بزدار کو ہٹانے کا منصوبہ کیوں پروان نہ چڑھ سکا؟

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کی تحریک وقتی طور پر دم توڑ گئی ہے چونکہ نہ تو عمران خان ابھی ان کو ہٹانا چاہتے ہیں اور نہ ہی نواز شریف اس کھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سارا زور لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفوں پر ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست دلچسپ صورت حال سے دو چار ہے۔ مختلف ایشوز پر اہل سیاست کاموقف انتہائی دلچسپ ہے۔ کیا آپ یہ سن کر حیران نہیں ہوں گے کہ کئی معاملات میں مریم نواز اور عمران خان کا موقف ایک ہے اور کئی معاملات پر زرداری، پرویز الٰہی اور مقتدرہ کا نقطہ نظر ایک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ بزدار کی رخصتی کی افواہ گرم تھی مگر متبادل نام فائنل نہ ہونے کی وجہ سے یہ افواہ دم توڑ گئی۔ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ عمران خان اور نواز شریف دونوں پنجاب میں تبدیلی نہیں چاہتے۔ عمران خان اس لئے تبدیلی نہیں چاہتے کہ بزدار ان کا پسندیدہ ہے اور نواز شریف بزدار کو بدل کر پرویز الٰہی کو لانے کے حق میں نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں بزدار کی موجودگی میں بیڈگورننس سے تحریک انصاف کا نام بدنام ہو رہا ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے مقتدرہ اور آصف زرداری کے عزائم بھی ایک ہیں دونوں ہی یہ چاہتے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی لائی جائے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق زرداری بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کو لانے کےحامی ہیں جبکہ مقتدرہ بزدار کو ہٹا کر کسی بھی اور چہرے کو لانے کی حامی ہے۔ چودھریز آف گجرات کا موقف بہت ہی دلچسپ ہے وہ بھی فی الحال بزدار کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ اگر بزدار ہے تو پھر یقینی طورپر ان کی باری آئے گی چنانچہ وہ کسی اور کو بزدار کا متبادل بننے نہیں دینا چاہتے۔
سہیل وڑائچ نے پاکستانی سیاست کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے کہ کون سی جماعت اور اس کا سربراہ اس وقت کہاں کھڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز شریف بار بار نئے الیکشن کی بات کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی اسی مطالبے کے حامی ہیں لیکن دوسری طرف پی ڈی ایم میں ان کے اتحادی آصف زرداری فی الحال نئے الیکشن کے حامی نہیں، اسی لئے وہ فی الحال اجتماعی استعفے دینے کے حق میں بھی نہیں نظر آتے۔ اچنبھے کی بات ہے کہ نئے الیکشن کے حوالے سے چاہے غصے میں ہی سہی جو بات آئی ہے وہ خود وزیراعظم عمران خان کی طرف سے آئی ہے۔
سینیٹ الیکشن کے بعد ہونے والی میٹنگ میں ان کی اس بات کی باز گشت سنائی دی کہ اگر وہ دباؤ میں آئے تو اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کی طرف جائیں گے۔ گویا اس ایک معاملے پر بھی ن لیگ اور عمران خان کا موقف مل جاتا ہے۔ ملک کی مقتدرہ، آصف زرداری اور عمران خان چاہتے ہیں کہ سسٹم چلے جبکہ نواز شریف، مریم اور مولانا فضل الرحمٰن چاہتے ہیں کہ سسٹم ناکام ہو جائے مسلم لیگ ن کا مفاہمتی گروپ بھی یہ چاہتا ہے کہ سسٹم چلتا رہے اور سسٹم کے اندر ہی سے تبدیلیاں ہوں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ
مہرے نئے سرے سے کھڑے کئے جائیں گے اور کھیل بھی نیا ہوگا۔ سب سے پہلا مرحلہ تو ظاہر ہے لانگ مارچ کا ہوگا۔ اپوزیشن کی کوشش ہوگی کہ وہ بڑے سے بڑا کراؤڈ اسلام آباد لے کر جائے اور وہاں متاثر کن مظاہرہ کرے، وہاں زیادہ دن بیٹھنے یا دھرنا دینے پر فی الحال اپوزیشن کا اتفاق نہیں لیکن اگر مجمع زیادہ ہوا تو پھر حالات خراب بھی ہوسکتے ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی تلاطم رک جائے گا یا حالات نارمل ہو جائیں گے۔ فی الحال دو طرفہ تماشا جاری رہنے کا امکان ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اڑھائی سال گزرنے کے بعد عمران خان حکومت یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اس نے کامیابی کے کوئی جھنڈے گاڑ دیئے ہیں، گورننس کے سنجیدہ ایشوز میں تقرر اور تبادلوں میں عقل و فہم کی بجائے وقتی ضرورت کو مدنظر رکھا جاتا ہے، سیاسی فیصلوں میں جو دور اندیشی نظر آنی چاہئے وہ موجود نہیں۔
مہنگائی اور بے روزگاری کے تدارک کے لئے کوئی بھی قدم کارگر نہیں ہو پا رہا۔ معیشت کی بہتری کے لئے کافی اصلاحاتی فیصلے کئے گئے لیکن ان کا دائرہ بہت ہی محدود ہے، ملکی معیشت پر ان کا بہت زیادہ اثر نہیں پڑ سکا، یہی وجہ ہے کہ اس ناکامی سے مایوسی بڑھ رہی ہے اور حکومت سے جو امیدیں باندھی گئی تھیں وہ آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔ ان حالات میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہم جس طر ح کی ملکی اور غیر ملکی صورت حال سے دو چار ہیں ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کے لئے اپنی باقی ماندہ مدت میں چیلنجز اور بڑھیں گے۔ جتنی آسانی سے انہوں نے پہلے اڑھائی سال گزار لئے ہیں شاید اتنی آسانی سے وہ باقی وقت نہ گزار سکیں۔ اقتصادی دباؤ اور حزب اختلاف کا زور، دونوں مل کر عمران خان کو آنے والے دنوں میں پریشان کرتے رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان جارحانہ سیاست چھوڑ کر مفاہمتی رنگ اپنائیں، پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کریں، اپنے 5 سال پورے کریں اور ملک و قوم کے لئے بھی کچھ کر جائیں۔
