گیلانی کے مسترد شدہ 7 ووٹوں کا مستقبل کیا ہے؟

سینیٹ چیئرمین کے انتخابی معرکے میں پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نرسری میں پرورش ہانے والے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کی ڈرامائی جیت نے سیاسی صورتحال میں ایک نئے قانونی تنازعے کو جنم دیا ہے اور اب اس اہم ترین سیاسی معاملات کا فیصلہ بھی پاکستان کی غلام عدلیہ کرے گی۔ لہذا غالب امکان یہی ہے کہ فیصلہ بھی وہی آئے گا جو فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہے گی۔
جہاں ایک جانب حکومت صادق سنجرانی کی کامیابی کا جشن منا رہی ہے وہی حزب اختلاف پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ کی جانب سے اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹوں کو مسترد کرنے کے فیصلے پر تنقید کر رہی ہے اور اسی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ چیئرمین سینیٹ کے لیے ہونے والے انتخاب میں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی 48 ووٹ حاصل کر کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے ہیں جبکہ یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے اور ان کے سات ووٹوں کو مسترد قرار دیا گیا۔ اگر گیلانی کے سات مسترد شدہ ووٹوں کو درست تسلیم کر لیا جائے تو سنجرانی فارغ ہو جائیں گے اور گیلانی سینٹ کے چیئرمین بن جائیں گے جو موجودہ حالات میں نہ تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہے اور نہ ہی ان کے سلیکٹڈ وزیراعظم کو۔
سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر صدر عارف علوی کے مقررکردہ پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے ووٹوں کی گنتی کے موقع پر کہا کہ سات ووٹروں نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ایک ووٹ اس لیے مسترد ہوا کیوںکہ دونوں امیدواروں کے نام پر مہر لگائی گئی تھی۔ جس پر حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’سینیٹ کے قوانین و ضوابط کے تحت چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے طریقہ کار میں ووٹ بیلٹ پر مہر کہاں لگانی ہے اس پر وضاحت نہیں بلکہ جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس کے تحت امیدوار کے خانے کے اندر مہر لگانی ہے۔ یہ کہیں نہیں لکھا کہ خانے میں کس جگہ پر لگائیں، آپ جس مہر کی بات کر رہے ہیں وہ خانے کے اندر لگی ہوئی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’قوانین اور ضوابط میں یہ لکھا ہے کہ ووٹنگ خفیہ بیلٹ سے ہو گی۔‘ ان کا دلائل دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’سینیٹ سیکریٹریٹ کے عملے نے خود کہا ہے کہ خانے کے اندر مہر لگائی جائے اگر یہ مہر خانے کے باہر لگی ہے تو آپ کے پاس ان کو مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔‘
دوسری جانب حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ سینیٹر محسن عزیز نے پریزائیڈنگ افسر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سینیٹ انتخاب کے لیے ہدایات نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں پر چوتھے نقطے پر لکھا ہے کہ بیلیٹ پیپر حاصل کرنے کے بعد رکن پردے کے پیچھے جگہ جا کر اپنی پسند کے امیدوار کے نام کے سامنے، خانے کے اندر مہر لگائے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہاں یہ نہیں لکھا گیا کہ نام کے اوپر مہر لگائی جائے، لہذا یہاں جو لکھا گیا ہے وہ اس سے مختلف ہے جو اپوزیشن کہہ رہی ہے۔‘ اس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ’ہدایات نامے میں سینیٹ سیکریٹریٹ کی غلطی کا خمیازہ ووٹر کیوں بھگتے اور یہ عملے کی غلطی ہے اور تکنیکی بنیادوں پر ووٹ مسترد نہیں کیے جا سکتے۔‘
اسلام آباد میں سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں شکست کے بعد حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد کیے جانے پر عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن کیا سینیٹ کے انتخاب کو کسی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ اس ضمن میں پارلیمانی امور کے ماہر اور سابق ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حنفی کا کہنا ہے کہ ’قانون و آئین کے تحت پارلیمان کی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تاہم اگر کسی رکن کو پارلیمان کی کارروائی میں بے ظابطگی پر اعتراض ہو تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔‘ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سینیٹ انتخاب کے لیے سیکریٹریٹ نے جو طریقہ کار بنایا اس میں ابہام ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین نے خود ہی قانونی طریقہ کار کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ویسے تو پارلیمان کی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن فاروق ایچ نائیک کے اعتراض پر پریزائیڈنگ افسر نے یہ کہہ دیا تھا کہ اگر آپ کو میرے فیصلے پر اعتراض ہے تو آپ الیکشن ٹریبونل میں جائیں۔‘
کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ سینیٹ سیکریٹرٹ کے قوانین و ضوابط کے مطابق اس معاملے میں الیکشن ٹربیونل جانے کا جواز نہیں بنتا لہذا اس معاملہ پر اب اسلام آباد ہائی کورٹ یا خصوصاً سپریم کورٹ ہی فیصلہ دے سکتی ہے۔ ماضی میں مسترد ووٹوں کو تسلیم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 1997 میں سینیٹ انتخاب میں وسیم سجاد کے 18 ووٹ مسترد ہوئے تھے اور ڈپٹی چیئرمین ہمایوں میر کے بھی 18 ووٹ مسترد ہوئے تھے جنھیں وسیم سجاد نے بطور چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے بعد قبول کر لیا تھا۔‘ کنور دلشاد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومتی مؤقف بھی درست ہے کہ آپ ایوان کی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کر سکتے تاہم اس معاملے میں پریزائیڈنگ افسر خود الیکشن ٹریبونل میں جانے کا کہہ چکے ہیں لہذا الیکشن ٹریبونل کی غیر موجودگی میں یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں جائے گا۔‘
