کیا سپریم کورٹ مکروہ نظریہ ضرورت کو زندہ کرنے جا رہی ہے؟

مسلم لیگ نواز نے سینیٹ الیکشن کے حوالے سے زیر سماعت صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واضح ترین آئینی شق موجود ہوتے ہوئے بھی سپریم کورٹ کی جانب سے مکروہ ترین نظریہ ضرورت کو زندہ کرنے کی کوشش ایک قومی المیہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سینیٹ میں اوپن بیلٹ بارے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کن بنیادوں پر سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار پر نظر ثانی کرسکتا ہے جبکہ اسکی کی وضاحت آئین میں موجود ہے۔ مریم نواز کی اس ٹویٹ کو حکومتی ترجمانوں نے توہین عدالت اور عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے مترادف قرار دیتے ہوئے عدالت سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا تھا کہ اگر سینیٹ الیکش کے حوالے سے آئینی ترمیم درکار ہے تو اس کام کو کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے علاوہ کوئی دوسرا فورم موجود نہیں ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ وہ صدارتی ریفرنس میں فیصلہ دیتے ہوئے غیرمعمولی احتیاط سے کام لے اور کچھ ایسا نہ کرے، جس سے یہ تاثر ملے کہ کسی کے ایما پر آئین کا چہرہ مسخ کر دیا گیا ہے’۔ مریم نواز کی جانب سے سینیٹ الیکشن کے معاملے پر عدالتی رویے اور الیکشن کمیشن کے کردار کے حوالے سے ٹوئٹر پیغام پر جہاں حکمران جماعت تحریک انصاف نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، وہیں نون لیگی رہنماؤں کا کہنا یے کہ انکی جماعت نے اس پیغام کے ذریعے ’اپنا موقف عوام تک پہنچایا ہے۔
آئینی اور قانونی ماہرین متفق ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ اور رشوت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے لیکن وہ یاد دلاتے ہیں کہ کہ اس کا رستہ پارلیمان سے نکلتا ہے، عدالت سے نہیں، جس کا دروازہ حکومت وقت نے کھڑکایا ہے اور اب اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ سے الیکشن کروانے کے لئے کیس دائر کر کے حکومت عدلیہ سے ایک غیر آئینی ھرکت کی کی حمایت کرنے کا کہہ رہی ہے۔ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے کہ وہ آئین کی محافظ بن کر سامنے آتی ہے، یا پھر اس معاملے کو پارلیمان پر اپنی افضلیت ثابت کرنے کے ایک اور موقع کے طور پر دیکھتی ہے۔
دوسری طرف مریم نواز کی ٹویٹ کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے جوابی ٹویٹ میں کہا کہ ’نواز شریف صاحب کی بیٹی سپریم کورٹ کو دھمکیاں دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس نے کہا کہ محترمہ ہمیشہ سے ضدی ہیں، بھلے زبردستی میڈیکل کالج میں داخلہ ہو یا چچا کو ہٹا کر پارٹی پر قبضہ کرنا۔‘شہباز گِل نے مزید کہا کہ ’ان کے والد نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اور بیٹی بھی اسی راہ پر گامزن ہیں۔ لیکن یاد رہے عمران خان این آر او دیں گے نہ ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل میں تبدیلی ہو گی۔‘انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مایوسی کا شکار ہے اسی لیے اداروں کو دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ریلیف مل سکے۔ ’اس معاملے کا سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہیے۔‘
شہباز گل کو جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سوال اٹھایا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے اپنے رہنما اور کارندے خود اداروں کا کتنا احترام کرتے ہیں؟ فارن فنڈنگ کیس ہو، فیصل واوڈا نااہلی کیس ہو یا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس، حکمران جماعت نے ہمیشہ اداروں پر تنقید کی ہے اور انکا آزادیوں کو محدود کیا ہے۔‘ بقول عظمیٰ بخاری: ’مریم نواز نے اسی معاملے پر کہا ہے کہ آئینی طور پر الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ صرف آئین پر چل سکتے ہیں اور اس میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کا ہے اس لیے الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ہی جواب دے، کسی غیبی ہاتھ کے ملوث ہونے سے یا حکومتی ہدایت پراپنا غیر آئینی جواب جمع نہ کرائیں اور سپریم کورٹ بھی آئینی طور پر اس معاملے کو نمٹائے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ آئین کا ہے اور اداروں کے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے آئینی فرائض انجام دینے سے متعلق بیان میں کون سی توہین ہے؟ پی ٹی آئی رہنما ہر معاملے پر اپوزیشن کی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی کوشش کرتے ہیں جس کا اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔‘ عظمی بخاری نے یاد دلایا کہ جب الیکشن کمیشن کے ترجمان نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بتایا کہ آئین میں سینیٹ الیکشن خفیہ طریقہ کار کے تحت ہی ہوتا ہے تو جواب میں چیف جسٹس نے انہیں پھر 24 گھنٹے کی مہلت دی اور کہا کہ وہ سوچ بچار کر کے دوبارہ عدالت میں آئے۔
