مینار پاکستان لاہور پرپی ڈی ایم کا بھرپورپاور شو

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا لاہور میں جلسہ جاری ہے۔ اس جلسے کا مقصد عمران خان کی حکومت پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔
پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار حسین اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی بڑی تعداد جلسے میں شریک ہوئے.
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لاہور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے ’چند جرنیلوں‘ اور عمران خان کی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔انھوں نے اس دور کا اپنے دور حکومت کے ساتھ موازنہ بھی کیا۔انھوں نے کہا جنرل عاصم سلیم باجوہ کے امریکہ میں اربوں کے اثاثے کہاں سے آئے، کون پوچھے گا۔ انھوں نے کہا بنی گالا کا محل کیسے تعمیر ہوا۔ انھوں نے پوچھا کہ علیمہ خان کے پاس اثاثے کہاں سے آئے اور فارن فنڈنگ کا کون حساب دے گا۔نواز شریف نے کہا عمران خان کہتا ہے کہ این آر او نہیں دونگا۔ ’تم اور علیمہ خان تو خود ثاقب نثار کے این آر او پر چل رہے ہو۔‘سابق وزیر اعظم نواز نے کہا کہ اس سارے معاملے کا کیا صرف عمران خان ذمہ دار ہے؟ملک کو برباد کر دیا، 22 کروڑ عوام کو برباد کر دیا، معیشت کو تباہ کر دیا اور کہا جاتا ہے کہ نام نہ لیں۔آئین کو آپ توڑیں تو کیا میں واپڈا کا نام لوں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگ کے وزیر اعظم کو گرفتار کریں تو کیا نام محکمہ زراعت کا لوں۔جسٹس صدیقی سے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف فیصلوں کے لیے دباؤ ڈالو تو میں کیا اس کی شکایت جنگلات کو لگاؤں۔ انتخابات چرائے گئے اور آر ٹی ایس بٹھا دیا گیا تو کیا میں اس کی شکایت محکمہ صحت کو لگاؤں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ چند شر پسند جرنیل یہ سب کر رہے ہیں۔ انھیں اگر یہ بات پسند نہیں ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔نواز شریف کا بیانیہ وہی ہے جو آئینکا بیانیہ ہے جو فوج کے حلف کا بیانیہ ہے، وہی جو قائد اعظم کا بیانیہ ہے، یہی میرا بیانیہ ہے۔آئین کی تابعداری کرو، اپنے حلف کی پاسداری کرو، سیاست سے دور رہو، اپنے ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے مت استعمال کرو، انجنئیرنگ کی فیکٹریاں بند کرو، انتخابات چوری مت کرو، ووٹ کو عزت دو، فوج کو متنازعہ مت کرو۔جب آپ آئین توڑتے ہیں، جب حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جب دس دس سال حکومت کرتے ہیں۔ جب آپ سیاستدانوں کو جیل میں ڈالنے کے لیے مصروف ہو جاتے ہیں۔ وار گیم کھیلنے کے بجائے پولیٹیکل گیم کھیلنے لگ جاتے ہیں تو پھر بجا طور پر عوام کو شکایت ہو گی، پھر سوالات ہوں گے، سوالات پوچھے جائیں گے، اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ نام کیوں لیتے ہو۔جب ایک جرنیل ایک جج کے گھر جاتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو نہیں چھوڑنا، اور جب یہ بات منظر عام پر آتی ہے تو اس جرنیل کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کو تو الٹا ترقی دے دی جاتی ہے۔جنھوں نے جذبات میں آ کر آئی جی سندھ کو اغوا کیا۔کیا وہ مریم نواز کا دروازہ توڑ کر اندر داخل نہیں ہوئے۔ کیا ایسے واقعے سے فوج کا وقار اور مرتبہ بلند ہوا۔ میں نام اس وجہ سے لیتا ہوں تا کہ اس کا الزام میری پاک فوج پر نہ لگے، ان مجاہدوں اور پیارے جانبازوں پر نہ لگے جو اس گیم سے دور اپنے وطن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
