چار ایکٹریسز پر جرنیلوں سے تعلقات کے الزام میں کتنا سچ ہے؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ عمرانڈو میجر عادل راجہ کا جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر چار پاکستانی ایکٹریسز سے ناجائز تعلقات کا الزام مسلسل ٹرینڈ کر رہا ہے حالانکہ چاروں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’سستی شہرت‘ حاصل کرنے کی ایک بھونڈی کوشش قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی کے ترجمان میجر عادل راجہ عمران حکومت ختم ہونے کے بعد ملک سے فرار ہو گئے تھے اور اب برطانیہ میں مقیم ہیں، لندن میں سیاسی پناہ کے درخواست گزار عادل راجہ نے اپنے ایک وی لاگ میں کہا تھا کہ پاکستان فوج کے دو اعلیٰ افسران مبینہ طور پر سیف ہاؤس میں پاکستانی ٹاپ ماڈل اور اداکاراؤں کے ساتھ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جن کی بقول ان کے ویڈیوز موجود ہیں، اس ضمن میں انہوں نے جن چار خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ناموں کے ابتدائی حروف بتائے وہ ماہرہ خان، مہوش حیات، سجل علی اور کبریٰ خان ہیں۔

وی لاگ میں اداکاراؤں کے علاوہ مختلف موضوعات پر بات کی گئی لیکن ٹوئٹر پر صرف اسی حوالے سے گفتگو کی جا رہی ہے اور چار ایکٹریسز کے نام اور تصاویر گردش کر رہے ہیں، جن کے بارے میں افواہیں تھیں کہ میجر (ر) عادل نے انہیں کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں خاص کر ان خواتین اداکاروں کا نام آیا جنہوں نے گذشتہ سال آئی ایس پی آر کے ایک ڈرامے ’صنفِ آہن‘ میں کام کیا تھا۔

ان خواتین میں سجل علی اور کبریٰ خان شامل ہیں جنہوں نے فوجی افسران کے کردار ادا کیا تھا، یہ موضوع ٹوئٹر پر وائرل ہونے کے بعد میجر عادل راجہ نے اپنے ایک اور وی لاگ میں کسی خاتون کا نام لینے کی تردید کی اور کہا کہ ان حروف سے تو کوئی بھی نام بن سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود شور کم نہیں ہوا۔

ناقدین کا کہنا یے کہ عمران خان کی فراغت کے بعد سے ان کے حق میں جھنڈا لے کر نکلنے والے میجر راجہ اپنے وی لاگز میں اکثر ایسے بے بنیاد دعوے کرتے ہیں جو اگلے ہی روز باؤنس کر جاتے ہیں لیکن موصوف نے اب اس کام کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا یے اور زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کرنے کے لئے ایسے چھکے مار رہے ہیں جو کہ سٹیڈیم سے باہر جا کر رہے ہیں۔ لیکن عادل راجہ نے اپنے تازہ وی لاگ میں جن اعلی فوجی افسران پر الزام عائد کیے ہیں انہوں نے انہیں اس قابل ہی نہیں سمجھا کہ ان پر کوئی ردعمل دیا جائے۔ تاہم پاکستان کی صفِ اول کی اداکاراؤں نے اپنے شدید رد عمل میں وی لاگ کو پست درجے کی حرکت قرار دیا۔

سجل علی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’کردار کُشی ایک گھٹیا ترین حرکت ہے اور گناہ ہے، یہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں ذلت آمیز اور اخلاق باختہ الزامات اب عام بات ہیں، اداکارہ کبریٰ خان نے لکھا کہ میں شروع میں خاموش رہی لیکن اب حد ہوگئی ہے، اگر کوئی ایرا غیرا مجھ پر انگلی اٹھائے گا تو میں چپ نہیں بیٹھوں گی۔

کبریٰ خان نے عادل راجہ کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے لکھا کہ وہ فوراً اپنا بیان واپس لیتے ہوئے معافی مانگیں ورنہ وہ ان کے خلاف عدالت میں ہتک عزت کا دعوٰی دائر کریں گی۔ مہوش حیات اور ماہرہ خان نے بھی راجہ کا رگڑا نکالتے ہوئے اسے ایک گرا ہوا گھٹیا انسان قرار دیا ہے۔

لیکن عادل راجہ نے نہایت ڈھٹائی سے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی جانب سے عورت کارڈ استعمال کر کے میرے خلاف می ٹو مہم چلائی جا ری ہے، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی حقوق نسواں کا حامی نہیں ہوگا۔ عادل راجہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے وکلا سے مشاورت کر لی ہے اور اب وہ چاروں ایکٹرسز کی جانب سے اپنے خلاف ہتک عزت کے دعوے فائل ہونے کے انتظار میں ہیں۔

یاد رہے کہ کبریٰ خان نے ’نامعلوم افراد‘، ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ اور ’لندن نہیں جاؤں گا‘ جیسی کامیاب ترین فلموں میں کام کیا ہے۔ سجل علی نے پاکستان کے ساتھ بالی ووڈ اور اب ہالی ووڈ کی فلم ’واٹ لؤ گوٹ ٹو ڈو ود اِٹ‘ میں کام کیا ہے جسے عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان نے لکھا، مہوش حیات نے حال ہی میں ڈزنی کی سیریز ’مِس مارول‘ میں کام کیا ہے، جسے عالمی اخبارات 2022 کی بہترین ٹی وی قسط قرار دیا۔ اسی طرح ماہرہ خان بھی نہ صرف پاکستانی فلموں میں کام کر رہی ہیں بلکہ بھارتی سپر سٹار شاہ رخ خان کے ساتھ ایک انڈین فلم میں بھی کام کرچکی ہیں۔

Back to top button