پی ایس ایل کو پلے آف سے ہی شروع ہونا چاہیے

لاہور قلندرز کے ڈائریکٹر اور ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بقیہ میچز پلے آف سے شروع ہونے چاہئیں۔
عاقب جاوید نے قلندر کے سکندر ورچیوئل ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا اعلان کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت انڈر23 بیٹس مین، بولرز، اسپنرز اور وکٹ کیپرز اپنی ویڈیوز بھیجیں گے جنہیں کوچز شارٹ لسٹ کریں گے، شائقین کرکٹ کی بھی اس سلسلے میں رائے لی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 64 نوجوان کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا اور پھر مرحلہ وار 4 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا جنہیں لاہور قلندرز ہائی پرفارمنس سینٹر میں ایک سال تربیت دی جائے گی اور انہیں آسٹریلیا کے دورے، ٹی ٹین لیگ اور پی ایس ایل فائیو بھی کھیلنے کا بھی موقع ملے گا۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے میچز سے متعلق بھی رائے دی جو کورونا وائرس کے باعث ملتوی کردیے گئے تھے۔ عاقب جاوید نے کہا کہ پی ایس ایل کوئی ورلڈکپ نہیں ہے جو 4 برس ہوتی ہو، اس میں لوگ ہار جیت کے ساتھ منسلک ہیں وہ فاتح کو دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے میری ذاتی رائے میں ستمبر اکتوبر نومبر کے درمیان ضرور کوئی ایسی ونڈو نکل رہی ہے جب پی ایس ایل کے میچز ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ سیمی فائنل اور فائنل نہیں ہونے چاہئیں بلکہ میچز پلے آف سے ہی شروع ہونے چاہیئں۔
علاوہ ازیں عاقب جاوید نے بتایا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم ہونے سے 2 ہزار سے زائد فیملیز متاثر ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ لاہور قلندرز کے پلیٹ سے مستحق کرکٹرز کی مدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی فہرست تیار کی گئی ہے جس میں پاکستان بھر سے لوگ بھی شامل، ہیں بس راشن دیتے ہوئے تصاویر جاری کرنا اچھا نہیں لگتا۔
واضح رہے کہ پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ اسی برس مناسب ونڈو کے دوران پی ایس ایل کو مکمل کیا جائے گا جب کہ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ بات کی جانے لگی کہ کیونکہ ملتان سلطانز کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ پر تھی اس لیے اسے پی ایس ایل فائیو کا فاتح قرار دے دینا چاہیئے۔ اس بحث کے باوجود بھی پی سی بی پر امید ہے کہ ملتوی پی ایس ایل کے میچز مکمل کیے جائیں گے۔
