پنجاب میں نئی انتظامی ٹیم بھی ناکام، مسئلہ کپتان کا ہے

پنجاب میں گورننس کی ناکامی کا تاثر ختم کرنے کے لئے صوبے کی ٹاپ بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کے ایک ہفتہ بعد ہی لاہور میں ہسپتال سانحہ نے ایک مرتبہ پھرثابت کردیا ہے کہ جب کپتان نااہل ہو تو ٹیم بھی ناکام ہوجاتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے پنجاب میں گورننس کی ناکامی کے بعد بیوروکریٹس کی نئی ٹیم تعینات کی تھی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت چیف سیکرٹری کے عہدے پر تعینات چیف سیکرٹری میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان خان کو صوبائی انتظامیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا لیکن معاملات میں بہتری کیا آنی تھی یہاں تو مکمل طور پر بربادی پھر گئی اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ٹکر کا سانحہ پی آئی سی رونماہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
حکام نے بتایا کہ وسط ایشیائی ملک قازقستان میں ٹیک آف کے فورا بعد طیارہ حادثے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ جب نور سلطان نذر بائی نے ٹیک آف کیا اور کنکریٹ کی باڑ سے ٹکرا گیا ، جس سے کم از کم 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے ، طیارہ طلوع آفتاب اور دھند سے پہلے لینڈ کر گیا۔ حادثہ اس وقت اس علاقے میں ہوا تھا
