کنول شوذب کا نازیبا ویڈیو لیک کرنے والوں کو منہ توڑ جواب


تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوذب نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک نازیبا ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسی جعلی ویڈیوز کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی اور وہ اس غلاظت سے ڈرنے والی نہیں ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ میں عمران خان کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کی باکردار مجاہدہ ہوں اور ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کروں گی۔

کنول شوذب نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ انھیں چند روز پہلے دبئی کے ایک واٹس ایپ نمبر سے پیغام موصول ہونا شروع ہوئے جن میں ان سے پچاس ہزار ڈالرز کا مطالبہ کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر مطلوبہ رقم نہ دی گئی تو انکی ایک نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی جائے گی۔ مجھے کہا گیا کہ اگر اس ویڈیو کو مین سٹریم میڈیا پر وائرل ہونے سے روکنا ہے تو فوری طور پر رقم ادا کر دی جائے۔ کنول شوذب نے ان دھمکی آمیز پیغامات کے سکرین شاٹس بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے ہیں جن میں انہیں کہا جارہا ہے کہ اگر 50 ہزار ڈالرز ادا کر دیئے جاتے ہیں تو دونوں پارٹیوں کے مابین ایک معاہدہ ہو جائے گا جسکے نتیجے میں اصلی ویڈیو کو بھی سوشل میڈیا پر نقلی ویڈیو ڈکلیئر کر دیا جائے گا، لیکن ایسا کرنے کے لیے سروس چارجز دینا ہوں گے۔ یاد رہے کہ کنول شوذب کو یہ پیغامات ستمبر کے پہلے ہفتے میں موصول ہونا شروع ہوئے تھے اور عموماً آدھی رات کے وقت آتے تھے۔

کنول شوذب کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے دھمکی آمیز واٹس اپ پیغامات میں انہیں کہا گیا کہ اگر آپ نے ہمیں 50 ہزار ڈالرز ادا نہ کیے تو ہم دوسری پارٹی کو یہ ویڈیو بیچ دیں گے جو ہمیں منہ مانگی قیمت ادا کرنا چاہتی ہے۔ میسج بھیجنے والے نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ سیاستدان ایک دوسرے کی کردار کشی کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں،کنول شوذب کو موصول ہونے والے واٹس ایپ پیغامات میں یہ بھی کہا گیا کہ سوچنے میں وقت ضائع مت کیا جائے کیونکہ دوسری پارٹی بھی یہ ویڈیو خرید کر اسے وائرل کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

پیغام بھیجنے والے نے یہ بھی لکھا کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصلی ویڈیو کو نقلی بنا کر کیسے پیش کیا جاتا ہے اور یہ کام کرنے کے لیے ہمارا انٹرنیشنل نیٹ ورک موجود ہے، لہٰذا فوری طور پر پچاس ہزار ڈالرز دے دیئے جائیں جو کہ اس ویڈیو کے لئے بہت ہی کم قیمت ہے اور بطور سروس چارجز وصول کی جائے گی۔ پیغام بھیجنے والے نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ کو آفر قبول ہے تو ہم اکاؤنٹ نمبر بھجوا دیتے ہیں یا بینک ٹرانسفر کا طریقہ بھی بتایا جا سکتا ہے لیکن اس معاملے میں تاخیر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم یاد رہے کہ اس دوران سوشل میڈیا پر چند سیکنڈ کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہو گیا تھا جو کہ واضح نہیں تھا لیکن اس پر جلی حروف میں لکھا گیا تھا کہ کنول شوذب سے منسوب یہ ویڈیو فیک ہے اور اس کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس ویڈیو پر کنول شوذب کی ایک تصویر بھی لگائی گئی تھی اور جلی حروف میں سرخ رنگ سے فیک بھی لکھا گیا تھا۔ تاہم اب پانچ منٹ اور 51 سیکنڈ کی ایک نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں ایک بے لباس خاتون اور ایک بے لباس مرد مشقت کرتے ہوئے صاف نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران سوشل میڈیا پر کنول شوذب اور تحریک انصاف کے ایم این اے علی نواز اعوان کی تصاویر پر مبنی سلائیڈز وائرل ہو گئی ہیں جن پر اردو میں ‘5 منٹ 51 سیکنڈ’ لکھا گیا ہے۔

دوسری جانب کنول شوذب نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی استعمال کر کے ڈپلیکیٹ ویڈیوز بنانے والا فاسٹ رجیم مقابلے سے ڈر گیا ہے اور اسی لیے ایسی دھمکیاں آ رہی ہیں۔ لیکن عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور میں ایسی غلاظت سے ڈرنے والی نہیں۔ میں عمران خان کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کی با کردار مجاہدہ ہوں اور ڈٹ کر مقابلہ کروں گی۔

Back to top button