کیا علیم خان پر ریفرنس بزدار کی محبت میں فائل ہوا؟

وزیرا علیٰ پنجاب عثمان بزادر کو غیر قانونی شراب لائسنس کیس میں پھنستا دیکھ کر ایک بار پھر دل میں وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش پالنے والے عبد العلیم خان کے گرد بزدار کے چاہنے والوں نے نیب کا شکنجہ دوبارہ تنگ کروا دیا ہے۔ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب ریفرنس دائر ہونے کے بعد لگتا ہے کہ علیم خان کے دوبارہ سے طوطے اڑ چکے ہیں اور انہیں اپنا مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے۔ تجزیہ کار حیران ہیں کہ جب بھی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کرسی خطرے میں پڑتی ہے تو ان کی جماعت کے اندر انکے سیاسی مخالفین کے خلاف بھی کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال جب بزدار کی چھٹی کی افواہیں گرم ہوئیں تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے دو امیدواروں علیم خان اور سبطین خان کو نیب نے اندر کردیا تھا۔ اب جب بزدار غیر قانونی شراب لائسنس کیس میں پھنستے نظر آئے تو ان سے پہلے علیم خان پر نیب کا ریفرنس دائر ہوگیا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ کپتان اپنے نام نہاد وسیم اکرم پلس کو وزارت اعلی پر برقرار رکھنے کے لیے ہر ہتھکنڈا اپناتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال بزدار کے خلاف شراب لائسنس کیس کی تحقیقات شروع کیے جانے پر کپتان کی طرف سے اظہار ناراضی تھا۔ عمران خان نے لاہور میں یہ بیان بھی دے ڈالا کے نیب کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی کے خلاف اتنے چھوٹے سے الزام پر تحقیقات شروع نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ چنانچہ کوئی بعید نہیں کہ عمران خان بزدارکی جگہ لینے کے خواہش مند وزرا کو اس لئے اندر کرواتے ہیں کہ پنجاب کی سطح پر پارٹی میں بغاوت نہ ہو اور حکومت قائم رہے۔ پچھلی مرتبہ بھی علیم خان کو سبق سکھانے کے لئے اندر کروایا گیا لیکن کابینہ میں واپس آنے کے بعد علیم پھر سے متحرک ہوگئے تھے لہذا انہیں اندر کروانے سے نہ صرف بزدار کو سکون ملے گا بلکہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی جتلایا جائے گا کہ نیب حکومتی شخصیات کا بھی احتساب کر رہا ہے۔
نیب نے حال ہی میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے طاقتور سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان کے خلاف احتساب عدالت میں بدعنوانی کا ریفرنس داخل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان پر آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ 1 ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب حکومت کی تشکیل کے وقت علیم خان کو وزیر اعلٰی کے عہدے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا لیکن قرعہ فال عثمان بزدار کے نام نکلا۔ ق لیگ کی مدد سے پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد عبد العلیم نے بزدار کا دست و بازو بننے کی بجائے بطور سنیئر وزیر انہیں خاصا ٹف ٹائم دیا۔
تب کہا جاتا تھا کہ بزدار کلب روڈ کے وزیراعلیٰ ہیں جبکہ اصل طاقت 90 شاہراہ کے دفتر میں بیٹھنے والے عبدالعلیم خان ہیں۔ جب علیم خان نے بزدار کی جگہ لینے کے سیاسی چالبازیاں شروع کیں تو مبینہ طور پر کپتان نے انہیں باز رہنے کو کہا۔ جب بات نہ بنی تو فروری 2019 میں آمدن سے زائد اثاثوں اور بدعنوانی کے دیگر الزامات کے تحت انہیں نیب کے ذریعے گرفتار کروادیا تھا۔ تقریباً 100 روز جیل میں گزارنے کے بعد علیم خان نے گزشتہ سال مئی میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کی تھی۔ تب علیم خان نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیب اس قدر پرانے الزامات پر تاحال کرپش کا ریفرنس بھی عدالت میں نہیں لا سکا لہذا ضمانت دی جائے۔ رہائی کے کئی مہینوں بعد اپریل 2020 میں انہیں پنجاب میں آٹا سکینڈل منظر عام پر آنے اور جہانگیر ترین کے شوگر سکینڈل کے بعد غیر متحرک ہونے پر بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لئے دوبارہ صوبائی کابینہ کا حصہ بننے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس دوران وزیر جنگلات سبطین خان نیازی بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار بن کر میدان میں آئے تھے لہذا انہیں بھی کئی سال پرانے کیس میں نیب نے اندر کردیا تھا۔
نیب ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم کی زیر صدارت اجلاس میں سنیئر وزیر پنجاب عبد العلیم خان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ہے جنہوں نےحال ہی میں بیورو کے دورے کے دوران نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سے اس کی زبانی منظوری لی تھی۔ ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ سے باضابطہ منظوری کے لیے مزکوری ریفرنس کو نیب ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا ہے۔ریفرنس کے مجوزہ مسودے کے مطابق عبدالعلیم خان، جن کے پاس بلدیات اور فوڈ ڈپارٹمنٹ کا پورٹ فولیو بھی ہے، ملک میں اور بیرون ملک اپنے ایک ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثوں پر وضاحت نہیں دے سکے۔ مسودے میں کہا گیا کہ پاکستان اور پاکستان سے باہر علیم خان کی متعدد املاک کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے بارے میں وہ وضاحت دینے میں ناکام رہے کہ انہوں نے کس آمدنی کے ذرائع سے یہ حاصل کیا تھا، ان کے دو فرنٹ مین – عمر فاروق اور عمیر پر پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ریکارڈ سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور لاکھوں روپے فائدہ پہنچانے کا الزام ہے۔علیم خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے رئیل اسٹیٹ کاروبار کے لیے متعدد کمپنیاں قائم کیں اور کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔مسودے میں کہا گیا کہ ’06-2005 میں اندرون ملک اثاثوں کے علاوہ عبدالعلیم خان نے متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں آف شور کمپنیاں قائم کیں، آف شور کمپنیوں نے مہنگے ترین اثاثے حاصل کیے جو ان کی آمدنی کے معلوم وسائل سے بالاتر ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں واقع عبد العلیم خان کی ملکیتی پارک ویو ہاوسنگ سوسائٹی کا کیس بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چل رہا ہے۔ علیم خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سی ڈی اے حکام کے ساتھ مل کر سڑک کی زمین کو بھی سوسائٹی میں شامل کر لیا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کو استعمال کے لیے دے دی؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں بھی علیم خان اندر ہوسکتے ہیں۔
