کیا بیگم فائز عیسیٰ ٹیکس کیس کا فیصلہ کہیں اور لکھا گیا؟

فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر ریاستی دباؤ کے حوالے سے بیگم جسٹس فائز عیسیٰ کے خدشات درست ثابت ہوئے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ایف بی آر نے آزاد عدلیہ کی علامت سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ کے ٹیکس سے متعلق جمع کروائے گئے جواب کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں ساڑھے تین کروڑ روپے واجب الادا ٹیکس کی مد میں جمع کروانے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ دوسری طرف بیگم فائز عیسیٰ نے ایف بی آر کے فیصلے کو افسانوی قراردیتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ فیصلہ ایف بی آر حکام نے خود تحریر نہیں کیا ہے۔
بیگم سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اُنھیں سنے بغیر یہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کی طرف سے رقم کی ادائیگی کا نوٹس چند روز قبل ہی بھجوایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرینا عیسی نے بیرون ممالک جو جائیداد خریدی اور رقم باہر بھجوائی اور جو ٹیکس ادا نہیں کیا اس کے حساب کتاب کے بعد اُنھیں ساڑھے تین کروڑ روپے ادا کرنا ہوں گے۔ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’متعلقہ حکام نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے قانون اور میرٹ پر کیس کا فیصلہ دیا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اگلے ہفتے ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے گی۔‘
واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے بیرون ملک اثاثے چھپانے سے متعلق صدارتی ریفرنس مسترد کردیا تھا تاہم عدالت نے ایف بی آر کے حکام کو ان کی اہلیہ کے خلاف ٹیکس کے معاملات کی تحقیقات سو دنوں میں مکمل کر کے اس کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ اگر اس جائیداد کی خریداری میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کوئی کردار ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل اس بارے میں از خود نوٹس لیکر مزکورہ جج کے خلاف کارروائی کی مجاز ہے۔ سپریم کورٹ کے اس مختصر فیصلے کو تین ماہ ہونے کو ہیں اور ابھی تک تفصیلی فیصلہ سامنے نہیں آیا جبکہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ چیلنج بھی کیا جا چکا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے فورا بعد جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ ریاستی ادارے ایف بی آر پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کریں گے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جیسے ہیں ایف بی آر نے جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے اثاثوں کا کیس دیکھنا شروع کیا حکومت نے ایف بی آر کے چیئرمین کو ہٹا کر ان کی جگہ ایک نیا آدمی لگا دیا۔ اب بیگم فائز عیسیٰ نے ایف بی آر کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قانون کے مطابق یہ اپیل ایف بی آر کے ایپلٹ ٹریبیونل میں کی جائے گی۔
دوسری طرف ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے رپورٹ سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے پیش کی جائے گی۔ ایف بی آر نے لندن میں جائیداد کی خریداری اور ٹیکسوں کے حوالے سے بیگم سرینا عیسیٰ کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 164 صفحات پر مشتمل آرڈر مرتب کیا ہے جو 14 ستمبر کو تیار ہوا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر ابھی تک سپریم کورٹ کو پیش نہیں کیا گیا۔ لیکن بیگم سرینا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ انھیں شک ہے کہ یہ آرڈر ایف بی آر میں تیار ہوا۔ انہوں نے بیرون ملک تین جائیدادوں کی خریداری میں کسی غلط کاری سے انکار کیا ہے.
ایف بی آر کی تحقیقات کا خلاصہ، اس کے جاری کردہ نوٹسز اور بیگم سرینا عیسیٰ کے جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آر حکام کا ان سے رویہ درست نہیں ہے اور انتقامی ہے۔ بیگم عیسیٰ کا۔کہ آ یے کہ ایف بی آر میری زرعی اراضی سے آمدنی کو خاطر میں نہیں لایا۔ مجھے 1982 سے کراچی امریکن اسکول سے جو تنخواہ ملی اس کا بھی شمار نہیں کیا گیا۔ کلفٹن میں میری دو پراپرٹیز کی فروخت سے حاصل منافع اور آمدن کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔
ایف بی آر کے شو کاز نوٹس کے مطابق سرینا عیسی کے وہائٹ اور ٹیکس ادا ذرائع 94 لاکھ روپے کے ہیں جو 30 جون 2013 کو ظاہر کردہ اثاثوں میں استعمال ہوئے جبکہ بیرون ملک انکی تین جائیدادوں کو ظاہر نہیں کیا گیا ۔ایف بی آر کے نوٹس کے جواب میں سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتیں ٹیکس حکام 94 لاکھ روپے کی غیر ملکی آمدن کا ریکارڈ کہاں سے لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ انوسٹیگیٹرز چاہتے تھے کہ میں انہیں ساری زندگی کمائے گے اپنے ایک ایک روپے کا حساب دوں لیکن یاد رہے کہ فنانس ایکٹ 2018 کے تحت کوئی شخص چھ سال سے زائد اپنے کھاتوں کا ریکارڈ رکھنے کا پابند نہیں ہے اور نہ ہی کوئی عام شہری اتنا لمبا عرصہ اپنا حساب کتاب سنبھال کر رکھتا ہے۔
