کیا ندیم انجم ISI کو اسکے اصل کام پر لگا پائیں گے؟

انٹر سروسز انٹیلی جنس کے نئے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی تعیناتی کے بعد ایک مرتبہ پھر اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی ہر سیاسی اور غیر سیاسی معاملے میں الجھ کر خود کو متنازعہ کرنے کی روش چھوڑ کر پاکستان کے بیرونی دشمنوں کی سازشوں کو کاؤنٹر کرنے کے اپنے اصل مشن پر توجہ مرکوز کرے گی تاکہ اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال ہو سکے۔
آئی ایس آئی کے نئے ڈی جی کی تعیناتی کا جس شدت سے انتظار کیا جارہا تھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قومی خفیہ ادارہ پاکستان میں کتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے بارے میں ایسا کیا ہے کہ پاکستان کے اندر اور باہر سے اسے ہمیشہ تنقید اور تنازعات کا سامنا رہتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ کسی بھی الیکشن میں دھاندلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پولیٹیکل انجینئرنگ، اور صحافیوں کے قتل اور اغوا جیسے الزامات بھی آئی ایس آئی پر لگ جاتے ہیں؟ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ایک ایسی ایجنسی جس کا اصل کام خود کو خفیہ رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف دشمن ممالک کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے، اپنی صل ذمہ داریوں سے ہٹ کر کھلم کھلا سیاسی ایجنڈے لے کر کیوں چلتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے پہلے سربراہ نہیں ہیں جن پر سیاست میں ملوث ہونے کا الزام لگا ہے۔ ان سے پہلے لیفٹیننٹ جنرل حمید گل، لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر بھی آئی ایس آئی کو سیاست میں ملوث کرنے کا الزام عائد ہوتا رہا ہے۔ تاہم فیض حمید کے دور میں جتنا کھلم کھلا آئی ایس آئی پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگا ایسا پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، لہذا لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے نئے آئی ایس آئی سربراہ بننے کے بعد اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ادارے کو غیر سیاسی کرکے اس کے اصل مشن پر فوکس کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
آئی ایس آئی کے ایک حاضر سروس افسر کے مطابق یہ پاکستان کی ‘پریمئیر’ انٹیلی جنس ایجنسی ہے جو خطے میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، اس سے اچھی طرح باخبر ہوتی ہے۔ افغانستان میں امن مذاکرات ہوں یا طالبان کابل میں حکومت بنائیں، دنیا پاکستان کی طرف دیکھتی ہے اور اسے ہماری مدد درکار ہوتی ہے، 1979 سے 2021 تک کے عرصے کے دوران آئی ایس آئی افغان معاملات میں پوری طرح ملوث رہی اور پاکستان کے مفادات کی نگہبانی کرتی رہی۔ آئی ایس آئی کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق بلاشبہ یہ آئی ایس آئی کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ ہم نے پاکستان کو بڑے نقصان یا افغان صورتحال کے نتیجے میں آنے والے بڑے منفی اثرات سے بچایا اور گزشتہ چالیس سال کے دوران خطے میں اپنے سلامتی کے اہداف کو حاصل کیا۔
