کیا عدلیہ کو کھسی کرنے کے بعد ISI کے پر بھی کاٹے جائیں گے؟

سال 2006 میں بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے مابین طے پانے والے میثاق جمہوریت میں ایک وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے علاوہ تمام خفیہ اداروں کے سیاسی ونگز ختم کرنے اور انہیں حکومت وقت کے سامنے جوابدہ بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ اس میثاق کو 18 برس گزر جانے کے بعد ایک وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی کوششیں تو شروع کر دی گئی ہیں لیکن خفیہ اداروں کو حکومت وقت کے سامنے جواب دہ بنانے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہو پائی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت آئینی عدالت بنانے کے حوالے سے بھی جو پیشرفت ہو رہی ہے اس میں اتحادی حکومت کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ نے فوج سے حکومتیں بنانے اور گرانے اور وزیراعظم لانے اور بھگانے کا کردار چھین لیا ہے، ماضی میں فیض حمید جیسے سیاسی جرنیل مخصوص ججز کے ذریعے مرضی کے فیصلے حاصل کرتے اور اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے تھے، اس حوالے سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سپریم کورٹ میں بتا چکے ہیں کہ عمران خان کے دور حکومت میں جنرل فیض حمید کیسے سپریم کورٹ اور اسلام اباد ہائی کورٹ کے ججز سے مرضی کے فیصلے لینے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے۔ فیض حمید جیسوں نے ججز کو آئین اور قانون سے بالا ہو کر من مرضی کے فیصلے دینے کا جو چسکا لگایا تھا تھا آج وی عروج ہر پہنچ چکا ہے۔ آج چند عمراندار جج صاحبان اکٹھے ہو کر چیف جسٹس کو بھی اپنا یرغمالی بنا لیتے ہیں اور عدالتی مارشل لا نافذ کر کے من مرضی کے فیصلے دینے شروع کر دیتے ہیں۔ اسی لیے جسٹس منصور علی شاہ اور ان کے ساتھی جج صاحبان کی جانب سے مخصوص نشستوں کے فیصلے کو آئین دوبارہ سے تحریر کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ منصور علی شاہ اور ان کے ساتھی جج صاحبان موجودہ سیاسی بحران میں پوری ٹائمنگ کے ساتھ ہر نازک موڑ پر یا تو عمرانداری ہر مبنی کوئی فیصلہ جاری کر دیتے ہیں یا کوئی خط لکھ مارتے ہیں۔
لہٰذا ایسے میں ایک آئینی عدالت کا قیام ضروری ہو گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ کو غیر سیاسی کیا جا سکے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین طے پانے والے چارٹر آف ڈیموکریسی کے مطابق آئینی مسائل کے حل کےلیے ایک وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا وعدہ کیا گیاتھا۔ اس عدالت میں ہر وفاقی اکائی کو مساوی نمائندگی دینے کی گئی تھی۔ اس کے ارکان یا تو ججز یا پھر ایسے افراد ہو سکتے ہیں جو سپریم کورٹ کا جج بننے کے اہل ہوں۔ یہ عدالت 6؍ سال کےلیے قائم ہونا تھی۔ میثاق میں کہا گیا تھا کہ سپریم اور ہائی کورٹس باقاعدہ دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کریں گی۔ نئی عدالت کے ججز کا تقرر ایسے ہی ہوگا جیسے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا ہوتا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے تقرر کے حوالے سے میثاقِ جمہوریت میں لکھا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کےلیے سفارشات ایک کمیشن کے ذریعے مرتب کی جائیںں گی۔ اس کمیشن کا چیئرمین ایک چیف جسٹس ہوگا جس نے پہلے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو، کمیشن کے ارکان صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس ہوں گے جنہوں نے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔
کیا نئے ISI چیف کیلئے بھی سب سے بڑا چیلنج PTI سے نمٹنے کا ہے ؟
تاہم یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ 2006 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مابین طے پانے والے میثاق جمہوریت کی روشنی میں خفیہ اداروں کا سیاسی کردار ختم کرنے اور انہیں حکومت کو جواب دے بنانے کےلیے کارروائی کب شروع ہو گی۔ میثاق جمہوریت پر جزوی طور پر عمل تو کیا گیا ہے لیکن اس میں کیے گے وعدے اب تک وفا نہیں ہو پائے۔ سول ملٹری تعلقات کے بارے میں چارٹر آف ڈیموکریسی میں وعدہ کیا گیا تھا کہ ایم آئی، آئی ایس آئی اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں بالترتیب وزیراعظم سیکریٹریٹ، وزارت دفاع، اور کابینہ ڈویژن کے ذریعے منتخب حکومت کو جوابدہ ہوں گی۔ یہ طے پایا تھا کہ اس بارے سفارشات تیار کرنے کے بعد ان کے بجٹ کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی منظور کرے گی۔ تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سیاسی ونگز ختم کیے جائیں گے۔ ملک کے دفاع اور سلامتی کیلئے مسلح افواج اور سیکورٹی اداروں میں اضافہ کم کرنے کےلیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ بھی طے پایا تھا کہ ان ایجنسیوں میں سینئر عہدوں پر تمام تقرریاں متعلقہ وزارت کے ذریعے حکومت کی منظوری سے کی جائیں گی۔
