کرونا آرہا ہے، سب اپنی باری کا انتظار کریں

https://www.youtube.com/watch?v=mfGx4l9Zc-c
پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ باؤلراور کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے پاکستان میں کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی رفتار سے خوف زدہ ہو کر کہا ہے کہ ’مجھے یہاں رہتے ہوئے آٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن مجھے کبھی کسی چیز نے اتنا خوفزدہ نہیں کیا جتنا بطور ملک ہمارے اس وباء سے لڑنے کے طریقہ کار نے کیا ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس لیے اب ہر کسی کو اس کا انتظار کرنا چاہیے کہ اس کو کرونا کب ہوگا’۔
پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاﺅ تیزی پکڑتا جارہا ہے اور ہر روز اوسطاً چار ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آرہے ہیں جس سے صورت حال مزید پریشان کن ہوتی چلی جارہی ہے۔ مین اسٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، آج کل ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور وہ ہے ‘کرونا’۔ یہاں تک کہ اگر آپ گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھے ہیں یا لاک ڈاؤن کے بعد احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے اپنے دوست احباب سے ملے ہیں تو گفتگو کا آغاز کرونا وائرس سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتا ہے۔ ہر جگہ اس وباء کا تذکرہ سن کر بعض اوقات تو ایسا لگنے لگتا ہے کہ یا تو ہم بھی اس وباء کی لپیٹ میں آچکے ہیں یا عنقریب یہ وائرس ہمیں بھی اپنا شکار بنالے گا۔
اس سنگین صورت حال کے باعث پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم بھی کچھ اسی قسم کے خوف میں مبتلا نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے کرونا سے لاپروائی برتنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ ‘ہم اب ‘اگر ہمیں کرونا ہوگیا’ کے مرحلے سے گزر چکے ہیں اس لیے اب ہر کسی کو مجھے کرونا کب ہوگا’ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔’
شنیرا اکرم کا کہنا تھا کہ میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے کرونا سے بچنے کے لیے درست کام کیے ور اس کے پھیلاﺅ کی رفتار کو کم کرنے میں مدد کی لیکن بد قسمتی سے ہم اتنے مضبوط نہیں جتنا ہونا چاہیے، اب ہمیں خود کو اس سے بچانے کیلئے مضبوط کرنا ہو گا، مہربانی فرما کر محفوظ رہیے، ایس و پیز پر عملدرآمد کریں اور اپنے دروازے بند رکھیں۔ اور گھر سے بلا وجہ باہر نہ نکلیں۔
شنیرا کی اس ٹویٹ پر بیشتر صارفین نے ان کی بات سے اتفاق کیا اور کئی صارفین نے حکومتی اداروں اور عوام کی لاپرواہی کو کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ قرار دیا۔ایک صارف نے لکھا کہ میں آپ کی رائے سے سو فیصد اتفاق کرتی ہوں لیکن کیا آپ نے اس حوالے سے وسیم اکرم سے بات کرنے کی کوشش کی ہے؟۔ایک اور صارف نے لکھا اس ملک کے لوگوں کےلیے آپ کو فکر مند دیکھ کر بہت اچھا لگا، انفرادی طور احتیاطی تدابیر اپنانے والے بھی کسی نہ کسی طرح خطرے میں ضرور ہیں، اب یہ بات ’کیسے‘ نہیں بلکہ ’کب‘ کے بارے میں ہے؟۔
اس سے قبل بھی شنیرا نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جسے ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہم پھر بھی لڑ رہے ہیں۔‘ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’واقعی میں آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اس کا تعلق اب ’کب‘ سے ہی ہے، مجھے بھی اب ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ جب یہ ہو جائے گا تو ہم کیا کریں گے؟‘۔
سوشل میڈیا صارفین نے شنیرا اکرم کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے خود کو محفوظ رکھنے اور سوشل ڈسٹنسنگ پر زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button