دراصل آئی ایس آئی کی بنیادی ذمہ داری ملک کی مسلح افواج کا عملی اور نظریاتی تحفظ یقینی بنانا ہے جس کا اظہار اس ادارے کے نام یعنی انٹر سروسز انٹیلی جنس سے عیاں ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں سویلین بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں لیکن وہ اس ادارے کے تنظمی ڈھانچے میں غلبہ یا طاقت نہیں رکھتے۔ معروف مصنف ڈاکٹر ہین ایچ کیسلنگ نے اپنی کتاب ’آئی ایس آئی آف پاکستان‘ میں اس ادارے کا آرگنائزیشنل چارٹ یا تنظیمی خاکہ شامل کیا ہے۔ جرمن سیاسی ماہر ڈاکٹر کیسلنگ کی اسے کتاب کے مطابق انھوں نے 1989 سے 2002 کا عرصہ پاکستان میں گزارا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں واضح کیا ہے کہ یہ ایک جدید آرگنائزیشن ہے جس کا بنیادی مقصد خفیہ معلومات جمع کرنا ہے۔ ان کے مطابق سات آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹس اور محکموں کی متعدد پرتوں یا تہوں کے علاوہ اس کے کئی ‘وِنگز’ بھی ہیں۔ آئی ایس آئی کے تنظیمی ڈھانچے میں فوج کا غلبہ زیادہ ہے، اگرچہ بحریہ اور فضائیہ سے تعلق رکھنے والے افسران بھی تنظیم کا حصہ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اسلام آباد میں قائم غیر ملکی سفارت خانوں میں تعینات فوجی اتاشیوں سے رابطوں کے مرکز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح درپردہ وہ انٹیلی جنس امور پر وزیراعظم کے چیف ایڈوائزر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
ایک سینئر فوجی افسر کے مطابق مسلح افواج آرمی، ائیر فورس اور نیوی میں ایک الگ انٹیلی جنس ایجنسی ہوتی ہے جس میں ملٹری انٹیلی جنس، ائیر انٹیلی جنس اور نیول انٹیلی جنس شامل ہیں جو اپنی اپنی متعلقہ فوج کے لیے ضروری معلومات جمع کرتی اور فرائض بجا لاتی ہیں۔ آئی ایس آئی اور ان افواج کی ہر متعلقہ انٹیلی جنس ایجنسی کے امور کار میں کبھی کبھار ایک ہی قسم کی معلومات بھی اکٹھی کر لی جاتی ہیں کیونکہ سب ہی فوجی پیش رفت پر نظر رکھتی ہیں اور دشمن کی چالوں اور حرکتوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ لیکن فوج کی ترکیب میں دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مقابلے میں آئی ایس آئی سب سے بڑی، سب سے زیادہ مؤثر اور طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی سمجھی جاتی ہے۔
آئی ایس آئی ملک میں سب سے بڑی اور وسیع انٹیلی جنس ایجنسی تصور ہوتی ہے لیکن اس میں افرادی قوت کتنی ہے، اس بارے میں مقامی میڈیا یا غیر سرکاری شعبے میں کوئی تخمینہ یا اندازے دستیاب نہیں ہیں۔ آئی ایس آئی کے بجٹ کو کبھی عوام کے سامنے نہیں لایا گیا تاہم واشنگٹن میں قائم فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کی کئی برس پہلے کی جانے والی تحقیق کے مطابق ’آئی ایس آئی میں دس ہزار افسران اور سٹاف ممبر ہیں، جن میں مخبر اور اطلاع دینے والے افراد شامل نہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ چھ سے آٹھ ڈویژنز پر مشتمل ہے۔‘
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کا ‘آرگنائزیشنل ڈیزائن’ یا تنظیمی نقشہ بنیادی طور پر اسے ‘کاؤنٹر انٹیلی جنس آپریشنز’ یا جوابی خفیہ کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنے والی انٹیلی جنس ایجنسی بناتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ بریگیڈئیر (ر) فیروز ایچ خان نے پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں کلیدی عہدوں پر فرائض انجام دیے اور Eating Grass کے عنوان سے کتاب تصنیف کی۔ بریگیڈئیر (ر) فیروز ایچ خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’پاکستان کے تیسرے آمر جنرل ضیا الحق کو افغانستان میں سویت یونین کی مداخلت نے پریشان کر دیا تھا۔ اس پریشانی کے پیچھے بڑی وجہ بلاشبہ یہ حقیقت کارفرما تھی کہ طاقت کے نشے میں بدمست عالمی قوت ہمارے ملک کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ ایسی صورتحال میں کارٹر انتظامیہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی فوجی اور مالی مدد اطمینان کا ذریعہ تھی لیکن فوجی آمر کے لیے امریکی پیشکش ایک اور طرح کی پریشانی کا باعث تھی۔ امریکی مدد پاکستان کی معیشت کو توانا کرے گی اور فوجی استعداد کار میں اضافہ کرے گی لیکن دوسری طرف امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کے لیے زیادہ معلومات اور پاکستان کے اندر نگرانی کی سرگرمیاں درکار ہوں گی جس سے پاکستان کے قومی راز محفوظ رکھنے کی مشکل درپیش آسکتی تھی۔‘ بریگیڈئیر فیروز لکھتے ہیں کہ ضیا نے پاکستان میں امریکہ کی جانب سے خفیہ معلومات جمع کرنے کو ‘نیوٹرائلائز’ یا بے اثر کرنے اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کے شعبے میں پاکستانی انٹیلی جنس سروسز کی استعداد کار بڑھانے اور اسے ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’اس کا مطلب انٹر سروسز انٹیلی جنس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس وِنگ کے لیے فراخدلانہ بجٹ کی فراہمی تھا۔‘ ان دنوں امریکی انٹیلی جنس آپریشن زیادہ تر پاکستان کے خفیہ جوہری پروگرام سے متعلق تھے۔ دوسری جانب افغان جنگ کے نتیجے میں مغربی انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد میں مستقل بنیادوں پر خیمہ زن ہوچکی تھی۔ اس وقت کی فوجی حکومت نے حالات کے تقاضے کے تحت پاکستان کی انٹیلی جنس سروسز کو اس انداز سے تشکیل دیا کہ اس کی توجہ کا بنیادی محور ‘کاؤنٹر انٹیلی جنس’ آپریشنز تھا۔
دراصل فوجی اصلاحات کی تشریح سے متعلق لغت میں ‘کاؤنٹر انٹیلی جنس’ کا مطلب کچھ یوں دیا گیا ہے: کاؤنٹر انٹیلی جنس معلومات کا حصول اور غیرملکی حکومتوں، غیر ملکی تنظیموں، غیر ملکی افراد یا بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں یا ان کی ایما پر عناصر کی طرف سے کی جانے والی جاسوسی، دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیوں، سبوتاژ یا قتل کر دینے کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے کی جانے والی سرگرمیاں ہیں۔‘
فیروز ایچ خان کے نکتہ نظر کے مطابق جنرل ضیا الحق پاکستان کی انٹیلی جنس سروس آئی ایس آئی کی نقشہ سازی کے معمار تھے، وہ ایک ایسے انداز میں کاؤنٹر انٹیلی جنس کو چلانا چاہتے تھے جو دیگر تمام انٹیلی جنس سے بڑھ کر ہو یا اسے دیگر پر فوقیت و برتری حاصل ہو۔ لہذا پاکستان انٹیلی جنس سروسز کے ڈھانچے کا خاکہ وضع کیا گیا تاکہ وہ ترقی کرے، نشوونما پائے اور شفاف انداز میں آگے بڑھتی جائے اور اس کی اضافی توجہ ملک کے اندر اور باہر کاؤنٹر انٹیلی جنس پر مرکوز ہو۔ فیروز ایچ خان نے لکھا کہ ’ضیا الحق کے پاس آگے بڑھنے کی راہ قلیل تھی لیکن انہیں داؤ لگانا تھا۔ جوہری معاملے کو سفارت کاری سے کم کیا جاسکتا تھا اور امریکی انٹیلی جنس کے ذریعے معلومات کے حصول میں خطرات موجود تھے، اس مسئلے کو بہتر کاؤنٹر انٹیلی جنس سے حل کیا جاسکتا تھا۔‘ آج تک آئی ایس آئی کے اندر ڈائریکٹوریٹس کاؤنٹر انٹیلی جنس کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں جسے ‘جوائنٹ کاؤنٹر انٹیلی جنس بیورو’ (مشترکہ جوابی خفیہ کارروائیوں کے بیورو) کے نام دیا گیا ہے، جو سب سے بڑا ڈائریکٹوریٹ ہے۔
جرمن پولیٹیکل سائنٹیسٹ ڈاکٹر ہین جی کیسلنگ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ‘ایکسٹرنل’ ‘جے سی آئی بی’ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’اس کی ذمہ داری بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارت کاروں کی نگرانی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، چین، افغانستان اور سابق سویت وسط ایشیا کی نو آزاد ریاستوں میں انٹیلی جنس آپریشن کرنا ہے۔‘
