کیا PPP کے بغیر اپوزیشن کا لانگ مارچ ہو پائے گا؟

پیپلز پارٹی کی جانب سے لانگ مارچ کے ساتھ اسمبلیوں سے استعفوں کو نتھی کرنے پر اختلاف کے بعد اب مولانا فضل الرحمن کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اپوزیشن اتحاد کو پیپلزپارٹی کے بغیر لانگ مارچ کا اعلان کر دینا چاہیے یا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو نواز شریف کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اجتماعی استعفے دینے پر آمادہ نہیں ہوتی تو باقی نو جماعتیں اسلام آباد کا رخ ضرور کریں۔
16 مارچ کو ہونے والے پی ڈی ایم اجلاس میں حسب توقع پیپلز پارٹی کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے دینے پر معذرت کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ٹوٹ چکا ہے۔ تاہم دوسری جانب اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے سربراہان سے رابطے جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے مولانا کو یقین دلایا ہے کہ ان کی جماعت لانگ مارچ کرنے اور اسمبلیوں سے استعفے دینے کے لیے تیار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پیپلزپارٹی کی جانب سے اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کے اپنے سابقہ فیصلے پر قائم رہنے کی صورت میں امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تبادلہ خیالات میں نواز شریف کا یہ خیال تھا کہ پی ڈی ایم کو حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اور اگر پیپلزپارٹی اپوزیشن اتحاد سے راستے جدا کرنے کا فیصلہ کرے تو بھی پی ڈی ایم کو اپنے پلان کے ساتھ آگے برحنا چاہیے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے مابین مائنس پیپلز پارٹی لانگ مارچ کرنے اور اسمبلیوں سے استعفے دینے پر مشورہ جاری ہے اور جلد کسی فیصلے کا امکان ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن پیپلز پارٹی کو استعفوں پر قائل کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا یہ موقف ہے کہ اس پیسوں کے بغیر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور پچھلی دفعہ کی طرح اپوزیشن کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا کی آصف علی زرداری سے بڑی امید افزا گفتگو ہوئی ہے۔ زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن کو کہا ہے کہ پی پی پی نے 4 اپریل کو پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر راولپنڈی میں جلسے کے بعد پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن نے ایک مرتبہ پھر زرداری کو استعفوں کے معاملے پر راضی کرنے کی کوشش کی، تاہم آصف زرداری نے اپنے مؤقف پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر رہ کر حکومت مخالف سیاستدانوں جدوجہد کرنے کے قائل ہیں اور استعفوں سے اسٹیبلشمنٹ اور وزیرِاعظم عمران خان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ آصف زرداری نے مولانا کو باور کروایا کہ انھوں نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سیاسی تدبر سے کام لیتے ہوئے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے حکومت کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے،تاہم یوسف رضا گیلانی کی ڈرامائی انداز میں شکست کے بعد سارا ماحول تبدیل ہو گیا لہذا نئی صورت حال سے نمٹنے کے لئے جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے ہے کہ آصف علی زرداری نے مولانا کو یقین دلایا ہے کہ پیپلزپارٹی لانگ مارچ میں شرکت کے لیے ہر لمحہ تیار ہے تاہم اسمبلیوں سے استعفے دینا تحریک انصاف کے لئے میدان کھلا چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔ آصف زرداری کا موقف ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے استعفے دینے کی غلطی کرکے اس کا خمیازہ بھگتا ہے اس لئے اب نہ ان کی جماعت استعفوں کے حق میں ہے بلکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی اس بیوقوفی سے بچانا چاہتی ہے۔
سابق صدر نے مولانا فضل الرحمٰن کی توجہ گزشتہ برس ستمبر میں کل جماعتی کانفرنس کے متفقہ ’پلان آف ایکشن‘ پر مبذول کرائی، جو واضح طور پر کہتا ہے کہ اس مقصد کے لیے استعفے بالکل آخری آپشن ہوں گے۔ دوسری جانب مولانا نے اپنے روایتی موقف کو دہرایا کہ استعفوں کے بغیر اسلام آباد کا رخ کرنا کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی ایم میں اختلافات کی خبروں پر شادیانے بجا رہے ہیں تاہم ابھی کھیل ختم نہیں ہوا۔ مولانا فضل الرحمن کی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ رابطوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مولانا اپوزیشن اتحاد کا شیرازہ اتنی آسانی سے نہیں بکھرنے دیں گے۔ یاد رہے کہ پی ڈی ایم کی حالیہ میٹنگ کے بعد مولانا نے پیپلز پارٹی کی جانب سے حتمی فیصلہ کئے جانے تک لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ مولانا نے پیپلز پارٹی کو پارٹی پالیسی پر نظر ثانی کے لئے وقت دیا ہے حالانکہ ییپلزپارٹی نے وقت نہیں مانگا تھا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح مولانا نے عجلت میں اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کی بجائے تدبر سے کام لیتے ہوئے معاملے کو سلجھانے کی سعی کی ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے مستقبل سے مایوس ہوگئے ہوتے تو وہ پیپلز پارٹی سے فوری طور پر ہاں یا ناں کا تقاضا کرتے مگر انہوں نے خود ہی کہہ دیا کہ پیپلز پارٹی اپنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا کر اس حوالے سے حتمی رائے قائم کرنے کے بعد اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کو آگاہ کرے تاکہ پی ڈی ایم اپنا اگلا لائحہ عمل طے کرسکے۔
تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم اتحاد میں پیپلزپارٹی اس وقت کلیدی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ آصف علی زرداری کی کامیاب حکمت عملی کو اپناتے ہوئے اپوزیشن اتحاد نے ضمنی انتخابات اور سینیٹ میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کا اعتراف اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی کرتے ہیں۔ ان حالات میں زرداری ایک طرح سے پی ڈی ایم کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں لہذا پیپلزپارٹی کے بغیر اپوزیشن اتحاد کی حالت بغیر سٹیئرنگ والی گاڑی کی سی ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا بھی پیپلز پارٹی کو اتحاد سے نکالنے کے حق میں نہیں ہیں۔ تجزیہ کار اب اس نکتے پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا آنے والے ہفتوں میں پی ڈی ایم اتحاد میں شامل جماعتیں زرداری کی ہوش والی حکمتِ عملی کے تحت استعفوں کا چیپٹر کلوز کر کے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرتی ہیں یا پھر جوش میں آ کر مائنس پیپلز پارٹی، حکومت کو للکارنے کا جوا کھیلتی ہیں۔ عام تاثر یہی ہے کہ نون لیگ اس وقت ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے جسے صوبہ پنجاب میں بھی واضح اکثریت حاصل ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام کے پاس مدارس کے طلبہ کی صورت میں زبردست سٹریٹ پاور موجود ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں مل کر لانگ مارچ کا اشارہ دے رہی ہیں۔ تاہم دوسری جانب پیپلز پارٹی کے پاس بھی سندھ میں حکومت کے علاوہ قومی اسمبلی میں بھی خاطر خواہ نمائندگی ہے جبکہ سینیٹ میں پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے بعد دوسری بڑی جماعت ہے۔ تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد پیپلزپارٹی کے بغیر ادھورا ہے لہٰذا حکومت کو گھر بھجوانے کا مشترکہ مقصد پورا کرنے کے لئے اس اتحاد کا برقرار رہنا ازحد ضروری ہے اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ چند ہفتوں میں پی ڈی ایم کے اندرونی معاملات درست ہو جائیں گے اور استعفوں کے معاملے پر لچک دکھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گی۔ تاہم سیاسی پنڈتوں کے مطابق یہ سب عیدالفطر کے بعد ہونے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button