کیا حکومت چیف الیکشن کمشنر کو ہٹا سکتی ہے؟

حالیہ سینیٹ الیکشن اور پنجاب کے ضلع ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے تنازعات کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمیشنر سے استعفے کے مطالبے پر قانونی اور آئینی ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کیونکہ ماضی میں ایسی نظیر نہیں ملتی کہ کسی حکومت نے اس آئینی ادارے پر اس طرح سے عدم اعتماد کیا ہو اور اسکے سربراہ سے استعفی مانگا ہو۔ قانونی ماہرین کے مطابق تازہ ترین حکومتی مطالبے کی کوئی آئینی حثییت نہیں کیونکہ بطور آئینی ادارہ الیکشن کمیشن کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا وہی طریقہ کار ہے جو کہ سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یعنی حکومت کو راجہ سکندر سلطان کے خلاف ایک صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی سفارش پر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل یونسل میں دائر کیا تھا جو کہ مسترد کر دیا گیا۔ لہذا چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا حکومت کے لیے کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔
15 مارچ کو اسلام آباد میں تین وفاقی وزرا کی ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں رہا اس لیے ناصرف چیف الیکشن کمشنر بلکہ الیکشن کمیشن کو بحیثیت مجموعی استعفیٰ دینا چاہیے۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ انہیں اس مطالبے پر افسوس ہے کیونکہ یہ ایک نئی اور گندی روایت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کے کام میں مداخلت کرنا مناسب نہیں اور ماضی میں کسی حکومت نے الیکشن کمیشن پر اس طرح عدم اعتماد نہیں کیا۔ ’اس اقدام سے ملک میں آئینی اور قانونی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔‘
دوسری طرف الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے الیکشن کمشنر کی برطرفی کے مطالبے کا براہ راست تعلق تحریک انصاف کے خلاف اکبر ایس بابر کی طرف سے دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس سے ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈیویلپمنٹ (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن کے پانچوں ارکان سے استعفے کا مطالبہ انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں ان کا کہنا تھا کہ اس مطالبےکا سب سے زیادہ نقصان شاید حکومت کو ہی پہنچے گا۔ اسی حکومت نے تقریباً ایک سال قبل موجودہ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کو اتفاق رائے سے تعینات کیا تھا اور چیف الیکشن کمشنر کا نام خود وزیراعظم عمران خان نے تجویز کیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو آئینی تحفظ حاصل ہے لیکن حکومت پھر بھی اسے دبانے اور اس کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت الیکشن کمیشن کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور حکومت صرف ممبران کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر سکتی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر شفقت محمود پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ حکومت کا ریفرنس دائر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق حکومت کمزور وکٹ پر کھڑی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ اس وقت الیکشن کمیشن میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس زیر سماعت ہے جب کہ ڈسکہ میں متنازعہ ضمنی الیکشن کے بعد دس اپریل کو ایک بار پھر وہاں ضمنی انتخاب کا انعقاد ہونا ہے۔ ممتاز ماہر قانون اور سپیرم کورٹ کے وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ حکومت کا الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ بالکل غلط ہے انہیں اگر کوئی اعتراض ہے تو پہلے انکوائری کریں پھر ثبوت لائیں اور پھر ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس دائر کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین اور ممبران الیکشن کمیشن کو حکومت ان کی مدت مکمل ہونے سے قبل نہیں ہٹا سکتی اور اس کے مطالبے کی کوئی حثییت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں الیکشن کمیشن پر اپوزیشن کی طرف سے تنقید کی مثالیں موجود ہیں مگر یہ غیر معمولی ہے کہ اس بار حکومت کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے۔
قانونی ماہرین کا اس بات پر اتفاق یے کہ کپتان حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کے استعفی کے مطالبے کی بڑی وجہ تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس ہی ہے جسے پچھلے چھ برسوں سے لٹکایا جارہا تھا اور اب یہ امید کی جا رہی تھی کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اس کا فیصلہ کر دیں گے۔ یاد رہے کہ پچھلے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کے ساتھ بھی کپتان حکومت کا میچ فارن فنڈنگ کیس پر ہی پڑا تھا اور حکومت کو یہ خوف تھا کہ کہیں وہ اپنے عہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے اس کیس کا فیصلہ نہ کر دیں۔ جسٹس سردار رضا 5 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے تھے جس کے بعد راجہ سکندر سلطان نے 28 جنوری 2020 کو بطور چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ تاہم پچھلے پندرہ ماہ کے دوران بطور چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان بھی اس کیس کا فیصلہ کرنے میں اس لیے ناکام رہے ہیں کہ ان کی جانب سے بنائی جانے والی سکروٹنی کمیٹی تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے حوالے سے اپنا کام ختم کرنے پر آمادہ ہی دکھائی نہیں دیتی جس کی بنیادی وجہ حکومتی دباؤ ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب راجہ سکندر سلطان نے اسکروٹنی کمیٹی کو اپنا کام ختم کرنے کے حوالے سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا جس سے حکومت کو یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید الیکشن کمیشن اس کیس کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں اکبر ایس بابر کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات کی بنیاد پر تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ الزامات ثابت ہونے کے واضح امکانات ہیں اور اگر ایسا ہو جائے تو نہ صرف تحریک انصاف پر پابندی لگ جائے گی بلکہ وزیر اعظم عمران خان بھی نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں جس سے ان کی حکومت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ مانگ کر ان کو متنازع کر دیا جائے۔
یاد رہے کہ راجہ سکندر سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی چیف الیکشن کمشنر آئے ہیں ان کا تعلق عدلیہ سے رہا ہے اور سپریم کورٹ کا کوئی حاضر سروس جج ہی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ دایاں نبھاتا تھا۔ 22ویں آئینی ترمیم میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تعیناتی کے لیے صرف عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ریٹائرڈ بیورو کریٹس کو بھی ان اہم عہدوں پر تعینات کرنے کی شق منطور کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سکندر سلطان راجہ کا نام حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے تین ناموں میں شامل تھا۔ الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد پر حزب مخالف کی جانب سے اعتراض لگنے کے بعد سکندر سلطان راجہ کا نام شامل کیا گیا۔ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے جو تین نام دیے گئے تھے ان میں سے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے نام کو حتمی تصور کیا جا رہا تھا تاہم ان کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔ لیکن اب حکومت نے اپنے ہی لگائے گئے چیف الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا یے۔