انھیں کیا خبر کے دفاع پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے چند جرنیل سیاستدانوں اور ججوں پر توانائیاں خرچ کرنے میں لگے ہیں۔ یہی ہیں وہ ڈکٹیٹر اور سیاسی کھیل کھیلنے والے جو باقی فوج کی وردی کو بھی داغدار کرتے ہیں یہ ہیں وہ چند جرنیل۔انھوں نے کہا آج ہمارے بیانے ووٹ کو عزت دو کو تقویت حاصل ہو گئی ہے۔ اب واضح ہو گیا ہے کہ اب اس جعلی سیٹ اپ کا قائم رہنا ملک کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اب یہ کھیل ختم ہو جانا چائیے۔ یہ جعلی سیٹ اپ جاری رہا تو اتنا نقصان ہو گا کہ جس کی تلافی کسی کے بس میں نہیں رہے گی۔ اب ہماری جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ آپ اس مرحلے کے لیے گھروں سے نکل پڑیں۔ پھر نہ کہنا کہ ہمیں پتا نہیں چلا اور پھر نہ کہنا ہے کہ ہمیں خبر نہیں ہوئی۔انھوں نے نوجوانوں سے اس حوالے سے کردار ادا کرنے کے بارے میں کہا ہے۔نواز شریف نے کہا اس نظام کو بدلے بغیر اب کوئی چارہ نہیں، یہ ملک مزید غیر جمہوری مداخلت کی تاب نہیں لا سکتا۔ اور جو دخل اندازی کرتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ ملک اس کامتحمل نہیں ہو سکتا ہے، یہ ملک اب jam ہو گیا ہے۔ یہ ہائی جیک جمہوریت نہیں چل سکتی۔آج ہمیں ایسا ملک چائیے جس میں ریاست کے اوپر ریاست نہ ہو۔کیا ہم انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد چند جرنیلوں کے غلام بن جائیں۔ کیا اس قسم کی غلامی آپ کو قبول ہے؟ایک آزادی 1947 میں ہم نے حاصل کی تھی اور ایک آزادی آج حاصل کرنے کا دن آ چکا ہے۔ اب یہ ڈرامہ اپنے منطقی انجام پہنچنا چائیے۔
نواز شریف نے کہا ہمارے ارکان اسمبلی نے خود اپنے استعفے ہمیں دینا شروع کر دیے ہیں اور منفی ہتکھنڈوں کے بھرمار کے باوجود چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور کوئی کمزوری نہیں دکھا رہے ہیں۔انھوں نے کہا ان استعفوں سے متعلق جب بھی پی ڈی ایم اور مولانا فضل الرحمان ہدایت دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔
پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ناجائز حکومت کے لیے سٹیبلشمنٹ نے جو دھاندلی کی گئی تھی، اب اس کے زخم اب گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اب کہیں وہ دن نہ دیکھنے پڑیں کہ جہاں سٹیبلشمنٹ بمقابلہ پاکستان کے عوام نہ ہوں۔انھوں نے کہا میں آج اپنی دفاعی قوت اور سٹیبلشمنٹ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ عوام کو راستہ دیں، عوام کو اسلام آباد پہنچنے دیں۔ حکومت عوام کی ہو گی، دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا۔انھوں نے کہا کہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے تو پھر قومی یکجہتی برقرار نہیں رکھیں جا سکتی۔ ہمیں انارکی کی طرف جانے سے قبل حالات کو سنبھال لینا چائیے۔مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم عمران خان کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا ’آج ہندوستان نے کشمیر ہڑپ کر لیا ہے اور کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے۔‘انھوں نے کہا اب قوم نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