‘جوائنٹ کاؤنٹر انٹیلی جنس بیورو’ کے چار ڈائریکٹوریٹس ہیں جن میں سے ہر ایک کو ایک الگ ذمہ داری تفویض ہے، ایک ڈائریکٹر غیرملکی سفارت کاروں اور غیرملکیوں کی فیلڈ نگرانی کو سنبھالتا ہے، ایک اور ڈائریکٹر بیرون ملک سیاسی انٹیلی جنس جمع کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، تیسرے ڈائریکٹر کی ذمہ دادری ایشیائی یورپ اور مشرق وسطی میں انٹیلی جنس کا حصول ہے، چوتھا ڈائریکٹر انٹیلی جنس امور میں وزیراعظم کے معاون کے طورپر خدمات انجام دیتا ہے۔ یہ ڈائریکٹوریٹ آئی ایس آئی کا سب سے بڑا ڈائریکٹوریٹ ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں خود آئی ایس آئی اہلکاروں کی نگرانی بھی شامل ہے جبکہ سیاسی سرگرمیوں کا حساب رکھنا بھی ہے۔ یہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور خطوں میں موجود ہے۔’
ڈاکٹر ہین کیسلنگ کی کتاب کے مطابق ’آئی ایس آئی کا دوسرا بڑا ڈائریکٹوریٹ بلاشبہ جوائنٹ انٹیلی جنس بیورو یا جے آئی بی ہے جو حساس سیاسی موضوعات سے متعلق ہے، اس میں سیاسی جماعتیں، مزدور یونینز، افغانستان، انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اور وی آئی پی سکیورٹی شامل ہے۔‘ جے آئی بی بیرون ملک پاکستان کے فوجی اتاشیوں اور فوجی مشیروں سے متعلق امور کار اور مناصب کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
ڈاکٹر کیسلنگ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ جوائنٹ انٹیلی جنس نارتھ جو جموں و کشمیر کا ذمہ دار ہے، اس کی بنیادی ذمہ داری انٹیلی جنس معلومات جمع کرنا ہے۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ’اسے جموں وکشمیر میں انٹیلی جنس جمع کرنے کی بھی ذمہ داری تفویض ہے۔ یہ کشمیری عسکریت پسندوں کو سبوتاڑ اور تخریبی سرگرمیوں کی تربیت، اسلحہ وبارود اور سرمایہ فراہم کرتا ہے۔‘ یاد رہے کہ پاکستان پر کسمیری عسکریت پسندوں کی مدد کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے۔ ڈاکٹر کیسلنگ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ‘جوائنٹ انٹیلی جنس یورپ، امریکہ، ایشیائی اور مشرق وسطیٰ میں جاسوسی پر مامور ہے اور جاسوسوں کے ذریعے ’آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز سے براہ راست یا پھر اپنے بیرون ملک تعینات افسران کی مدد سے بالواسطہ طورپر رازداری سے خفیہ معلومات جمع کرتا ہے۔ یہ اپنی جارحانہ کارروائیاں کرنے کے لیے تربیت یافتہ جاسوس انڈیا اور افغانستان میں استعمال کرتا ہے۔‘ ایک ریٹائرڈ سینئر فوجی افسر کے کے مطابق آئی ایس آئی پاکستان آرمی کے سائے میں کام کرتی ہے جو بے تحاشہ فوجی قوت فراہم کرتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ان کے تعلقات کار میں بعض اوقعات ’دراڑیں‘ بھی دیکھی گئی ہیں جو ماضی میں نمایاں ہوکر سامنے آئیں۔ اسی ریٹائرڈ سینئر فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’فوجی ماہرین مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 12 اکتوبر1999 کی بغاوت نواز شریف حکومت کے خلاف تو تھی ہی لیکن یہ آئی ایس آئی کی آرگنائزیشن کے خلاف بھی تھی جو بظاہر اپنے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضیاالدین بٹ کے ساتھ تھی جسے تب کے وزیراعظم نے چیف آف آرمی سٹاف تعینات کر دیا تھا۔‘ ریٹائرڈ سینئر فوجی افسر کے مطابق دوسری مرتبہ یہ ’دراڑ‘ تب نظر آئی جب مشرف دور میں آئی ایس آئی نے اپنا میڈیا وِنگ شروع کردیا تھا جس نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کیے۔ آئی ایس آئی کا میڈیا وِنگ بعض اوقات خودمختار اور آزادانہ انداز میں کام کرتا ہے اور اس مقصد کے بالکل برعکس ہوتا ہے جو آئی ایس پی آر کررہا ہوتا ہے۔ میڈیا پر اس وِنگ کے دباﺅ کا آئی ایس پی آر کے دباﺅ کے ساتھ متوازی اثر مرتب ہو رہا ہوتا ہے۔’
تاہم اب اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے آنے اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے جانے سے آئی ایس آئی اپنے کاونٹر انٹیلی جنس کے اصل مشن پر فوکس کرے گی اور ملکی سیاست سے دوری اختیار کرے گی۔
