کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت کرلیا جاتا تو صورت حال اتنی خراب نہ ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیر سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ اور پھر وزیراعظم کی جانب سے لاک ڈاؤن کے خلاف ملے جلے پیغامات آنا شروع ہوگئے لہٰذا ہم لاک ڈاؤن کے نتائج حاصل نہیں کرسکے۔ سندھ اسمبلی میں کورونا وائرس سے متعلق بحث کا اختتام کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس تافتان سے آنے والے زائرین سے نہیں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے لوگوں سے پھیلا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تبلیغی جماعت کے 5 ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 765 کے نتائج مثبت آئے۔ انہوں نے کہا اگر لاک ڈاؤں سے متعلق میری تجویز کو قبول کرلیا جاتا تو ضلع رائے ونڈ سے سندھ اور دیگر صوبوں کے مختلف اضلاع جانے والے تبلیغی جماعت کے افراد کی جانب سے مقامی سطح پر منتقلی کو 13 مارچ کو روک دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایمرجنسی فنڈ کی مد میں 3.6 ارب روپے موصول ہوئے تھے جن میں سے 1.09 ارب روپے استعمال ہوچکے ہیں۔
اپنی تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صرف جمعے کے روز 40 اموات ہوئیں جو اب تک سب سے زیادہ تعداد ہے۔ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے 27 ہیلتھ ورکرز اور 7 پولیس اہلکاروں کےلیے بھی دعا کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 26 فروری کو وہ چیئرمین پیپلزپارٹی اور سابق صدر آصف زرداری کے ہمراہ بیٹھے تھے جب وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے فون کال پر کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص سے آگاہ کیا، 27 فروری کو وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی ہدایت پر اسکولز 2 روز کےلیے بند کردیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگلے روز یعنی 27 فروری سے اس حوالے سے اجلاس کا آغاز کیا اور گزشتہ روز تک ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو 101 روز ہوگئے تھے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ 27 مئی کو ہونے والے اجلاس میں محکمہ صحت نے بتایا تھا کہ کراچی میں صرف 16 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں جس کے بعد ڈاکٹر عبدالباری کو سدھ حکومت کے لیے وینٹی لیٹرز کی خریداری کی درخواست کی تھی کیونکہ حکومت کا خریداری کا طریقہ کار بہت طویل تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر وینٹی لیٹرز کی ضرورت تھی، ہم انتظار نہیں کرسکتے تھے اور پھر ہم نے ان کی خریداری کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، اس طرح ہم نے خریداری کا آغاز کیا اور نجی شعبے سے لوگوں کو شامل کیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ 27 فروری کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے پاس یومیہ 80 ٹیسٹ کی صلاحیت موجود تھی اور انڈس ہسپتال نے بھی کہا تھا کہ وہ ٹیسٹ شروع کرسکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ میں 9 ہزار 600 ٹیسٹ کٹس کا آرڈر دیا تھا اور 3 روز میں کٹس پہنچنے کے بعد ہم نے ٹیسٹ کا آغاز کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار 380 زائرین تافتان کے ذریعے ایران سے واپس آئے تھے، جنہیں تافتان میں قرنطینہ کیا گیا تھا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ جب وہ زائرین بسوں کے ذریعے سکھر پہنچے تو ان سب کا ٹیسٹ کیا گیا جن میں سے 280 کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے انہیں لیبر کالونی میں رکھا اور ہماری کوششوں سے وہ صحتیاب ہوئے جس کے بعد انہیں واپس گھر بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ابتدائی سطح پر 80ٹیسٹس کی صلاحیت تھی جو اب 7 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت 80 فیصد ٹیسٹس سندھ حکومت کی جانب سے کیے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس وقت ملک میں سندھ کے پاس ٹیسٹ کی بہتر اور سب سے زیادہ صلاحیت ہے، جو اس صوبے سے بھی زیادہ ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گزشتہ 7 برس تک حکومت کی۔
انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ پھر بھی پی ٹی آئی کے رہنما پوچھتے ہیں کہ سندھ حکومت نے اب تک کیا کیاہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ جب صوبائی حکومت راشن کی تقسیم کے لیے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے ڈیٹا حاصل کرنا چاہا تو حکام نے تقسیم میں تاخیر کے لیے غئر ضروری رکاوٹیں پیدا کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سب سے زیادہ شفاف طریقے سے راشن تقسیم کیا اور یہ گزرتے وقت کے ساتھ ثابت ہوگا۔ اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے موبائل فون پر ریکارڈ کیا گیا مرحوم صوبائی وزیر مرتضی بلوچ کا ویڈیو پیغام چلایا جب وہ آئسولیشن میں تھے۔
اس پیغام میں مرتضی بلوچ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وزیراعلیٰ اور ان کی کوششوں کو سراہا تھا اور عوام سے وزیراعلیٰ کی طاقت بننے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے ڈاکٹرز بشمول، ڈاکٹرباری، ڈاکٹر فیصل، پروفیسر سعید قریشی اور عالمی ادارہ صحت کی ڈاکٹر سارہ کے فرنٹ لائن کردار پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پی ایم اے کے ڈاکٹر سجاد، ڈاکٹر ادیب رضوی اور جی آئی ایم ایس کے ڈاکٹر راحم بخش کی کوششوں کو بھی سراہا۔
خیال رہے کہ 26 فروری 2020 کو ملک میں اس عالمی وبا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور 26 سے 31 مارچ تک پاکستان میں متاثرین کی تعداد 2 ہزار تھی جبکہ 18 مارچ کو ہونے والی پہلی موت کے بعد اس عرصے میں 26 اموات ہوئی تھیں۔ تاہم اپریل میں صورتحال کچھ مختلف رہی، اس دوران متاثرین کی تعداد ساڑھے 16 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ اموات 385 ہوگئی تھیں۔ بعد ازاں مئی کے مہینے میں صورتحال تبدیل ہوئی اور اس ایک ماہ میں 54 ہزار سے زائد کیسز اور 1100 سے زائد اموات کا اضافہ ہو نے کے بعد کیسز 71 ہزار جبکہ اموات 1500 سے تجاوز کرگئیں۔
علاوہ ازیں جون کی ابتدا سے صورتحال مزید تشویشناک موڑ اختیار کررہی ہے اور 5 روز میں 20 ہزار سے زائد کیسز اور 379 اموات کا اضافہ ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button