کیا چینی پابندی لگنے کے بعد کتے کا گوشت نہیں کھائیں گے؟

کرونا وائرس سے ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد چینی حکام نے ملک بھر میں کتے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور کتے کو پالتو جانور کا درجہ دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ کتے کا گوشت چینی عوام کی ایک مرغوب ڈس ہے اور انداز ہر سال چین میں ایک کروڑ کتے کھائے جاتے ہیں۔ چینی لوگ کتے کو ذبح نہیں کرتے بلکہ اس کے سر میں ہتھوڑا مار کر اس کی جان نکالتے ہیں۔
تاہم اب تازہ اطلاعات کے مطابق چین میں کتوں کو مویشیوں یعنی لائیوسٹاک کے درجے سے نکال کر پالتو جانوروں میں شامل کر دیا گیا ہے جبکہ ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی کے شہر شینزن میں کتوں کا گوشت کھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
چینی وزارت زراعت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کرونا وائرس کی وبا کے ردعمل میں کئے جانے والے اقدامات میں سے ایک ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلہ میں کارفرما عوامل میں انسانی تہذیب کی ترقی اور عوام میں جانوروں کے تحفظ کا بڑھتا ہوا جذبہ بھی شامل ہے۔ کرونا وائرس کے جنگلی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے امکان کے باعث نہ صرف یہ نئی گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں بلکہ چین کے جنوبی شہر شینزن میں کتوں کا گوشت کھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ چینی عوام کتے کا گوشت کھائے بغیر رہ پاتے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ اب بھی ملک کے کئی علاقوں میں لوگوں کی ایک مرغوب ڈش ہے۔ قانونی طور پر اب کتے کے گوشت کی دستیابی آسان نہیں ہوگی چونکہ اب انسانوں کے لئے خوراک، دودھ، فر، فائبر اور ادویات کی فراہمی کے لئے پالے جانے والے تمام جانوروں بشمول کتوں کو لائیو سٹاک کے درجے سے نکال دیا گیا ہے اور پالتو جانور کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
چین کی وزارت زراعت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کتوں کو لائیو سٹاک میں شامل نہیں کیا جاتا۔ چونکہ کتوں میں انسان کا ساتھ دینے کی استعداد پائی جاتی ہے اس لئے اب ان کو مویشیوں کی بجائے پالتو جانوروں میں شمار کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ عام طور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کرونا وائرس چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے جو چین کے شہر ووہان کی جنگلی جانوروں کے گوشت کی مارکیٹ میں سے کسی اور جانور میں اور پھر اس جانور سے انسان میں منتقل ہوا۔ تاہم ابھی تک یہ تعین نہیں کیا جا سکا کہ چمگادڑوں سے انسان میں یہ وائرس منتقل کرنے والا جانور کون سا تھا۔
کرونا وبا کے پھیلنے کے بعد چین کی حکومت نے جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے اور ان کی تجارت پر عارضی پابندی عائد کرتے ہوئے اس حوالہ سے جاری کئے گئے تمام لائسنس منسوخ کر دیئے تھے اور اس پابندی کو مستقل کرنے کے لئے قانون سازی کا اعلان کیا تھا۔ چینی حکومت کے ان اقدامات کے تحت 18 جانوروں کو لائیو سٹاک میں شامل کیا گیا ہے جن میں سور، اونٹ اور پولٹری شامل ہیں۔جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہومین سوسائٹی انٹرنیشنل کے مطابق چین میں ہر سال ایک کروڑ کتوں کو ان کا گوشت کھانے کے لئے مار دیا جاتا ہے۔ادارے نے چینی حکومت کے کتوں کو ان کا گوشت کھانے کے لئے مارنے پر پابندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ چین اور دنیا کے دوسرے ممالک میں ہلاکت انگیز کرونا وائرس کے حوالے سے محققین اب تک اس سوال کا حتمی جواب حاصل نہیں کرسکے کہ آخر یہ وائرس کس جانور سے پھیلا اور انسانوں میں کیسے پہنچا۔ سائنسدان یہ پتہ لگانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ آخر یہ وبا کہاں سے پھیلنی شروع ہوئی۔ اب تک کی غیر حتمی ریسرچ کے مطابق چین کے کسی علاقے میں ہوا میں اڑتی ایک چمگادڑ نے اپنےفضلے میں کرونا وائرس چھوڑا جو جنگل کی زمین پر گرا جہاں پینگولین نام کے جانور نے اس فضلے کو کھایا اور اس وائرس کا شکار ہو گیا۔ یہ وائرس دوسرے جانوروں، ممکنہ طور پر کتوں میں پھیلا، جوکہ انسانوں کے ہاتھ لگا جنہوں نے اس کا گوشت استعمال کیا اور یہ بیماری انسانوں میں پھیلنی شروع ہوگئی اور پوری دنیا میں ایک وبا کی شکل اختیار کرنے لگی۔
