کیا آرمی چیف عمران خان کے سرپرست ہیں یا ماتحت؟

معروف دانشور اور لکھاری وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ کپتان حکومت اپنے اقتدار کے لئے فوجی قیادت کی ’خیر سگالی‘ یا سیاسی معاونت کی مسلسل محتاج ہے کیوں کہ اسے پارلیمنٹ میں اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ اپنے حلیف ارکان کی وفاداریوں پر بھی پورا یقین نہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ اپوزیشن عمران خان کو سلیکٹڈ وزیر اعظم کہتی ہے لیکن خان صاحب کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ ملکی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو تمام معاملات کے بااختیار نگران اور ذمہ دار ہیں۔ انکا اصرار ہے کہ آرمی چیف قمر باجوہ ان کے سرپرست نہیں بلکہ ان کے ماتحت ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے گزشتہ تین ساڑھے تین سال کے دوران سیاسی و انتظامی معاملات کی جو تصویر راسخ ہوئی ہے، اس میں اپوزیشن کا دعویٰ درست اور عمران خان کی باتیں غلط ثابت ہو رہی ہیں۔ گاہے بگاہے شائع ہونے والی تصاویر اور سامنے آنے والی خبروں سے یہی آشکار ہوتا ہے کہ عمران عسکری قیادت کی صوابدید اور رہنمائی یا اس کے بنائے ہوئے راستے پر چلنے میں ہی عافیت سمجھتے رہے ہیں۔
حتی کہ اب جس قومی سلامتی پالیسی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے اور جسے عمران خان کا ویژن اور پاکستان کا مستقبل قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی، اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی بجائے قومی سلامتی کمیٹی سے منظوری لینے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کمیٹی صرف ان معنوں میں وفاقی کابینہ یا تحریک انصاف کی کور کمیٹی سے مختلف ہے کہ اس میں تمام عسکری قیادت بھی شامل ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کابینہ سے قومی سلامتی پالیسی کی منظوری کے بعد ٹویٹ میں ملک کی سول قیادت کے علاوہ عسکری قیادت کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھا۔ حالانکہ ایک سیاسی دستاویز یا حکمت عملی کی تیاری اور اس کے نفاذ کے فیصلہ میں ملک کی عسکری قیادت کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ایسی کوئی پالیسی ملکی حالات اور ضرورتوں کی روشنی میں حکومت تیار کرتی ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث کے ذریعے اسے حتمی شکل دی جاتی ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ کسی بھی جمہوری سیٹ اپ میں پارلیمنٹ کی اکثریتی اور اقلیتی پارٹیاں ہی اصل سٹیک ہولڈرز ہوتی ہیں جن کے اراکین کو عوام منتخب کر کے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں۔ لہذا فوج جیسے ادارے قومی پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہو سکتے۔ لیکن جب حکومت یہ واضح کر رہی ہو کہ اس کے نزدیک پارلیمنٹ کی بجائے عسکری قیادت کی منظوری اہم ہے تو وہ خود ہی یہ بتا رہی ہے کہ ملک کا حقیقی حکمران کون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ جو پالیسی پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی بجائے قومی سلامتی کمیٹی اور کابینہ کے ذریعے تیار کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کی کاغذ پر لکھے حروف سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ دستاویز زمینی حقائق سے بھی متصادم ہے۔ شیری رحمان کے پیش کردہ دونوں نکات قابل غور ہیں۔ پہلے نکتہ میں پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنے کی طرف اشارہ ہے جو ملک میں جمہوریت کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی۔ کپتان حکومت اپنے اقتدار کے لئے فوجی قیادت کی ’خیر سگالی‘ یا سیاسی معاونت کی محتاج ہو چکی ہے کیوں کہ اسے پارلیمنٹ میں اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ اپنے حلیف ارکان کی وفاداریوں پر بھی پورا یقین نہیں ہوتا۔ قانون سازی کے دوران یہ واضح ہوتا رہا ہے کہ ارکان کو کہاں سے کس بل کی حمایت کرنے کے لئے اشارے موصول ہوتے ہیں۔
بقول وجاہت مسعود، پاکستان میں یہ صورت حال نئی نہیں ہے۔ عمران خان البتہ ’نیا پاکستان‘ کے بینر کے ساتھ سیاسی رویوں کو تبدیل کرنے کے دعوے کرتے ہوئے اقتدار میں آئے تھے۔ انہیں اپنی اکثریت اور عوامی مقبولیت پر بھروسا تھا اور ان کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اس صورت حال میں تو انہیں کسی بھی طرح عسکری قیادت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی بجائے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر صاف لفظوں میں بتانا چاہیے تھا کہ کون سے عناصر ان کے فیصلہ سازی اور حق حکمرانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کی بجائے حکومت کے نمائندے میڈیا کے ذریعے یہ پیغام عام کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے ذریعے اقتدار لینا چاہتی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کا دست شفقت مسلسل موجودہ حکومت کے سر پر ہے۔ اس بیان بازی سے اور کچھ حاصل ہو یا نہ ہو البتہ یہ ضرور واضح ہوجاتا ہے ماضی کے حکمرانوں کی طرح عمران خان کا مطمح نظر بھی صرف اقتدار پر قبضہ قائم رکھنا ہے خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ قومی سلامتی پالیسی میں جس عوامی تحفظ کی بات کی گئی ہے، اس کے تحت پاکستان کو سیکورٹی ریاست سے فلاحی ریاست میں تبدیل کرنا ہی اصل مقصد ہو گا۔ اب یہ بنیادی سچائی سمجھنے کے لئے کسی پیچیدہ حساب کتاب کی ضرورت نہیں کہ اب تک ملک میں سیکورٹی کو اولین ترجیح حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی بہبود کے منصوبوں اور فلاحی شعبہ کو مناسب وسائل میسر نہیں آ سکے۔ سیکورٹی اسٹیٹ کے لوازمات پورے کرنے کے لئے ہی ایسی داخلی و خارجہ پالیسیاں اختیار کی گئیں کہ پاکستان اس وقت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ پر ہے اور اسے مسلسل دہشت گردی کا سرپرست ہونے کے الزامات کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں مذہبی شدت پسندی کی موجودہ صورت حال بھی سیکورٹی اسٹیٹ کی ضرورتوں کی پیداوار ہے۔ حالیہ دنوں میں اس شدت پسندی کا ایک مظاہرہ اکتوبر کے دوران تحریک لبیک کے احتجاج کی صورت میں دیکھا گیا جس کے سامنے حکومت کو بالآخر گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اسی رویہ کا دوسرا مظاہرہ اس ماہ کے شروع میں سیالکوٹ کی ایک فیکٹری کے سری لنکن منیجر کے بہیمانہ قتل کی صورت میں سامنے آیا تھا۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کو سیکورٹی سے فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے عسکری قیادت کو ساتھ ملانے کی بجائے تمام سیاسی قوتوں کو اکٹھا کر کے یہ واضح کرنا پڑے گا کہ اب سرحدوں پر بارود پھونکنے اور ہمسایہ ملکوں میں مداخلت کے غیر ضروری منصوبوں پر وسائل صرف کرنے کی بجائے بچوں کی تعلیم، نوجوانوں کے روزگار اور عوام کی صحت و خوشحالی کے معاملات ہماری ترجیح ہوں گے۔ قومی حکمت عملی میں یہ تبدیلی پاکستان کو اقوام عالم میں وقار عطا کر سکتی ہے اور ملکی معیشت کے لئے مہمیز ثابت ہوگی۔ تاہم اس مقصد کے لئے جس قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، وہ اس وقت موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی سماجی و سیاسی سطح پر یہ مزاج استوار کیا جاسکا ہے کہ کسی ملک کی حفاظت اس کے لوگوں کے اطمینان اور خوشحالی سے ممکن ہوتی ہے، بھاری بھر کم فوج یا اسلحہ کے ذخائر کسی ملک کا دفاع نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود قومی سلامتی پالیسی منظور کروانے کے بعد حکومتی نمائندے کے طور پر صرف معید یوسف ہی بلند بانگ دعوے نہیں کر رہے بلکہ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ ’نئی قومی سلامتی پالیسی ملکی تحفظ میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جامع منصوبہ کے ذریعے حکومت قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں میں باہمی ربط سے تبدیل شدہ عالمی ماحول میں درپیش چیلنجز کا سامنا کرے گی‘ ۔ میجر جنرل بابر افتخار عام طور سے ٹویٹ کے ذریعے قومی معاملات پر رائے زنی سے اجتناب کرتے ہیں تاہم قومی سلامتی پالیسی پر فوج کے ’اطمینان‘ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں بدنظمی اور معاشی مشکلات کی موجودہ بدترین صورت حال میں صرف تحریک انصاف کی حکومت ہی بدحواس نہیں ہے بلکہ عسکری حلقے یا اسٹیبلشمنٹ بھی چوکنا ہے اور کسی بھی طرح عوام کو مطمئن کرنے کی خواہاں ہے۔
وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ خود کو تبدیلی کی علامت بنا کر پیش کرنے والے عمران خان سے یہ توقع تھی کہ وہ اس حد تک تو دوسرے حکمرانوں سے مختلف ثابت ہوں گے کہ عوام سے جھوٹ نہیں بولیں گے اور انہیں گمراہ نہیں کریں گے۔ یہی چیز انہیں ماضی کے ان حکمرانوں سے ممتاز کر سکتی تھی جنہیں عمران خان مسلسل ’بدعنوان اور چور لٹیرے‘ قرار دے کر سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اب صورت حال یہ ہے کہ عمران خان مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں اور ہر وعدے سے یوٹرن لے رہے ہیں۔ انہیں خود اندازہ نہیں ہے کہ وہ تقریروں اور اجلاسوں میں جس معاشی کامیابی کے دعوے کرتے ہیں، وہ عوام کے لئے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں اور مسلسل ان کے غم و غصہ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ وجاہت مسعود کے بقول خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں حکومتی شکست آنے والے دنوں کی صرف ایک جھلک ہے۔ لہذا تصور کریں کہ جب مکمل تصویر سامنے آئے گی تو عمران خان کی عدم مقبولیت کا گراف کیسا ہو گا۔
