کپتان نے اپنے لاڈلے عاصم باجوہ کو احتساب سے استثنیٰ دے دیا

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی نیب اور ایف آئی اے کی احتسابی گرفت سے دور رکھنے کے لیے استثنیٰ دلوانے کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کسی بھی سرکاری ادارے کے سربراہ کو کسی قسم کا قانونی استثنیٰ حاصل نہیں سوائے صدر اور وزیراعظم پاکستان کے اور وہ بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں کے حوالے سے۔ تاہم حیران کن طور پر چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور ان کے ماتحت عملے کے لئے عاصم سلیم باجوہ کی ذاتی خواہش پر استثنیٰ کا انتظام کرلیا گیا ہے جس کے تحت اگر مستقبل میں ان پر بطورچیئرمین سی پیک اتھارٹی کسی بھی قسم کی کرپشن کا الزام لگتا ہے تو ان کا احتساب نہیں ہو پائے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بنائی گئے قانون میں سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے لئے نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے کسی قسم کی تفتیش و تحقیقات سے استثنیٰ کی شق دراصل لیفٹیننٹ جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو بچانے کے لئے رکھی گئی ہے اور اس کی سفارش وزیراعظم عمران خان نے خود کی۔ قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے اب وزیراعظم نے سی پیک اتھارٹی کی نگرانی بھی متعلقہ وزارت کی بجائے اپنے ذمہ لے لی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ عاصم سلیم باجوہ اب صرف عمران خان کو جواب دہ ہیں جنہوں نے پہلے ہی ان کے لیے استثنیٰ کا بندوبست کرلیا ہے۔
عاصم باجوہ کو استثنی دینے کا فیصلہ اپوزیشن کی شدید تنقید کی زد میں آچکا ہے۔ مریم نواز نے جنرل عاصم باجوہ کو استثنیٰ دینے کی تجویز پر اپنے ردعمل میں اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ مریم نے سوال اٹھایا کہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کو استثنیٰ حاصل نہیں تو عاصم باجوہ کو استثنیٰ کیوں حاصل ہوگا؟ کیا یہ آسمان سے اترے ہیں؟ انکے کون سے جرائم ہیں جن کو چھپانے کے لئے استثنیٰ کی ضرورت پڑ گئی۔
اس حوالے سے کیپٹن صفدر کا کہنا ہے کہ جس شخص پر پہلے ہی بیرون ملک اربوں ڈالرز کے اثاثے رکھنے کا الزام ہے اس کو اب بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی استثنیٰ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اب مل جل کر مال بنایا اور کھایا جائے گا۔۔صفدر۔کامکہنا یے کہ 62 ارب ڈالر کے اس بڑے اور حساس منصوبے کے نگران ادارے کے سربراہ کو قانون سے بالا رکھنے کا مطلب کرپشن کی کھلی اجازت دینے کے مترادف ہے۔ خیال رہے کہ دو ماہ قبل عاصم باجوہ اور ان کے اہل خانہ کے بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد عوامی اور سیاسی دباو کے پیش نظر وہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں اور سیاسی ناقدین کی جانب سے انہیں چیئرمین سی پیک اتھارٹی سے ہٹانے کا مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے۔ مگر کپتان نے مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے انہیں ملکی قانون سے بالا اور احتساب سے مبرا قرار دے کر نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس اقدام کو یکساں انصاف کے وعدوں کا قتل قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری یا سی پیک اتھارٹی کیلئے نیا قانون لانے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے مطابق چیئرمین سمیت دیگر افسران کو قومی احتساب بیورو یا نیب اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف اے آئی کی انکوائری سے استثنیٰ ہوگا۔ کابینہ کمیٹی برائے لیجیسلیٹو کیسز نے نئے قانون کے مسودے کی منظوری دے ہے جس کے تحت نئے قانون میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے اختیارات میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر سی پیک اتھارٹی کا عہدہ ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ سی پیک اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی وترقی کی بجائے وزیراعظم کو رپورٹ کرے گی۔چیئرمین سمیت دیگر افسران کو نیب اور ایف اے آئی کی انکوائری سے استثنیٰ ہوگا۔ دستاویز میں سی پیک اتھارٹی میں فیصلہ کن کردار کیلئے چیئرمین کے ووٹ کا اختیار ختم کرنے اور اتھارٹی کا سی پیک بزنس کونسل قائم کرنے کا اختیار ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔سی پیک بزنس کونسل کی تشکیل اور نوٹیفکیشن کا اجراءبورڈ آف انویسٹمنٹ کرے گا۔
خیال رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 8 اکتوبر 2019 کو آرڈیننس کے ذریعے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق اتھارٹی قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سی پیک اتھارٹی سی پیک اتھارٹی آرڈیننس 2019 کے ذریعہ ملک بھر میں سی پیک سے متعلق سرگرمیوں کی تشخیص، ہم آہنگی اور نگرانی کے مقصد کے لئے قائم کی گئی تھی۔ اس کے بعد 30 جنوری 2020 کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب کی ایک قرار داد کی منظوری کے بعد اس آرڈیننس میں 120 روز کی توسیع کی گئی تھی لیکن گذشتہ چند مہینوں سے آرڈیننس غیر موثر ہونے کے بعد سی پیک اتھارٹی کو حاصل قانونی کور ختم ہوچکا ہے۔
20 اکتوبر کے روز وفاقی کابینہ نے تیار کردہ نئے مسودہ سی پیک اتھارٹی ایکٹ کی توثیق کردی ہے اور اب یہ قانون جلد ہی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل قانون سازی کیسز یا سی سی ایل سی کے تصرف سے متعلق کابینہ کمیٹی نے سی پیک اتھارٹی سے متعلق ایک مسودہ قانون کی منظوری دی تھی۔ اس قانون میں سی پیک اتھارٹی کے لئے سی ای او کے عہدے کے خاتمے ، فیصلہ سازی میں سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے اختیارات میں کمی اور بزنس کونسل کے قیام کے اتھارٹی کے اختیارات کے خاتمے کی تجویز شامل ہے۔
