کپتان کا مغرب کو جاننے کا بھاشن کب ختم ہوگا؟

’میرے پاکستانیوں۔۔۔۔ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔۔۔ میں نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنا دینا ہے۔۔۔ نواز شریف چور تھا۔۔۔ شہباز شریف کرپٹ تھا۔۔۔ زرداری ڈاکو ہے۔۔۔ این آر او نہیں دوں گا۔۔۔ اپوزیشن مجھ پر دباؤ ڈال رہی یے۔‘
یقیناً جب بھی یہ چند فقرے آپ کے کانوں سے ٹکراتے ہیں تو آپ کو علم ہو جاتا ہے کہ ٹی وی یا ریڈیو پر فوج کے سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر، خطاب یا بیان کا کوئی حصہ چل رہا ہے۔ عمران کے ساتھی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ کھلاڑی ہونے کے باعث فن خطابت کی باریکیوں سے بخوبی واقف نہیں، اس لیے وہ عموما بغیر تیاری کے تقریر کرتے ہیں جو کہ ان کی پچھلی تقریروں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتی اور اسی لیے اس میں کوئی نئی بات بھی نہیں ہوتی۔ لیکن وہ جب بھی کوئی نئی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی بونگی ضرور مار دیتے ہیں جو اگلے کی روز سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتی ہے۔ چاہے کپتان کی ماضی میں اقتدار میں آنے سے پہلے ’نیا پاکستان‘ بنانے کے دعوے ہوں یا وزیراعظم لگائے جانے کے بعد پاکستان سنوارنے کے، عمران خان کی تقاریر ہمیشہ موضوع بحث رہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو خود ان کی کنفیوذڈ شخصیت، تو دوسرا ان کے حامیوں کا اس بات پر اترانا کہ وہ پہلے وزرا اعظموں کی طرح ملکی و بین الاقوامی سطح پر خطابات اور تقاریر کے دوران نوٹس یعنی ’پرچی‘ کا استعمال نہیں کرتے۔
اگر وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر کا جائزہ لیا جائے تو کئی ایسے الفاظ اور فقرے ہیں جو اب ان کی تقریر کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک فقرہ ’ویسٹ یعنی مغرب کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا‘ ہے جس کا استعمال آج کل وہ اپنی بیشتر تقاریر میں اکثر کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں ملتان میں ان کی ایک تقریر کے دوران سامنے آئی جب انھوں نے پھر کہا کہ میرے پاکستانیو! میں، مغرب کو سب سے بہتر جانتا ہوں، کوئی مغرب کو اس طرح اندر سے نہیں سمجھتا جتنا میں سمجھتا ہوں۔ میری زندگی کے 20 سال وہاں پیشہ ورانہ کرکٹر کی حیثیت سے گزرے ہیں۔ میں وہاں یونیورسٹی گیا۔ میں ان کی سوچ کو جانتا ہوں۔‘
وزیر اعظم عمران خان دراصل عوام سے یہ کہنا چاہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کی توہین کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے مغربی ممالک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وزیر اعظم عمران خان مغربی ممالک میں گزارے ہوئے اپنے وقت کے تجربات کی روشنی میں عوام کو ان ممالک کے طرز عمل کے بارے میں بتانے کی کوشش کر رہے تھے تاہم اس مسئلے کے بجائے سوشل میڈیا پر یہ بات زیر بحث ہے کہ آخر عمران خان مغرب میں اپنی زندگی کا اتنا حوالہ کیوں دیتے ہیں اور آیا مغربی ممالک کا کلچر ایک ’آبسیشن‘ بن کر ان کے ’ذہن پر غالب آگیا ہے؟‘ وزیر اعظم کے مغربی ممالک اور ثقافت کو جاننے کے بیان کے بعد ملک کے سوشل میڈیا صارفین نے اس پر مختلف تبصروں اور میمز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
فریحہ اعوان نامی ایک ٹوئٹر صارف نے عمران خان کی تقاریر کو ایک میم کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں انھوں نے ایک بنگو کارڈ پر عمران خان کے وہ تمام مقبول الفاظ لکھے ہیں جو وہ اکثر اپنی تقاریر میں بولتے ہیں، جیسے ’میرے پاس سب کچھ تھا۔‘ جبکہ ماہین عثمانی نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی تقاریر میں مغرب کا حوالے دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر وزیر اعظم کے ہر مرتبہ میں مغرب کو بہتر جانتا ہوں کہنے پر مجھے ایک ڈالر ملتا تو میں ایک امیر خاتون ہوتی۔‘ ماہم نامی صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا ہے کہ ’کاش مجھے اپنا یونیورسٹی کا سیلیبس اتنا ہی یاد ہوتا جتنا عمران خان کو مغرب یاد ہے۔‘ ایک اور سارے مہوش نے لکھا کہ کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہے جو عمران خان کی ہر مرتبہ مغرب پر آکر سوئی پھنس جاتی ہے۔ کیا اس کی وجہ جمائمہ تو نہیں۔
لیکن مریم صبیح وزیر اعظم پاکستان سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’پاکستان سے تعلق رکھنے والے کئی امریکیوں کی طرح میں مغرب میں پیدا ہوئی۔ مجھے لگتا ہے میں مغرب کو عمران خان سے زیادہ جانتی ہوں۔‘ ایک اور صارف نے لکھا ’عمران خان جتنا مغرب کو سٹاک کرتے ہیں، مغرب نے تنگ آ کر ان کے خلاف عدالت سے حکمِ امتناعی جاری کروا لینا ہے کہ میرا پیچھا چھوڑ دیں۔‘ اور عائشہ نامی صارف چاہتی ہیں کہ ’کاش کوئی مجھے ویسے ہی سمجھے جیسے عمران خان مغرب کو سمجھتے ہیں۔‘ ذوالقرنین ساہی نے اس صورتحال کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
پرانا ڈائیلاگ: ’لگتا ہی نہیں ہم اب ملے ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے ہم جنم جنم سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں‘
نیا ڈائیلاگ: ’ایسے لگتا ہے جیسے تم عمران خان ہو اور میں مغرب‘
