گلوکار ابرارالحق نے یوتھیوں والی کون سی حرکت کردی؟


معروف گلوکار اور پی ٹی آئی لیڈر ابرارالحق نے یوتھیوں والی حرکت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ایک کم سن بچی کی روٹی پکانے کی ویڈیو کیا شیئر کی، سوشل میڈیا صارفین نے انہیں نشانے پر لے کر تنقید کے نشتر برسانے شروع کر دیے۔ ابرار الحق کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک چھوٹی بچی چولہے پر روٹی تیار کر رہی ہے، اسی دوران اس کی والدہ کی آواز بھی ویڈیو میں سنائی دیتی ہے۔ لیکن ابرارالحق پر تنقید اس لیے ہوئی کہ انکی ویڈیو کا کیپشن بہت قابل اعتراض تھق۔ انہوں نے کیپشن میں لکھا لہ ‘بچیوں کی تربیت کے لیے سب سے بہترین عمر یہی ہے’۔

گلوکار کی ٹوئٹ پر درجنوں افراد نے تنقیدی تبصرے کیے جبکہ اسے ری ٹوئٹ بھی کیا گیا۔ ویڈیو پر کمنٹ کرنے والے زیادہ تر افراد نے ابرارالحق کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر کی بچی سے روٹی پکوانا چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہے اور اس عمل کی تعریف کرنا زیب نہیں دیتا۔ کئی صارفین نے ابرار کو یاد دلایا کہ روٹی تیار کرنا ایک مہارت ہے اور اسکا بچی یا بچے سے کوئی تعلق نہیں۔ کچھ افراد نے لکھا کہ انہیں اس ویڈیو پر کوئی اعتراض نہیں مگر پہ ٹی آئی لیڈر نے جو کیپشن لکھا ہے وہ مناسب نہیں۔

اس ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے صحافی و بلاگر مہوش اعجاز نے انہیں یاد دلایا کہ روٹی پکانے کا تعلق کسی مخصوص صنف سے نہیں بلکہ یہ ایک مہارت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کاش یہی تربیت لڑکوں کو بھی دی جاتی اور ہم سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز بنا کر لوگوں کو فخر سے دکھاتے۔ سماجی کارکن اور وکیل ندا کرمانی نے ابرار کی ویڈیو پر رد عمل دیتے ہوئے لکھا لہ پاکستان سمیت متعدد جنوبی ایشیائی ممالک میں گول روٹی بنانے کو خواتین سے منسوب کیا جاتا ہے جو ایک طرح کا جبر بھی ہے اور اس مہارت کو کبھی مرد حضرات سے منسوب کیا ہی نہیں جاتا۔ ایک اور صارف نے گلوکار کی ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کی بات کو درست قرار دیا، تاہم ساتھ ہی انہیں یہ طعنہ بھی دیا کہ وہ دونوں صنف لکھنا بھول گئے۔ ثنا نامی لڑکی کے ٹوئٹر ہینڈل سے بھی ابرارالحق کی ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ فوٹیج میں کوئی برائی نہیں تاہم گلوکار کے کیپشن میں مسئلہ ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زن بیزار شخص ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ انکے گھر کے کام ان کے بھتیجے اور بھانجے کرتے ہیں اور وہ اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنید صفدر کا ولیمہ 17 دسمبرکو رائیونڈ میں ہو گا
اسی طرح دیگر درجنوں افراد نے بھی ابرارالحق کے کیپشن پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ روٹی پکانا دیگر مہارتوں کی طرح کی ایک مہارت ہے، جو مرد و خواتین دونوں کو آنی چاہیے۔ جہاں لوگوں نے ابرار پر تنقید کی، وہیں بعض نے ان کے حق میں بھی کمنٹ کیے اور لکھا کہ گلوکار کی جانب سے ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد اب لبرلز اور فیمنسٹ افراد آگ بگولہ ہوجائیں گے۔ خیال رہے کہ ویڈیو سے کچھ ہفتے قبل ابرسر نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ جب وہ بچے تھے تو مائیں اپنے بچوں کو قرآنی کلمات سنا کر سلاتی تھیں جب کہ آج کل کی مائیں بچوں کو موبائل فون پر ’بے بی شارک‘ گانا چلا کر سلاتی ہیں۔ اس بیان پر بھی تنقید کی گئی تھی۔ دودری جانب حال ہی میں ابرسر نے اسی بے بی شارک گانے کی طرز پر پنجابی اور اردو زبان میں ایک مکسڈ گانا ’بیگم شک کرتی ہے‘ جاری کر دیا۔ انہیں اس گانے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Back to top button