ڈالر کیوں گر رہا ہے اور روپیہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے بہتری آ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر ڈالر کی طلب میں کمی کو قرار دیا جا رہا یے۔

فروری 2020 سے اب تک ڈالر کی قیمت میں ساڑھے پانچ روپے کی کمی آ چکی ہے۔ لیکن ڈالر کی قیمت میں کمی کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات ابھی تک نظر نہیں آئے اور مہنگائی کا طوفان ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ فروری میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 161 روپے تھی جو اب گر کر 155.50 تک آ چکی ہے۔ اگر ڈالر کی موجودہ قیمت کا جائزہ لیا جائے تو یہ اب اکتوبر 2019 تک کی سطح تک گر چکی ہے جب کہ اکتوبر 2020 میں اس کی قیمت 168 روپے سے بھی اوپر چلی گئی تھی۔ پاکستان میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گزشتہ سال ہونے والے بے تحاشا اضافے نے ملکی درآمدات کو مہنگا کیا تو دوسری جانب اس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کرنسی کے کاروبار سے وابستہ افراد روپے کی قدر میں بہتری کو کچھ مثبت معاشی اشاریوں سے منسوب کر رہے ہیں۔ فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بتایا کہ فروری کے مہینے میں ڈالر 161 روپے پر ٹریڈ ہو رہا تھا جو اب گر کر 155.70 تک آن پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت حالیہ دنوں میں 154 تک بھی گر گئی لیکن اس کی خریداری کی وجہ سے یہ ایک بار پھر 155 تک چلی گئی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ فروری 2020 میں ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 154 روپے تھی تاہم کرونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن نے غیر ملکی سرمایہ کاروں پر گھبراہٹ طاری کر دی تھی جس کی وجہ سے ملک میں ٹریژری بلوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر ملک سے نکل گئے، جس کی وجہ سے ملکی کرنسی دباؤ کا شکار ہوئی اور اس کی قدر میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی۔

ملک بوستان نے کہا کہ ڈالر کی موجودہ قیمت اکتوبر 2019 کی سطح پر گر چکی ہے جو 154 اور 155 کے درمیان تھی جب کہ اکتوبر 2020 میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی جب یہ 168 روپے سے تجاوز کرگئی تھی۔ ماہرِ معیشت خرم شہزاد کے مطابق اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں آج ڈالر کی قدر تقریباً 7.5 فیصد گر چکی ہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں روپے کے مقابلے میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی تھی اور گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں پاکستانی روپیہ ایشیا میں تیسرے نمبر پر ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں اضافہ کرنے والی کرنسی بن گیا تھا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے پر بات کرتے ہوئے ملک بوستان نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں مقامی کرنسی کی قدر میں ہونے والے اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں درآمدات میں کمی، ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں آنے والی سرمایہ کاری اور غیر ملکی قرضوں کی ادائی کا مؤخر ہونا شامل ہے۔

