصدیق کی جاتی ہے۔‘ اس حوالے سے ایک سینئر صحافی نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 30 صحافیوں سے ایک حالیہ ملاقات کے دوران آف دی ریکارڈ اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین خفیہ ڈپلومیسی جاری ہے جس کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور استحکام لانا ہے۔
ارمی چیف نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ممالک کی انٹیلی جنس قیادت یعنی پاکستانی آئی ایس آئی چیف اور بھارتی را چیف کے مابین رابطے اور۔ملاقاتیں جاری ہیں۔ تاہم جب ان سے ان مذاکرات میں متحدہ عرب امارات کے کردار کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یو اے ای میں ملاقاتیں ہوئی ہیں، کیونکہ یہ نہ تو بھارتی سرزمین پر ہو سکتی تھیں اور نہ ہی پاکستانی سرزمین پر۔‘
بھارت میں تعینات سابق سفارت کار عبدالباسط جو پاکستانی اور بھارتی معاملات کے ماہر ہیں، نے اس معاملے پر بتایا کہ ’وزیر خارجہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کیونکہ ثالثی اور سہولت کاری میں فرق ہوتا ہے۔‘ان کا کہنا تھا: ’یو اے ای نے بات چیت کے لیے مقام مہیا کر کے سہولت کاری ضرور کی ہے لیکن اس کو ثالثی نہیں کہا جا سکتا، ثالثی تب ہوتی ہے جب تیسرا فریق دونوں فریقین کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرائے۔‘
