کیا حریم شاہ کے والد نے قربانی دینے کا فیصلہ کر لیا؟

حریم شاہ کے والد سید ضرار حسین شاہ نے اپنی بیٹی کے یکے بعد دیگر سکینڈلز مارکیٹ ہونے اور اسکی جانب سے متنازع سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر خاموشی توڑتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے حریم شاہ کو دینی تعلیم دلوا کر عالمہ فاضلہ بنانا چاہا مگر وہ گمراہ ہو گئی۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کی حرکتوں سے جس جس کا دل دکھا ہے اس سے معافی مانگتا ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ حریم راہ راست پر آجائے اور اللہ مجھے قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کے والد سید ضرار حسین شاہ نے اپنی بیٹی کے حوالے سے کہا ہے کہ شاید مجھے اپنے مرحوم والد کی بددعا لگی ہے جس کی سزا میں اپنی بیٹی حریم شاہ کے گندے کرتوتوں کی صورت میں بھگت رہا ہوں۔ اللہ مجھے قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس قربانی کو قبول بھی کرے۔
اس جملے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خدانخواستہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ وہی سلوک نہ کریں جو ماڈل قندیل بلوچ کے ساتھ اس کے بھائیوں نے غیرت کے نام پر کیا تھا۔ 11 منٹ کی ویڈیو میں زاروقطار روتے ہوئے سید ضرار حسین شاہ نے کہا کہ میں نے زندگی میں ایک مرتبہ اپنے والد کا دل دکھایا تھا لیکن پھر ان سے معافی بھی مانگ لی تھی مگر اب مجھے لگتا ہے کہ شاید انہوں نے مجھے دل سے معاف نہیں کیا تھا لہذا میں حریم کی صورت میں سزا بھگت رہا ہوں۔
فضہ حسین المعروف حریم شاہ کے والد کا کہنا ہے کہ اپنا درد بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میری بیٹی کی غلط حرکتوں سے جن لوگوں کو اور رشتے داروں کو تکلیف پہنچی ہے،مجھے اس پر شدید صدمہ ہے اور میرے پاس معذرت کرنے کے لیے الفاظ بھی نہیں ہیں۔
حریم شاہ کے والد نے کہا کہ بحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ جسے چاہے عزت دیتا ہے او جسے چاہے ذلت دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے، میں نے اپنی زندگی میں کسی کا دل نہیں دکھایا، حریم شاہ کے والد نے کہا کہ میں نے بہت اذیتیں بھی اٹھائیں، مجھے اپنی ذات کی کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن ہمارے بزرگوں اور علاقے کے لوگوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر میں بہت رنجیدہ ہوں۔ میں کوشش کروں گا کہ ان کے دلوں کو نرم کر سکوں۔ ضرار شاہ نے مزید کہا کہ میری ناخلف بیٹی حریم شاہ کی غلط حرکتوں کی وجہ سے ہمارے ملکی وقار کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس پر میں بہت فکر مند ہوں۔ ضرار شاہ کا کہنا تھا کہ شاید میرے کسی ایک گناہ کی وجہ سے میری پوری قوم کو شرمندہ ہونا پڑا جس وجہ سے میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کو مکمل اسلامی تعلیم دلوائی اس نے بہت اچھے نمبر بھی لیے،ایک باپ جو بھی کر سکتا ہے میں نے کیا لیکن اس کا صلہ مجھے بہت برا ملا ہے۔ ضرار حسین نے ہموطنوں سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دعا کریں کہ میری بیٹی حریم شاہ دوبارہ سے فضہ شاہ بن جائے۔ اس کی وجہ سے جن کی عزت خراب ہوئی، جن کے دل دکھی ہوئے، میں ان سے بھی معذرت خواہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے بچے راتوں کو سو نہیں سکتے، لیکن آخر ہم بھی انسان ہیں، کسی طرح یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں، آپ لوگ دعا کریں کہ اللہ ہمارے خاندان کی عزت رکھ لے۔
حریم شاہ کے والد نے روتے ہوئے بتایا تو انکے سارے خاندان نے جہاد میں حصہ لیا اور ان کے چچا بھی جہاد کے دوران شہید ہوئے۔ سید ضرار شاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بحیثیت والد اپنی بیٹی کو دینی اور دنیاوی تعلیم دلوائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی فضہ حسین المعروف حریم شاہ الہدی انٹرنیشنل سے تعلیم القرآن حاصل کر چکی ہے۔ یہاں داخل کروانے کا مقصد اسے عالمہ فاضلہ بنانا تھا مگر وہ گمراہ ہو گئی۔ حریم شاہ کے والد نے کہا کہ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی گمراہ ہوگیا تھا مگر پھر بھی میں ان تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں بیٹی کی اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں، اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس ہدایت دے اور وہ دوبارہ حریم شاہ سے فضہ حسین بن جائے۔ ضرار شاہ نے کہا کہ وہ اللہ سے مایوس نہیں، انشاءاللہ حریم شاہ راہ راست پر آئے گی کیونکہ اللہ تعالی بڑوں بڑوں کو ہدایت نصیب فرما تا ہے۔ سید ضرار شاہ نے کہا کہ ہمارے خاندان کے کسی فرد کی وجہ سے پاکستانی معاشرے اور ملک کا نام خراب ہونا مجھے گوارا نہیں، اسی بے چینی میں مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی۔ ویڈیو پیغام کے آخر میں میں فضہ حسین المعروف حریم شاہ کے والد ضرار شاہ نے معنی خیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ مجھے قربانی کی توفیق دے اور اسے قبول بھی فرمائے۔
حریم شاہ کے والد کے اداکردہ ان جملوں سے یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں رسوائی سے تنگ آکر اس کے والد وہ سب نہ کر ڈالیں جو تین سال پہلے اس کے بھائیوں نے کیا تھا۔
