چوہدری شوگرملزمیں چوری پکڑی گئی، یہ ساراٹبرہی فراڈیاہے

وزیراعظم عمران خان نےکہا ہے کہ ہماری انتظامی تبدیلی کوناکام بنانےکےلیےجان بوجھ کر افراتفری کی باتیں کی جاتی ہیں اورایک منظم مافیا معاشرے میں حکومت کیخلاف منفی تاثرکوفروغ دے رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پرلاہورپہنچےہیں جہاں ان سےپاکستان تحریک انصاف کےپنجاب سےمنتخب ارکان قومی اسمبلی نےملاقات کی۔ ملاقات میں ارکان نےاپنےحلقوں میں عوام کےسماجی وترقیاتی مسائل کےحل میں مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملاقات کامقصدعوامی مسائل اورترقیاتی منصوبوں سےمتعلق مشکلات کےحل کےلیےہدایات جاری کرنا تھا، ترقیاتی کاموں سےمتعلق کسی علاقےکونظراندازنہیں کیاجائےگا۔ انہوں نےارکان اسمبلی کوہدایت کی کہ اپنے حلقوں میں عوام سےقریبی رابطہ رکھیں اورعوامی مسائل کے ترجیحی بنیادوں پرحل کےلیے کوشاں رہیں۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومت، انتظامیہ اورمنتخب نمائندوں کے درمیان مؤثرمکینزم کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے منشور کا بنیادی عنصر کرپشن کا خاتمہ ہے لیکن ایک منظم مافیا معاشرے میں حکومت کے خلاف منفی تاثر کو فروغ دے رہا ہے، یہ وہی عناصر ہیں جو دہائیوں سے مذموم مقاصد کے لیے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انتظامی تبدیلی کو ناکام بنانےکے لیے جان بوجھ کر افراتفری کی باتیں کی جاتی ہیں، پہلی باربڑے جرائم پیشہ عناصر اور قبضہ مافیا قانون کی گرفت میں آئے ہیں لہٰذا واضح کردیناچاہتاہوں کہ ہم ہرگز دباؤ میں نہیں آئیں گے، ہمیشہ چیلنجزکاسامناکیاہےاورآئندہ بھی کریں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نہ کسی سے بلیک میل ہوتا ہوں، نہ ہوسکتاہوں، ہم نے پختونخوا کے 3 وزیروں کو فارغ کردیا، پنجاب میں بھی کئی امیدوار ہیں جو وزیراعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کچھ لوگ پالیسی کے خلاف چل رہے ہیں جن کا مجھے علم ہے لیکن نام نہیں لوں گا، فیصلے اسلام آباد سے نہیں ہورہے بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہی کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کرپٹ مافیا منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈا کررہا ہے، شہباز شریف نے تشہیر پر 50 ارب روپے سرکاری خزانے سے خرچ کیے، چوہدری شوگر ملز میں چوری پکڑی گئی، یہ ساراٹبر ہی فراڈیا ہے، جعلی اکاؤنٹ کیس میں بھی زرداری کی چوری سامنے آگئی، اِن لوگوں نے اب سیاست میں نہیں آنا۔ غضنفر عباس چھینہ نے وزیراعظم کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک یا ناراض گروپ نہیں ہے، ہم نے پارلیمنٹ کی سپرمیسی کےلیےگروپ بنایا تھا۔
ذرائع کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیرداخلہ اعجاز شاہ بھی اجلاس میں موجود تھے، جہاں ملتان سے رکن قومی اسمبلی احمد حسین ڈہرنے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی شکایت کی اور کہا کہ ٹاؤن کمیٹیوں کی حلقہ بندیوں میں ملتان سے ایک وزیر اور ایک ایم این اے نے مداخلت کی۔ خیال رہےکہ گزشتہ دنوں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔
اس رپورٹ کو لیکر اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ حکومت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا تاہم اب چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے سربراہ سہیل مظفر نے کہا ہے کہ غلط اعداد و شمار دکھا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
