چیف جسٹس نے نسلہ ٹاور گروا دیا اور فالکن مال بچا لیا

سپریم کورٹ کے ان احکامات کے بعد کہ دفاعی مقاصد کے لیے مختص زمین کمرشل مقاصد کے لئے استعمال نہیں کی جا سکتی، پاک فضائیہ نے کراچی میں بنائے گے فالکن شاپنگ مال کو ایک کالج میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ناقدین کا اصرار ہے کہ یکساں انصاف کے تقاضوں کے تحت سپریم کورٹ کو نسلہ ٹاور کی طرح فالکن مال کو بھی مسمار کرنے کے احکامات جاری کرنے چاہیے تھے کیونکہ پاک فضائیہ نے صرف اپنے مال کا نام بدلا ہے اور عملی طور پر اسے کالج نہیں بنایا۔
یاد رہے کہ پاکستان ائیر فورس کے ادارے شاہین فاؤنڈیشن کا یہ منصوبہ کراچی کی مرکزی سڑک شاہراہ فیصل پر ‘فالکن مال’ کے نام سے زیر تعمیر تھا، جس کی گراؤنڈ بریکنگ اکتوبر 2010 میں کی گئی تھی۔ کراچی میں ایئر فورس کے ترجمان نے تصدیق کی کہ اس عمارت پر کالج کا بورڈ لگا دیا گیا ہے تاہم اس بارے ان کے پاس مزید معلومات نہیں ہیں۔ شاہین فاؤنڈیشن کے سیکریٹری رٹایئرڈ ایئر کموڈر خلیل رحمان شیرانی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بھی یہی مشورہ دیا کہ آگر میڈیا سائٹ پر جاکر دیکھ لےتو اسے وہاں کالج کا بورڈ لگا نظر آ جائے گا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایئرفورس حکام نے سپریم کورٹ کو ماموں بنانے کے لئے صرف شاپنگ مال کا بورڈ بدل کر کالج کا بورڈ لگا دیا ہے حالانکہ اندر جا کر دیکھا جائے تو اب بھی وہاں پر شاپنگ مال ہی تعمیر ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ فالکن مال کی اراضی دو لاکھ پانچ ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہے جس میں 21000 اسکوائٹر فٹ ریسٹورانٹس، 11000 اسکوائر فٹ سنیما ہال، 9000 اسکوائر فٹ برائے انٹرٹینمنٹ ایریا، جبکہ 5000 اسکوائر فٹ فوڈ کورٹ کے لیے مختص ہے، یہ عمارت گراونڈ کے علاوہ تین منزلوں پر مشتمل ہے۔ اس منصوبے کے لیے فیس بک پیج، ٹوئٹر اکاونٹ اور ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہیں لیکن اب ویب سائٹ بند کر دی گئی ہے جبکہ جو لینڈ لائن نمبر دیا گیا ہے وہ بھی کسی کے استعمال میں نہیں ہے۔ یہ اقدامات سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹھائے گئے ہیں۔
ائیر فورس کی شاہین فاؤنڈیشن نے اپنی ویب سائٹ پر ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن کے لیے ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں خود کو لیڈر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے کلائنٹ اور ان کے کسٹمرز کو بہترین سروس اور دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس ادارے کے کراچی اور لاہور میں شاہین کامپلیکس اور پشاور میں ہاؤسنگ بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں کنٹونمنٹ کی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا تھا کہ ہم کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیں۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کا کہنا تھا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا تو باقی کو کیسے گرائیں گے۔ انھوں نے واضح کیا تھا کہ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جا سکتا اور فوج جن قوانین کا سہارا لے کر کنٹونمٹ کی زمین پر کمرشل سرگرمیاں کرتی ہے، وہ غیر آئینی ہیں۔ تاہم یہ سخت ترین ریمارکس دینے کے بعد نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم جاری کرنے والے چیف جسٹس گلزار احمد نے فالکن ٹاور کو گرانے کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے۔ اب ایئر فورس والوں نے گونگلووں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اپنے شاپنگ مال کو بچانے کی خاطر اس کے باہر ایئر وار کالج کا بورڈ لگا دیا ہے۔
اس سے قبل سیکریٹری دفاع نے عدالت میں پیش ہوکر یقین دہانی کرائی تھی کہ مستقبل میں کنٹونمنٹ کی زمینیں دفاعی مقاصد کے علاوہ کسی کام کے لیے استعمال نہیں کی جائیں گی اور اس حوالے سے مسلح افواج کے سربراہان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شاہراہ فیصل پر ہی واقع نسلہ ٹاور کی تعمیر کو حال ہی میں سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیگر منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس پر عمل درآمد جاری ہے۔ اس دوران ٹاور کی ایک رہائشی خاتون گھر چھن جانے کے صدمے سے دل کا دورہ پڑنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سویلین اور فوجی حکام کے ساتھ انصاف کا دوہرا معیار اپنانے پر سوشل میڈیا صارفین سخت رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ کراچی کے وکیل اور معروف ٹی وی اینکر عبدالمعیز جعفری نے اخک تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ فضائیہ نے ائیر بیس کے مقام پر کمرشل شاپنگ مال قائم کر دیا اور جب سپریم کورٹ نے کہا کہ عسکری ضروریات کے لیے استعمال نہ ہونے والی زمین واپس کریں تو اس پر ائیر وار کالج انسٹٹیوٹ’ کا بورڈ لگا دیا۔ ایک اور صارف عنصر علی نے کہا یہ اچھا تماشہ ہے کہ عمارت کا نام بدل دو لیکن غیر قانونی کام جاری رکھو۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس نے نسلہ ٹاور کی طرح فالک شاپنگ مال کو گرانے کے احکامات کیوں جاری نہیں کیے۔ انہوں نے تو دعوی کیا تھا کہ سپریم کورٹ کبھی اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ نہیں لیتی اور ہمیشہ میرٹ پر انصاف کرتی ہے۔ عنصر نے کہا کہ انصاف تو ہوتا ہوا نظر آتا ہے لہذا انصاف کیا جانا چاہئے تاکہ نظر آئے۔
معروف سماجی کارکن عمار علی جان نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایسی کرپشن کی نشاندہی کرنے پر کہا جاتا ہے کہ افواج کا مورال کم ہو جاتا ہے۔’ ایک اور صارف ابراہیم نے کراچی میں غیرقانونی قرسر دے کر گرائے جانے والے نسلہ ٹاور کا حوالے دے کر ٹویٹ کی کہ ‘اگر نسلہ ٹاور والوں نے بھی عمارت کا نام تبدیل کر لیا ہوتا تو کیا اسے بھی فالکن مال کی طرح کھڑا رہنے کی اجازت مل جاتی؟ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے۔