ان کے مطابق آج ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا پریشان ہے۔ اگر ہم نے ہر شعبے اور طبقے سے تعلق رکھنے والے کو مطمئن کرنا ہے تو پھر آئیں انقلاب بھرپا کریں۔انھوں نے کہا ہم نے سربراہی اجلاس میں کچھ فیصلے کیے ہیں۔ پارلیمنٹ کی خود مختاری ہو گی، پارلیمنٹ کو یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ سیاست سے سٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے کردار کا خاتمہ کیا جائے گا اور ایک آزاد عدلہ کی تصور دیا جائے گا۔آزادانہ انتخاب کا انعقاد کرایا جائے گا۔ صوبوں کے حقوق اور اٹھارویں ترمیم کا تحفظ کیا جائے گا۔ناجائز حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔جنوری کے آخر میں یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی طرف پوری قوم مارچ کرے گی اور پارلیمنٹ کے استعفے ہم اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، ہم ایسی پارلیمنٹ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس پارلیمنٹ کے ذریعے سے ناجائز حکومت کو چلنے دیں گے، اس کا خاتمہ کر کے دم لیں گے اور ووٹ کا مقدس امانت عوام کو واپس دلا کر دم لیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا اس شہر میں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ انھوں نے کہا فوجی آمر ضیاالحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز لاوہر سے کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ لاہور کے جیالوں نے کوڑے کھائے مگر آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ان کے مطابق لاہور جہانگیر بدر کو جانتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لاہور کے شہید عثمان غنی، شہید ادریس بیگ نے جمہوریت کے لیے زندگیاں قربان کر دیں۔بلاول بھٹو کے مطابق آج ملک ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ نااہل اور جاہل حکمرانوں کے پاس عقل ہے اور نہ تاریخ کا علم ہے۔ انھوں نے کہا ہم کبھی کسی آمر اور غاصب سے نہیں ڈرے ہیں اور ہم کشتیاں جلا کر اترے ہیں۔ جب عوام اس مضبوطی کے ساتھ کسی تحریک کا ساتھ دیتی ہے تو پھر ظلم کی زنجیریں کٹ جاتی ہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کٹھ پتلی حکمران یہ سیلیکٹڈ حکمران گھر جانے والا ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، تاریخی غربت اور تاریخی بے روزگاری ہے۔ ان حکمرانوں کو درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ آپ کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ یہ کسی اور رستے سے آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پنچاب کے ساتھ کیا مذاق کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ اس کٹھ پتلی نے یہاں اپنا ایک کٹھ پتلی بٹھایا ہوا ہے۔’ہم نہ اِس کٹھ پتلی کو مانتے ہیں اور نہ اُس کٹھ پتلی کو مانتے ہیں۔‘پاکستان کے محنت کش اور مزدور بے سہارا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ان کے مطابق ان حکمرانوں کو سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ حزب اختلاف شہباز شریف جیل میں ہیں، سابق حزب اختلاف خورشید شاہ جیل میں ہیں۔
بلاول بھٹو نے دونوں رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے سے متعلق نعرے بھی لگوائے۔بلاول بھٹو کے مطابق کسان اب یہاں کس طرح اپنا حق مانگیں انھیں شہید کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پسے ہوئی طبقے کی جماعت ہے اور رہے گی۔بلاول بھٹو نے کہا ’ہم کٹھ پتلی کو للکار رہے ہیں، ہم اس کے سہولت کاروں کو للکا رہے ہیں۔ تا کہ ہم عوام کو ان کا حق اقتدار دلا سکیں۔‘اب کوئی اور رستہ نہیں، ڈائیلاگ شائیلاگ کا وقت گزر چکا اب لانگ مارچ ہو گا، اسلام آباد ہم آ رہے ہیں۔ بلاول بھٹوں نے کہا اب فون کرنا چھوڑ دو، اب ہم اسلام آباد پہنچ کر نالائق اور جعلی حکمران کا استعفی چھینیں گے۔آپ کو عوام کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔
مریم نواز نے اپنی تقریر کا آغاز لہوریو، زندہ باد سے کیا۔ انھوں نے کہا ’اللہ دی قسم اے لہوریو اج تسی مینوں خوش کر دتا اے‘۔انھوں نے کہا کہ وہ کون تھا جو کہتا تھا مینار پاکستان میں جلسہ کر کے دکھائیں وہ آج کر دیکھیں کہ نہ صرف مینار پاکستان بلکہ باہر سڑکیں بھی بھر چکی ہیں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان کا یہاں 2011 کا جلسہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا نے کروایا تھا۔انھوں نے کہا یہ کہتے تھے کہ نہ اجازت دیں اور نہ کرسیاں دیں گے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ ’نہ تمھاری اجازت کی ضرورت ہے اور نہ تمھاری کرسیوں کی ضرورت ہے، اپنے پاس ہی رکھو۔‘انھوں نے کہا لاہور بڑے بھائی کے طور پر سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو خوش آمدید کہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ لاہور کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ لاہور ایک سگے بھائی کا کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ بڑے بھائی کا نہیں بلکہ سب برابر ہیں، سگے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے لاہور اسلام آباد اور چاروں صوبوں کو آپس میں جوڑے گا۔مریم نواز نے کہا کہ لاہور میں ایک نہیں بلکہ کئی درجنوں جلسے ہو چکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ لاہور کے اس تاریخی جلسے کے بارے میں میڈیا کو فون آ رہے ہیں کہ آپ نے کہنا ہے کہ یہ جلسہ ناکام ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ فون کہاں سے آتے ہیں۔ ان کے مطابق لاہوریوں نے مینار پاکستان کے نیچے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔انھوں نے کہ لاہوریوں نے عوام دشمن حکومت کو مینار پاکستان کی بلندی سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ جس تبدیلی کی بنیاد 2011 میں اس مینار پاکستان کے نیچے رکھی گئی تھی آج لاہوریوں نے اس جعلی تبدیلی کو یہیں پر دفن کر دیا ہے۔انھوں نے کہا تین سال کون فرعون کے لہجے میں کہتا رہا کہ میں این آر او نہیں دونگا اور آج پی ڈی ایم کی اس تحریک کے نتیجے میں پی ڈی ایم اور نواز شریف سے این آر او مانگ رہا ہے۔
انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھو مسٹر تابعدار۔۔ اس کے بعد شرکا سے پوچھا کہ بندہ تابعدار کون ہے اور وہ کس کی تابعداری کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یاد رکھوں کہ مسٹر تابعدار خان اب این آر او نہیں دے گا۔ انھوں نے کہا نواز شریف اس تابعدار خان کو این ار او نہیں دے گا۔انھوں نے کہا کہ ’اب نواز شریف پاکستان کی ترقی چھیننے والوں کو این آر او نہیں دے گا۔‘انھوں نے شرکا سے درخواست کی کہ وہ جلسوں میں ضرور آئیں مگر ماسک پہن کر آئیں کیونکہ مجھے آپ لوگوں کی زندگی زیادہ عزیز ہے۔ انھوں نے شرکا سے کہا کہ یاد رکھو کہ کووڈ-19 سے زیادہ خطرناک کووڈ-18 ہے جس کا نام تابعدار خان ہے، عمران خان ہے۔انھوں نے کہا جب سے یہ جعلی مینڈیٹ لے کر آیا ہے تو پاکستان کی ترقی قرنطینہ میں چلی گئی ہے، پاکستان کی چین، گندم، سستا آٹا، سستی بجلی، گیس، سستی گیس، میڈیا، روزگار، اور غریب مریض کی دوائی بھی قرنطینہ میں چلی گئی ہے۔انھوں نے شرکا سے کہا کہ بتاؤ کووڈ 18 کا خاتمہ کرنے کے لیے تیار ہو ناں؟انھوں نے کہا کہ عمران خان کو جنرل پاشا اور جنرل ظہیر کی حمایت حاصل رہی۔
انھوں نے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تمھیں کہا تھا کہ میرے پاس لاؤ درخواست میں پانامہ کا فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر تم نے فکس میچ کے ذریعے نواز شریف کو باہر نکالا پھر 2018 میں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو الیکشن سے باہر نکالا۔ان کے مطابق وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ اتنا نالائق نکلے گا۔ یہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ اتنا نالائق نکلے گا۔مریم نواز کے مطابق آج اس کی نالائقی کا جواب ان کے سیلیکٹرز کو دینا پڑ رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سوغات آخر کہاں سے ڈھونڈ کر لائے ہو۔
