کیا پاک چین سی پیک منصوبہ واقعی بند ہونے جا رہا ہے


عالمی سیاست میں آںے والی بڑی تبدیلیوں اور پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔
سی پیک کے ویسٹرن روٹ ہکلہ ڈی آئی خان کو دسمبر 2018 میں 129 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکموت بننے کے بعد یہ منصوبہ رواں برس مکمل ہونے کے اماکانات بھی انتہائی کم ہیں جس کی بنا پر ماہرین کا ماننا ہے کہ سی پیک منصوبہ لٹک گیا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آج جبکہ سی پیک کے جاری منصوبوں کے التوا میں پڑنے سے ان کی لاگت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، کیا حکومت یہ بتانا پسند کرے گی کہ یہ اضافی رقم کتنے ارب ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومت بدلنے کے ساتھ ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ آنے والی حکومتیں پچھلی حکومتوں کے منصوبے روک دیتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے میں تو پاک فوج ضمانتی تھی، پھر کیا ہوا کہ سی پیک کو قومی معاشی منظرنامے میں آج وہ حیثیت حاصل نہیں رہی جو نواز حکومت میں حاصل تھی؟
ان شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ سی پیک منصوبے کو امریکی دباؤ پر سرد خانے میں ڈالا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے سرکاری سطح پر بارہا سی پیک منصوبے پر اعتراضات کیے، کبھی اسے پاکستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا تو کبھی چینی کمپنیوں پر اس کے بہت مہنگا ہونے کے الزامات لگائے گئے۔ واضح رہے کہ امریکہ کو شاید چین کے عزائم کا بہت پہلے سے معلوم تھا اس لیے سی پیک سے پہلے ہی 2011 میں اس نے چنائی سے کابل نیو سلک روٹ کا منصوبہ پیش کر دیا تھا۔ دراصل امریکہ کو چین کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش تھی اور جنوبی اور وسطی ایشیا سے بہتر اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔امریکی سرمایہ کار بھارت میں صنعتیں لگا کر اپنے مال کو جنوبی، وسطی ایشیائی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں پہنچانا چاہتے تھے لیکن درمیان میں پاکستان آتا تھا۔ تب بھی بڑا مسئلہ یہی تھا کہ تنازعہ کشمیر کی موجودگی میں پاکستان کیسے بھارت کے راستے آنے والی کسی راہداری کا حصہ بن سکتا ہے؟ شاید یہی وہ وجہ تھی کہ جب امریکہ نے یہ منصوبہ پاکستان کو پیش کیا تو اس وقت کے صدر زرداری اسے لے کر چین پہنچ گئے۔ چین نے 2013 میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ پیش کر دیا اور پاکستان بخوشی اس کا حصہ بن گیا مگر آج اس منصوبے کے مستقبل کو کئی خدشات لاحق ہیں۔

سی پیک کے تحت بننے والے اقتصادی زونز جن پر 2018 میں چین میں روڈ شوز ہو رہے تھے، درجنوں چینی کمپنیاں سرمایہ کاری پر آمادہ تھیں لیکن اب اس کی بازگشت بھی کہیں سنائی نہیں دیتی۔ موجودہ ترقیاتی منصوبوں میں ان خصوصی اکنامک زونز کے قیام کا ذکر ہی گول ہے۔ کیا ایسا کسی سٹر یٹجک دباؤ کا نتیجہ ہے یا پھر چین اور پاکستان کی نئی قیادت میں دوریاں پیدا ہو چکی ہیں؟ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ سی پیک کو گیم چینجر قرار دینے والوں کی اپنی گیم ختم ہو چکی ہے۔ کہا جاتا یے کہ پاکستان اگر بہتر حکمت عملی اپناتا تو وہ دونوں اطراف سے ثمرات سمیٹ سکتا تھا۔ ایک کی بجائے دو بڑے تجارتی روٹ پاکستان سے گزرتے۔ امریکہ کے ساتھ چین کو بھی راہداری دے دی جاتی۔ ہو سکتا ہے کہ اس راہداری پر امریکہ کے جتنے بڑے معاشی مفادات وابستہ تھے وہ کشمیر پر بھی تصفیے کی کوئی راہ نکال دیتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button