اس معاملے پر پلڈاٹ کے شریک ڈائریکٹر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد جی ڈی اے سے تعلق رکھنے والے پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے دیے جانے والا فیصلہ نہ صرف کمزور بلکہ غلط تھا۔‘ حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے لیے موجود آپشنز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ ان کے پاس اس فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے کیا طریقہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ شاید ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن درج کرائیں اور دیکھیں کہ وہ اسے قبول کرتی ہے یا نہیں اور اگر کرتی ہے اور اس کیس کی سماعت کی جائے اور اس پر فیصلہ دیا جائے تو یہ مستقبل کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ہائی کورٹ نے اس پٹیشن کو قبول نہ کیا تو پھر اپوزیشن کی جانب سے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے جانے کا امکان ہے۔
الیکشن کمیشن کے قانون کے متعلق کیے گئے سوال پر احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ چیئرمین کا انتخاب سینیٹ کے قوانین کے تحت ہوتا ہے اور الیکشن کمیشن کا اس سے عملی طور پر کوئی تعلق نہیں بنتا۔ اس بارے میں کنور دلشاد کہتے ہیں کہ اگر یہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے پاس جاتا ہے اور اپوزیشن کے وکلا الیکشن ایکٹ کا حوالا دیتے ہوئے ووٹر کی نیت پر بات کرتے ہیں تو سپریم کورٹ ماضی کے مقدمات کے فیصلوں کو ذہن میں رکھے گی اور الیکشن ایکٹ کے تحت قوانین کا جائزہ بھی لے گی جس کے مطابق یہ ووٹ درست قرار دیے جا سکتے ہیں کیونکہ ماضی میں ایسے ووٹوں کو مسترد نہیں کیا گیا۔ کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ یہاں ایک نقطہ یہ بھی اہم ہے کہ ایوان میں متعدد بار ہدایات دہرائے جانے کے بعد بھی ان سینیٹرز نے ان ہدایات کو ووٹ ڈالتے وقت مدنظر نہیں رکھا تو اس سے ان کی بدنیتی پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔
سابق ایڈیشنل سیکرٹری طاہر حنفی کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخاب میں بنیادی سوال یہ ہے کہ ہدایات کیا جاری کی گئی اور اگر گذشتہ روز ہونے والے انتخاب کی ہدایت نامے کا جائزہ لیا جائے تو اس میں واضح ہدایت ہے کہ مہر خانے کے اندر لگائی جائے، اس کی یہ تشریح نہیں کہ یہ نام پر یا اس کے سامنے مہر لگائی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتخاب عام آدمی کے لیے نہیں تھا بلکہ اراکین پارلیمان کے لیے تھا۔ ایسے انتخاب میں بار بار اعلان کیا جاتا ہے کہ اگر کسی کو کوئی ابہام ہے تو وہ سینیٹ سیکریٹریٹ کے عملے سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس طرح کے انتخاب میں اگر بیلٹ پیپر کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو نیا بیلٹ پیپر جاری کرنے کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہیں لہذا اگر کسی کو کوئی ابہام تھا تو اسے بیلٹ باکس میں ڈالنے سے قبل اسے سمجھ لینا چاہیے تھا۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینٹ کے الیکشن سے ایک روز پہلے اپوزیشن اراکین نے جب سیکرٹری سینیٹ سے ملاقات کی اور ان سے ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار پوچھا تو انہوں نے یہی بتایا تھا کہ امیدوار کے نام والے خانے کے اندر مہر لگائی جائے گی۔ اس ملاقات کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس سے کہ اپوزیشن کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔
واضح رہے کہ سینیٹ انتخاب الیکشن ایکٹ کے تحت نہیں کروائے جاتے بلکہ یہ سینیٹ کے اپنے قوانین و ضوابط کی شق نو کے تحت کروائے جاتے ہیں۔ اس انتخاب کا طریقہ کار وضع کرنا سینیٹ سیکریٹریٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس ضمن میں سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے ووٹ کے اندراج کے لیے وضع کردہ ہدایات نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور پریزائیڈنگ افسر ان ہدایات کی روشنی میں ووٹوں کے درست اندراج کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر عام انتخابات کی بات کی جائے تو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت بیلٹ پیپر پر امیدوار کا نام، امیدوار کا انتخابی نشان اور اس کے آگے ایک خالی خانہ بنا ہوتا ہے۔ الیکشن ایکٹ کی شق نمبر 80 کی ذیلی شق چار کا جائزہ لیا جائے تو اس کے مطابق اگر ووٹر بیلٹ پیپر پر موجود امیدوار کے نام، انتخابی نشان یا آگے موجود خالی خانے میں سے کہیں بھی مہر لگا دے تو اس کا ووٹ درست تسلیم کیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات میں نو خانوں والی مہر دی جاتی ہے اور الیکشن ایکٹ کی شق 80 کے تحت جس امیدوار کے نام، انتخابی نشان یا خالی خانے پر اس مہر کے زیادہ ڈبے چھپے ہوں گے، ووٹ اس کے حق میں تصور ہو گا۔
تاہم اب یہ دیکھنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے سات مسترد شدہ ووٹوں پر شروع ہونے والی قانونی جنگ کب شروع ہوتی ہے، کتنی لمبی چلتی ہے اور اس کا فیصلہ کس کے حق میں آتا ہے؟