مریم نواز نے عمران خان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہے تم میں جرات کے جنرل عاصم سلیم باجوہ کے پاپا جانز پیزا کا حساب پوچھ سکو۔انھوں نے شرکا سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاپا جانز پیزا کس کا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مالم جبہ، پشاور میٹرو بس سروس اور سونامی ٹری نامی منصوبے میں مبینہ بدعنوانی کا ذکر کیا۔بہنوئی کے پلاٹ کی خاطر کتنے آئی جیز بدل دیے۔
مریم نواز نے کہا کہ اب عمران خان کہتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہے۔کون سی پارلیمنٹ؟ وہی جو آئی ایس آئی کا ایک ریٹائرڈ کرنل چلا رہا ہے، کیا وہاں بیٹھ کر بات ہو گی۔وہ والی سینیٹ جس کو آج ایک ریٹائرڈ کرنل چلاتا ہے اس میں بیٹھ کر بات کرنی ہے؟ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اس ریٹائرڈ کرنل کا نام پورا اسلام آباد جانتا ہے۔مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ کیا آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ کیا پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے مقدمے کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ کیا انتخابات کے دن آر ٹی ایس کو نواز شریف نے بٹھایا تھا۔ کیا کشمیر کو مودی کے حوالے نواز شریف نے کیا تھا۔کیا شوکت عزیز صدیقی پر مرضی کے فیصلے کے لیے نواز شریف نے دباؤ ڈالا تھا۔ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس نواز شریف نے بنایا تھا۔اس کے بعد مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم کو جانا ہو گا۔‘نواز شریف نے شرکا سے پوچھا کہ اگر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا پڑے تو نکلو گے اسلام آباد کی طرف، اور جتنے دن رکنا پڑے، اپنی بہن کے ساتھ رکو گے۔جلسہ گاہ پہنچنے پر مریم نواز نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ حکومت گھر جائے گی۔ ان کے مطابق یہ جلسہ نئی صبح کی نوید ہے۔
بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن جلسوں کو حکمران جلسیوں کا نام دیتے تھے میں بھی ان کو جلسے نہیں کہتا، ان کو میں ان غیر جمہوری قوتوں کا، آمروں کی پیداواروں کو، ان قوتوں نے آئین کو گھر کی لونڈی سمجھا ہوا ہے، جنھوں نے 70 سال سے زائد زنجیروں کے زور پر حکمرانی کی ہے، میں ان جلسوں کو ان کی جنازہ نماز سمجھتا ہوں۔ان کے مطابق میرے الفاظ کو نہ گلہ سمجھیں اور نہ شکوہ سمجھیں۔ ان کے مطابق جو 70 برس سے بلوچستان کے لوگوں نے سہا ہے میں ان کے بارے میں آپ سے بات کرونگا۔ ان کے مطابق اس عرصے میں ہم نے بہت کچھ کھویا اور ایک دن بھی سکون کا نہیں دیکھا۔ان کے مطابق یہ شورش کس نے شروع کر رکھی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’آج جس خلائی مخلوق کے خلاف آپ اس پنڈال میں کھڑے ہیں، ہم 70 سالوں سے ان کی دہشت کا اور ان کی وہشت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘ان کے ان غیر اخلاقی فیصلوں کا ذمہ دار کون ہے؟70 سالوں سے جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے۔ اس کا ذمہ دار ان کو نہیں بلکہ اس بڑے صوبے کو قرار دیا ہے جو آج اس پنڈال میں موجود ہے۔ انھوں نے کہا اس جن کو قابو کرنا اب آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔
انھوں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر اس خلائی مخلوق کو دھکہ دیں اور اس کی حیثیت دکھا دیں۔ انھیں یہ ثابت کرائیں کہ یہ ملک اس ملک کی عوام کے لیے بنا ہے۔اختر مینگل کے مطابق اگر آپ اس ملک کو دوسرا بنگلہ دیش نہیں بنانا چاہتے تو پھر اس خلائی مخلوق کو لگام دینا آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔انھوں نے کہا آج ہماری ماؤں بہنوں کی عزتوں محفوظ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ہم آج بھی جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس آئین کے تحفظ کے لیے نکلے ہیں، لیکن ہماری عزتیں بچانے کے لیے کوئی نہیں نکلا۔ ہماری مائیں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں مگر ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔اختر مینگل کے مطابق مریم نواز خود بتائیں گی کہ کس طرح بچیوں اور بہنوں نے بلوچستان میں رو رو کر اپنے پیاروں کی بازیابی کی درخواست کی۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی یہ ایک اسلامی ریاست ہے۔ کیا یہ ایک جمہوری ملک ہے؟ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ اختر مینگل نے لاہور جلسے کے شرکا سے کہا کہ آپ کو انگریزوں کی غلامی سے نکال کر ان وردی والوں کی غلامی میں دھکیل دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کوئی ایک ملک ایسا بتائیں جہاں وزیر اعظم کو پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا ہو، جہاں بڑے عوامی مینڈیٹ والے وزیر اعظم کو ملک سے باہر نکال دیا گیا ہو۔
اگر جمہوریت ہوتی تو پھر جنرلز ہم پر براہ راست ہم پر حکمرانی نہ کرتے۔ اور تو اور کاروبار بھی اپنے ہاتھ میں رکھ لیا ہے۔ ڈی ایچ اے بنے ہوئے ہیں، فوجی فاؤنڈیشن بنی ہوئی ہے، ایف ڈبلیو بنا ہوا ہے۔ان کے مطابق جس طرح ڈی ایچ اے پھیل رہا ہے مجھے ڈر ہے کہ آئندہ کچھ سالوں میں یہاں لاہور میں قبرستان کی بھی جگہ نہیں بچے گی۔ان کے مطابق جو آسٹریلیا میں جزیرے خریدتے ہیں، جو دبئی میں بیٹھے ہیں اور جو اپنے آپ کو شیر کہتے تھے اور اپنے شہروں کو ڈالروں کے عوض بیچا اور جو پیزے بیچتے ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چائیے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح ڈی ایچ اے نے لوگوں کی زمینیں ہڑپ کی ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چائیے۔
اختر مینگل کے مطابق گوادر کو باڑیں لگا کر وہاں کے لوگوں کو ایسٹ اور ویسٹ جرمنی کی طرز پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔اگرچہ حکومتی ترجمان اس جلسے کو شروع ہونے سے قبل ہی ایک ناکام جلسہ قرار دیتے ہیں مگر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شرکا سے کہا کہ آپ نے کثیر تعداد میں یہاں جمع ہو کر جلسے کو کامیاب بنایا ہے۔
جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے شرکا سے چند سوالات پوچھے جن میں سے کچھ یہ سوالات بھی ہیں کہ کیا موجودہ حکومت کا خاتمہ آپ کو منظور ہے؟ کیا از سر نو انتخابات منظور ہیں؟انھوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا۔اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ‘ابھی جلسہ شروع نہیں ہوا ہے اور ٹی وی پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا بیان چل رہا ہے کہ جلسہ ناکام ہو گیا ہے۔ پتا نہیں کس قسم کا شخص یہاں بٹھایا ہوا ہے جو نہ سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے۔’قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیرپاؤ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومتی ادارے ناکام ہو چکے ہیں اور اس وقت ملک میں مہنگائی عروج پر ہے۔
