گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر پاکستانی ٹک ٹاک پر فلاپ

معروف سوشل میڈیا ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹا دی ہیں۔ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے 2022 کی دوسری سہ ماہی اپریل سے جون کے لیے نئی کمیونٹی گائیڈلائنز انفورسمنٹ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ یہ پلیٹ فارم پر غلط معلومات کو روکنے کے لیے کثیرالجۃتی نقطہ نظر کے ساتھ اپنی وابستگی کے اظہار کے طور پر جاری کی گئی ہے۔
2022 کی دوسری سہ ماہی میں کمیونٹی گائڈلائنز کی خلاف ورزی کرنے پر عالمی سطح پر ٹک ٹاکرز کی 11 کروڑ 3 لاکھ 51 ہزار 388 ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں، یہ تعداد ٹک ٹاک میں اپلوڈ کی گئی تمام ویڈیوز کا ایک فیصد ہے۔ دوسری جانب کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر صرف پاکستان سے ایک کروڑ 53 لاکھ 51 ہزار 388 ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں، ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائے جانے کی لسٹ میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔
ہٹائی جانے والی ویڈیو میں تقریبا 91 فیصد ویڈیوز کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹایا گیا جبکہ 98 فیصد ویڈیو کو ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے رپورٹ کرنے پر حذف کیا گیا، 97 فیصد ویڈیوز کسی بھی شخص کے دیکھنے سے قبل حذف کی گئیں۔ کمیونٹی گائیڈلائن کی خلاف ورزی کرنے کے علاوہ سپیم شدہ اکاؤنٹس کو بھی ہٹایا گیا ہے، اس کے علاوہ اِن اکاؤنٹس کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیوز کو بھی ہٹایا گیا ہے۔ٹک ٹاک نے رواں برس فروری کے دوران بھی دنیا بھر میں کمیٹی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی پر ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا تھا،
واضح رہے کہ رواں برس فروری میں بھی کمیونٹی گائیںڈ لائنز کی خلاف ورزی پر 60 لاکھ سے زائد پاکستانی صارفین کی ویڈیوز ڈیلیٹ کر دی گئی تھیں، ٹک ٹاک کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ یکم جولائی 2021 سے 30 ستمبر 2021 تک دنیا بھر کے صارفین کی 9 کروڑ 14 لاکھ 45 ہزار 802 ویڈیوز ڈیلیٹ کی گئیں تھیں جن میں 60 لاکھ 19 ہزار 754 پاکستانی صارفین کی شیئر کردہ ویڈیوز تھیں۔ ٹک ٹاک کے مطابق رواں سال امریکا کے شہر واشنگٹن ڈی سی، ڈبلن اور سنگا پور میں جدید ترین سائبر انسیڈنٹ مانیٹرنگ اینڈ انویسٹی گیٹنگ ریسپانس سینٹرز بھی قائم کیا جا رہا ہے جس کی مدد سے پلیٹ فارم پر شیئر ہونے والے مواد پر نظر رکھنا اور کوالٹی کو برقرار رکھنا ممکن ہوسکے گا۔
