چائنیز ٹک ٹاک پر پابندی سے چین کی ناراضی کا خدشہ


پاکستان میں چائنیز ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر بار بار پابندی لگائے جانے کے فیصلوں سے پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلقات میں بھی خرابی پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ ٹک ٹاک پر سب سے پہلے پابندی سابق امریکی صدر ٹرمپ نے لگائی تھی جس کے بعد پاکستان نے بھی اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم چینی حکومت کی جانب سے اظہار ناراضی کے بعد پاکستان نے ٹک ٹاک کی انتظامیہ سے یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد اس پابندی کا خاتمہ کردیا تھا۔ لیکن اس کے بعد سے بھی ٹک ٹاک مسلسل پابندی کا شکار ہو رہی ہے جو کہ چینی حکام کے لئے باعث تشویش ہے۔
رواں برس مارچ میں پشاور ہائیکورٹ کی ہدایات پر سروس معطلی کے بعد 28 جون 2021 کو سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر ایک بار پھر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس بار ٹک ٹاک کو ہم جنسی پرستی کے فروغ کے الزام میں بند کیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک کو معطل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے تمام فریقین کو آٹھ جولائی کو طلب کیا ہے اور پی ٹی اے کو ہدایت کی ہے کہ اس وقت تک ٹک ٹاک ایپ کو معطل کیا جائے۔
عدالت کی جانب سے یہ حکم ایک درخواست گزار کی جانب سے پٹیشن دائر کرنے کے بعد دیا گیا ہے جس میں دیگر الزامات سمیت یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس ایپ کے ذریعے پاکستان میں ’ہم جنسی پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار بیریسٹر اسد اشفاق نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستانی ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ٹک ٹاک کو فریق بنایا ہے اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال 11 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں ‘فحاشی’ پھیل رہی ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ اس ایپ پر پابندی عائد کر دے۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی کے حکم کے بعد پاکستان کے اس وقت کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور موجودہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹک ٹاک پر پابندی کے عدالتی حکم پر کہا تھا کہ یہ ‘ایک اور ایسا فیصلہ ہے جس کی پاکستان کے عوام بڑی قیمت چکائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پی ٹی اے، کے حکام نے پشاور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ انھوں نے بڑی تعداد میں اس ایپ سے غیر اخلاقی مواد ہٹا دیا ہے اوراس کے علاوہ وہ ٹاک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ درخواست گزار بیرسٹر اسد اشفاق کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کی جانب سے ’پاکستان کے قوانین کی پیروی نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی پاکستان کے کلچر کا خیال رکھا جارہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع ہوئی جس میں ایل جی بی ٹی پرائیڈ منتھ منانے کا اعلان کیا گیا ہے جو ’اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ دوران سماعت انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ غیر اخلاقی مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے پی ٹی اے کو درخواست کی تھی لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی لہٰذا اس سروس کو معطل کیا جائے۔
اس سے قبل حکومت نے اکتوبر 2020 میں ٹک ٹاک کو فحاشی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے بین کردیا تھا۔ تب پی ٹی اے نے کہا تھا کہ صارفین کے صحت مندانہ ڈیجیٹل تجربے اور ڈیجیٹل کمپنیوں کی پاکستان میں افزائش کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹک ٹاک پر عائد پابندی ختم کی گئی ہے۔ جس کے بعد پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک کی اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں ٹک ٹاک نے یقین دہانی کروائی تھی کہ سوشل میڈیا ایپ پر نشر ہونے والے مواد میں پاکستان کے قوانین اور معاشرے کی اخلاقیات کے مطابق ترمیم کی جائے گی۔
ٹک ٹاک کی انتظامیہ نے یہ بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ جو صارفین پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مواد اپ لوڈ کریں گے، انہیں ٹک ٹاک سے بلاک کر دیا جائے گا۔ پی ٹی اے نے واضح کیا تھا کہ ٹک ٹاک کی سروسز اس شرط پر بحال کی گئی ہیں کہ اس کے ذریعے فحش اور غیر اخلاقی مواد نشر نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی اے نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ٹک ٹاک انتظامیہ نے شرائط پرعمل درآمد نہ کیا تو سوشل میڈیا ایپ کو پاکستان میں مستقل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مارچ 2021 میں اسی قسم کی شکایات کی بنیاد پر پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد تھی جسے پی ٹی اے نے ایک بار پھر رب بحال کر دیا تھا جب ٹک ٹاک نے معذرت کرتے ہوئے اپنے قواعد وضوابط مزید سخت کرنے کی یقین دھانی کرواکر عدالت کو مطمئن کر دیا تھا۔ تاہم اب ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے الزام پر ٹک ٹاک اپلیکیشن پر ملک بھر میں دوبارہ سے پابندی عائد کردی گئی ہے جس سے ایک مرتبہ پھر چین اور پاکستان کے تعلقات میں خرابی پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

Back to top button