اس ایشو پر اب سوشل میڈیا پر بھی صارفین اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، جن میں سے کچھ نے مریم نواز کے بیان پر تنقید کی ہے جبکہ اکثریت ان کی حمایت میں پیغام جاری کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے صدارتی ریفرنس کے ذریعے عدالت سے رائے مانگی ہے کہ کیا سینیٹ الیکشن آئینی ترمیم کے بغیر اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ حکومت سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خرید و فروخت سے بچنے اور شفاف انتخابات کے لیے شوآف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ الیکشن کروانا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کی منظوری دی تھی اور ریفرنس پر دستخط کیے تھے۔
عدالت عظمیٰ میں دائر ریفرنس میں صدر مملکت نے وزیر اعظم کی تجویز پر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کی تجویز مانگی ہے۔ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے کے لیے رائے دی جائے۔
بعد ازاں قومی اسمبلی میں اس حوالے سے ایک بل پیش کیا گیا تھا جہاں شدید شور شرابا کیا گیا اور اپوزیشن نے اس بل کی مخالفت کی، جس کے بعد حکومت نے آرڈیننس جاری کیا۔
صدر مملکت نے 6 فروری کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے اور آرڈیننس جاری کردیا گیا تھا، آرڈیننس کو الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 نام دیا گیا ہے جبکہ آرڈیننس کو سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے سے مشروط کیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق اوپن ووٹنگ کی صورت میں سیاسی جماعت کا سربراہ یا نمائندہ ووٹ دیکھنے کی درخواست کرسکے گا، اور واضح کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ سے سینیٹ انتخابات آئین کی شق 226 کے مطابق رائے ہوئی تو خفیہ ووٹنگ ہوگی۔ علاوہ ازیں آرڈیننس کے مطابق عدالت عظمیٰ نے سینیٹ انتخابات کو الیکشن ایکٹ کے تحت قرار دیا تو اوپن بیلٹ ہوگی اور اس کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا۔
تاہم اس حکومتی کوشش پر قانونی اور آئینی ماہرین کے علاوہ اپوزیشن رہنماؤں کا بھی یہی موقف ہے کہ سپریم کورٹ کو آئین پاکستان کا احترام کرتے ہوئے اس صدارتی ریفرنس کو مسترد کر دینا چاہیے۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کے مطابق عدالت کے سامنے یہ سوال نہیں ہے کہ اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخابات ہونے چاہئیں یا خفیہ ووٹنگ کے ذریعے۔ ان کے سامنے سوال صرف یہ ہے کہ کیا آئین میں اوپن بیلٹ کی گنجائش ہے یا نہیں۔ یہاں انہیں فیصلہ محض اتنا ہی کرنا ہے، اس سے آگے کچھ بھی کیا جائے گا تو وہ آرمی چیف کی توسیع والے کیس کی طرح اپنے پلے سے غیر قانونی طور پر چھ مہینے دینے جیسا ہی کچھ معاملہ ہوگا۔
مگر سوال دراصل یہاں یہ ہے کہ PTI کیوں چاہتی ہے کہ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ ظاہر ہے کہ عمران خان کا یہ خوف ہے کہ ان کے ممبران سینیٹ الیکشن میں ان کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انہیں ایسا دو وجوہات کی بنا پر لگتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کے ساتھ 2018 میں ایسا ہو چکا ہے کہ جب خیبر پختونخوا سے 6 اراکین رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی جس کا حجم کے حساب سے ایک بھی سینیٹر نہیں بنتا تھا، اس صوبے سے دو سینیٹر منتخب کروانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ دوسری طرف کچھ اطلاعات ہیں جو عمران خان کی راتوں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان کو علم ہے کہ ان کی پارٹی کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا کے مصداق بنائی گئی تھی۔ اس انکی حکومت میں شامل ہونے والے آدھے سے زیادہ لوگ تو آزاد تھے یا آخری چند روز میں PTI میں شامل ہوئے۔ انہی میں سے ایک جنوبی پنجاب محاذ بھی تھا جس کے تمام اراکین یکایک پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور جیت گئے۔ ایسے ہی ایک صاحب عثمان بزدار بھی ہیں۔ لہٰذا پارلیمنٹ میں PTI کے نظریاتی اراکین کی شدید قلت ہے۔ پیسہ چلے یا نہ چلے، سینیٹ انتخابات میں چند گروپس عمران خان کے من پسند سینیٹرز منتخب ہونے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس مشکل کو دور کرنے کے لئے لہٰذا خان صاحب نے اوپن بیلٹ کا طریقہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اسے وہ پارلیمان کی بجائے عدالت لے گئے ہیں کیونکہ پارلیمان میں کوئی ان سے اب بات کرنے کو تیار نہیں۔
حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ بانٹنے اور رشوت دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا راستہ پارلیمان سے نکلتا ہے، عدالت سے نہیں۔ عمران خان سپریم کورٹ کو ایک غیر آئینی اقدام کی حمایت کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے کہ وہ آئین کی محافظ بن کر سامنے آتی ہے، یا پھر اس معاملے کو پارلیمان پر اپنی افضلیت ثابت کرنے کے ایک اور موقع کے طور پر دیکھتی ہے اور پارلیمنٹ کی سوتن بنتے ہوئے کوئی غیر آئینی فیصلہ دے دیتی ہے۔
