کونسی فلم نے ڈمپل کباڈیہ، رشی کپور کو راتوں رات سٹار بنا دیا؟

1980 کی دہائی میں فلم ’’بوبی‘‘ کو گانے ’’ہم تم اک کمرے میں بند ہوں‘‘ سے خوب شہرت ملی، بلکہ اس فلم نے ڈمپل اور رشی کپور کو راتوں رات سٹار بنا دیا، ڈمپل کپاڈیہ اور رشی کپور کی اس رومانوی فلم کو گھر کے بڑوں نے تو وی سی آر پر ذوق و شوق سے دیکھا مگر بچوں کو اس دوران پاس پھٹکنے کی بھی اجازت نہ ہوتی۔انڈیا کی یہ مقبول ترین رومانوی فلم ’بوبی‘ آج سے 50 سال قبل 28 ستمبر 1973 کو ریلیز ہوئی تھی۔یہ 1973 کا سال تھا، جب انڈیا میں ’بوبی‘ نامی ہندی فلم ریلیز ہوئی تھی جس میں ہیرو اور ہیروئن دونوں نئے تھے۔ ہیروئن ڈمپل کپاڈیہ کا نام بھی شاید کسی نے نہیں سنا تھا۔فلم کے ہدایت کار راج کپور کی اس سے پہلے والی فلم بہت بڑی فلاپ رہی لیکن جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس کی مقبولیت ایسی تھی کہ دور دراز گاؤں اور قصبوں سے ’بوبی بس‘ کے نام سے خصوصی بسیں بڑے شہروں کے سینما گھروں تک چلتی تھیں اور پھر یہ بسیں لوگوں کو فلمیں دکھا کر گاؤں تک واپس لاتی تھیں۔ڈمپل کپاڈیہ کا پولکا ڈاٹ ڈریس ’بوبی ڈریس‘ کے نام سے مشہور ہوا اور لوگ ہیرو رشی کپور کی موٹرسائیکل کو ’بوبی موٹر سائیکل‘ کہتے تھے۔ بوبی کی مقبولیت کی ایک اور مثال 1977 میں دیکھنے کو ملی جب آنڈیا کے سیاست دان بابو جگ جیون رام نے دلی کے رام لیلا میدان میں انتخابی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا۔رشی کپور اپنی سوانح عمری ’کھلم کھلا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’راج کپور کا سینما کے ساتھ جنون ایسا تھا کہ وہ فلموں سے کمائی ہوئی تمام رقم دوبارہ فلموں میں لگا دیتے تھے۔ میرا نام جوکر کے بعد آر کے اسٹوڈیوز کو رہن رکھا گیا تھا، رشی کپور کی سوانح عمری میں مزید لکھا ہے کہ ’راج کپور کے پاس اپنا گھر بھی نہیں تھا۔ بوبی کی کامیابی کے بعد انھوں نے اپنا گھر خرید لیا۔ کہا جاتا ہے کہ بوبی بناتے وقت دھرمیندر، پران صاحب، راجندر کمار سمیت انڈسٹری کے کئی بڑے ناموں نے ان سے کہا تھا کہ وہ آر کے بینر کو بحال کرنے کے لیے کوئی پیسہ لیے بغیر کام کریں گے۔ ’بوبی‘ کی ریلیز کے بعد رشی کپور اور ڈمپل کی جوڑی نے دھوم مچا دی۔ بوبی صرف ایک فلم نہیں بلکہ فیشن کی علامت بھی تھی۔ ڈمپل کی وہ منی سکرٹ، پولکا ڈاٹ شرٹ، سٹائلش پینٹ، بڑے شیشوں والے گلاسز، پارٹیاں، راج کپور نے انڈیا کے نوجوانوں کو نئے طرز زندگی سے متعارف کروایا۔فلموں کی تاریخ کے ماہرامرت گنگر نے بی بی سی کی صحافی سپریا سوگلے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’بوبی بریگنزا یعنی بوبی 50 سال بعد بھی ایک جنون اور شوق کا نام ہے۔ یہ نوجوان نسل کی محبت کی کہانی تھی جو سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتی تھی۔ راجہ (رشی کپور) کا تعلق ایک ہندو امیر گھرانے سے ہے اور بوبی کا تعلق مسیحی خاندان سے دکھایا گیا ہے جو ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہے۔یہ وہ دور تھا جب ملک 1971 کی جنگ کے ماحول سے باہر آ رہا تھا، میرا نام جوکر فلاپ ہو گئی۔ ایسے میں ملک میں نوجوانوں کو تازہ ہوا اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس ماحول میں بوبی ریلیز ہوئی اور اس نے ہر سو دھوم مچا دی، وہ بھی ایسی کہ جس کی گونج برسوں بعد بھی تھم نہ سکی۔
