چترال میں مارخور کے شکار کا تنازع کیا ہے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں رواں برس کے آغاز میں محکمہ وائلڈ لائف کی مدد سے مارخور کے شکار کیلئے آنیوالے ایک امریکی شہری کو شکار سے روکنے اور مداخلت پر مقامی افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، تاہم مقامی افراد شکار میں کسی قسم کی مداخلت سے انکار کر رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے چترال میں جنگلات کے ضلعی افسر (ڈی ایف او) کی درخواست پر مقامی شہری ڈاکٹر حیدر الملک اور ان کے تین دیگر ساتھیوں کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
مارخور، آئی بیکس، اڑیال، بلیو شیپ، چترال، ٹرافی ہنٹنگ، گلگت بلتستان، پاکستانچترال وائلڈ لائف کے ڈی ایف او محمد ادریس نے بتایا کہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر کے عوض مارخور کی ٹرافی ہنٹنگ کی بولی جیتنے والے امریکی شہری کے لیے توشی کے علاقے میں مارخور کی نشاندہی کی گئی تھی۔محمد ادریس کے مطابق اس کے بعد امریکی شہری کو دوسرے علاقے میں شکار کروایا گیا تھا۔ ملک میں ہر سال کئی غیر ملکی شکاری محکمہ وائلڈ لائف کی مدد سے مارخور کے شکار اور ٹرافی ہنٹنگ کے مقابلے میں حصہ لیتے ہیں اور اس کی اجازت کے لیے بھاری فیس ادا کرتے ہیں۔
دوسری طرف ڈاکٹر حیدر الملک کا موقف ہے کہ انہوں نے مقابلے کے دوران مداخلت نہیں کی بلکہ محکمہ وائلڈ لائف اُن کی اجازت کے بغیر اُن کی زرعی زمینوں پر ٹرافی ہنٹنگ کروا رہا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی شہریوں کا ایک طویل عرصہ سے محکمہ وائلڈ لائف کے ساتھ ٹرافی ہنٹنگ کی رقم پر تنازعہ چل رہا ہے۔

مارخور، آئی بیکس، اڑیال، بلیو شیپ، چترال، ٹرافی ہنٹنگ، گلگت بلتستان، پاکستانڈاکٹر حیدر الملک نے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کوہستان کے جس علاقے میں ٹرافی ہنٹنگ ہوتی ہے، وہاں کے واحد مقامی گاؤں کو 80 فیصد حصہ دے دیا جاتا ہے، جب کہ انھیں ان دو سابقہ ٹرافی ہنٹنگ پر صرف آٹھ فیصد حصہ دیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس پر ہم لوگوں نے احتجاج کیا اور ٹرافی ہنٹنگ کے لیے قائم ضلعی کمیٹی میں پیش ہوئے۔ جس نے واضح طور پر حکم دیا کہ جو ٹرافی ہنٹنگ ہمارے علاقے میں ہوئی ہے، اس میں ہمیں پورا حصہ دیا جائے مگر ابھی تک اس پر عمل در آمد نہیں ہوا۔ڈاکٹر حیدر الملک کے مطابق اس کے بعد ایک اور طریقہ کار طے کیا گیا کہ 80 فیصد کمیونٹی کے حصے میں سے 40 فیصد حصہ اس علاقے کو دیا جائے گا جہاں پر شکار ہوگا جبکہ باقی 40 فیصد قریب کی کمیونیٹیز میں تقسیم کیا جائے گا مگر اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ڈاکٹر حیدر الملک کا دعویٰ تھا کہ ان حالات کے پیشِ نظر انہوں نے اپنے علاقے میں محکمہ جنگلی حیات کے ساتھ الحاق ختم کر دیا تھا اور اس کے لیے حکام کو باقاعدہ خط بھی لکھ دیا تھا مگر اس کے باوجود وہ حالیہ ٹرافی ہنٹنگ کے دوران ہمارے علاقے میں آئے اور نجی زرعی زمینوں پر اجازت کے بغیر شکار کر رہے تھے۔