ملک بوستان نے بتایا کہ درآمدات میں مسلسل کمی نے مقامی کرنسی کو بہت زیادہ سہارا دیا جس کی وجہ سے بیرون ملک ڈالر کی منتقلی میں کمی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں ہونے والے اضافے نے بھی روپے کو سہارا دیا تو دوسری جانب بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم بھی روپے کی قدر میں اضافے کا باعث بنیں جس کی وجہ سے مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ یعنی ’جاری کھاتے‘ سرپلس ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جانے والی رقوم دو ارب ڈالر ماہانہ سے زائد ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان انڈیا، چین اور فلپائن کے بعد دنیا میں ترسیلات زر وصول کرنے والا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے جو ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کےلیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ملک بوستان کے مطابق حکومت کی جانب سے حال ہی میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ نامی اسکیم نے بھی بیرون ملک پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے میں کافی مدد دی ہے جس کی وجہ سے ان کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم میں ایک لاکھ سے زائد اکاؤنٹ ہی فعال ہوئے ہیں مگر اس کی وجہ سے کافی سرمایہ ملک میں آ رہا ہے۔ ملک بوستان نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام بھی اس کی ایک وجہ ہے جس پر بین الاقوامی ادارے نے رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اس نے مقامی مارکیٹ کو کافی سہارا دیا ہے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن نے اس سلسلے میں بتایا کہ ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قدر گرنے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک مقامی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں معاشی سست روی کی وجہ سے ڈالر کی طلب بھی کم ہے۔ پاکستان کی معیشت درآمدات پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہے جس میں خام مال سے لے کر مشینری اور آلات شامل ہیں۔ جب ملک کی معاشی شرح نمو منفی ہو جائے یا پھر بہت کم ہو تو اس کا مطلب ہے کہ صنعت و حرفت نہیں چل رہی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سست روی نے ڈالر کی قیمت کو نیچے لانے میں بہت مدد فراہم کی۔ اس کے ساتھ ایک بڑی وجہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ بھی ہے جس نے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس کیا۔ ڈاکٹر اشفاق نے ڈالر کی قیمت میں کمی کی دوسری وجہ عالمی سطح پر ڈالر کی طلب میں بھی کمی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی ڈالر دوسری کرنسیوں کے مقابلے میں نچلی سطح پر ہے جس کی ایک بڑی وجہ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے 1.9 ٹریلین ڈالر کا کورونا وائرس سے متعلق پیکج ہے۔ اُن کے مطابق اس پیکج کےلیے ڈالر زیادہ پرنٹ کرنا پڑے گا جو اس کی منی سپلائی کو بڑھا رہا ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت نیچے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اب سرمایہ کار اس لیے ڈالر کے بجائے یورو اور گولڈ میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ملک بوستان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں کی ادائی میں ملنے والے ریلیف نے بھی ملکی کرنسی کو بہت زیادہ مدد فراہم کی جس کی وجہ سے پاکستان کی ادائیوں میں توازن دیکھنے میں آیا۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل ہونے والے اضافے کے بارے میں ملک بوستان نے امید کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈالر کی قیمت 154 روپے سے نیچے 150 روپے تک جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر اور روپے کی آزادانہ تجارت کی سطح یہی بنتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارکیٹ میں روپے کی قدر کو مضبوط کرنے کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملک بوستان نے کہا مرکزی بینک نے ڈالر اور روپے کی آزادانہ تجارت میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت زیادہ نیچے جا سکتی تھی تاہم ملک کو گندم اور چینی کی درآمد کی وجہ سے اس مالی سال میں اب تک چھ ارب ڈالر خرچ کرنے پڑے جس نے ڈالر کی طلب کو بڑھا دیا تھا۔ ملک بوستان نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر اس وقت 20 ارب ڈالر ہیں اگر چینی اور گندم کے ساتھ دوسری چیزوں کی امپورٹ نہ کی جاتی تو ملک کے زرمبادلہ ذخائر 30 ارب ڈالر تک جا سکتے تھے۔ انہوں نے ڈالر کی قیمت نیچے آنے کی وجہ سے ملک کے برآمدی شعبے کو نقصان کا تاثر مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبے کےلیے ڈالر کی معقول قیمت 145 سے 154 روپے کے درمیان ہے اور اس سطح پر برآمدی شعبہ بہتر طریقے سے اپنا کاروبار جاری رکھ سکتا ہے۔ ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی انڈیا اور بنگلہ دیش کی کرنسیوں کے مقابلے میں برآمدی شعبے کےلیے بہتر ہے اور اس پر وہ زیادہ بہتر طریقے سے ایکسپورٹ کے ذریعے منافع کما سکتے ہیں۔

ڈاکٹر اشفاق حسن نے اس سلسلے میں کہا کہ کوئی بھی معیشت دان ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی نہیں کر سکتا کیوں کہ ’یہاں کوئی بھی چیز متعین نہیں ہے۔‘ ڈالر کی قیمت میں کمی کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اشفاق حسن نے کسی بڑی تبدیلی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معیشت میں کسی نمایاں تبدیلی کے آثار اسی وقت پیدا ہوں گے جب ملک کی معاشی ٹیم بدلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی ٹیم کے ساتھ معیشت میں جوہری تبدیلی کا امکان بالکل نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button