مارخور، آئی بیکس، اڑیال، بلیو شیپ، چترال، ٹرافی ہنٹنگ، گلگت بلتستان، پاکستاندوسری جانب ڈی ایف او چترال وائلڈ لائف محمد ادریس نے ڈاکٹر حیدر الملک کے الزامات کو جھوٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ سرکاری علاقے میں ٹرافی ہنٹنگ کر رہا تھا جس میں ڈاکٹر حیدر الملک نے مسائل پیدا کیے ، جس پر قانونی کارروائی کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ محکمے اور مقامی کمیونیٹیز کے معاملات بالکل صاف و شفاف ہیں اور اس میں کوئی اختلاف اور کوئی کرپشن نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے صرف ڈاکٹر حیدر الملک کے اپنے کوئی ذاتی مفادات ہیں جس کے لیے ’وہ مسائل پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے اکاؤنٹ اور کمیونیٹیز کے ساتھ موجود اکاؤنٹ کا ہر سال آڈٹ ہوتا ہے اور اس میں کوئی کرپشن موجود نہیں ہے۔جہاں پر پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ کے حق میں بھرپور مہم موجود ہے وہاں پر اس کی مخالفت میں بھی مہم چلائی جارہی ہے۔

مارخور، آئی بیکس، اڑیال، بلیو شیپ، چترال، ٹرافی ہنٹنگ، گلگت بلتستان، پاکستانٹرافی ہنٹنگ کی مخالفت میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ خطرے کا شکار جانوروں کو قتل کرکے کس طرح ان کی افزائش کی جاسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ماخور تو اس لیے خطرے کا شکار ہوا تھا کہ اس کو طبعی عمر پوری نہیں کرنے دی جارہی تھی، اور اب یہی کام حکومتی نگرانی میں کیا جارہا ہے۔ اس سے کچھ وقتی فائدے تو شاید حاصل ہوجائیں مگر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جانور اپنی طبعی عمر پوری نہ کرے اور اس کی افزائش بھی ہو؟انہوں نے وضاحت کی کہ جنگلی حیات کی بقا فوڈ چین کے قدرتی نظام کے تحت ہی ہوسکتی ہے۔ کبھی جانور خود کسی دوسری جنگلی حیات کا شکار بنتے ہیں اور کبھی کسی کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ یہ سب قدرتی عمل ہے۔ مگر جب انسان مداخلت کریں گے، ان کا شکار کریں گے، تو یہ قدرتی نظام تباہ ہوتا ہے۔ اس سے صرف ایک ماخور یاکسی ایک جنگلی حیات پر فرق نہیں پڑتا بلکہ جنگلی حیات کا نظام متاثر ہوتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ظالمانہ ٹرافی ہنٹنگ کو ختم کرے اور مارخور سمیت تمام جانوروں کو اپنی طبعی عمر پوری کرنے دیں۔
گلگت بلتستان کے محکمے جنگلی حیات کے ڈی ایف او جبران حیدر کا کہنا تھا کہ ٹرافی ہنٹنگ جانوروں کی افزائش نسل کا سب سے بہتر اور مانا ہوا طریقہ کار ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم مقامی کمیونٹی میں تقیسم ہوتی ہے۔ جس سے ان کے اندر احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور وہ تحفظ کے لیے بڑھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2008 میں مارخور صرف 2575 تھے، اب ان کی تعداد 4500 تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ہی نہیں بلکہ مارخور کی مجموعی تعداد پوری دنیا میں تقریباً 6000 ہوسکتی ہے، جس کا سب سے بڑا حصہ اب ہمارے پاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرافی ہنٹنگ کی بدولت مقامی کمیونیٹیز نے آگے بڑھ کر خطرے کا شکار جانوروں کا تحفظ کیا جس کے بڑے اچھے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
ٹرافی ہنٹنگ کے دوران کبھی بھی کسی جوان جانور کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ ہمیشہ ایسے جانوروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو بوڑھے ہوں۔ اس لیے ماحولیاتی نظام تباہ ہونے کی بات بھی درست نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button