گیلانی کوووٹ نہ دینے کیلئےہمارے سینیٹرز کو دھمکی آمیز فون کالز آئیں

پاکستان مسلم لیگ ن نے الزام عائد کیا ہے کہ ’اس کے سینٹرز کو چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں صادق سنجرانی کو ووٹ ڈالنے کے لیے فون آرہے ہیں۔‘
جمعرات کو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ’ان کے سینیٹرز کو فون کالز آرہی ہیں کہ حکومتی امیدوار کو ووٹ دیں۔‘اس موقع پر مسلم لیگ ن کے سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ ’مجھے چھ،، سات اور نو مارچ کو فون کالز آئیں اور ان میں کہا گیا کہ ’آپ حکومتی امیدوار کو ووٹ دیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’میں نے فون کالز میں جواب دیا کہ ہم نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
حافظ عبدالکریم نے مزید کہا کہ ’میرے خلاف ایک پرانا کیس کھول دیا گیا اور الیکشن شیڈول کا اعلان ہوتے ہی ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے نوٹسز آنے لگے۔‘ان مبینہ دھمکی آمیز فون کالز پر سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما شاہد خان عباسی نے کہا کہ ’ہمارے سینیٹرز کو ٹیلی فون آرہے ہیں کہ ایوان میں نہ آئیں یا حکومتی امیدوار کو ووٹ دیں۔‘
’مجھے پہلی ٹیلی فون کال چھ مارچ کو واٹس ایپ پر آئی جو میں نہیں سن سکا۔ پھر سات مارچ اور نو مارچ کو بھی کالز آئیں۔‘
شاہد خان عباسی نے ان مبینہ فون کالز کے حوالے سے مزید کہا کہ ’یہاں کسی کا نام لینا مقصود نہیں، صرف خرابی کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں۔‘
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما نے اس سوال پر کہ یوسف رضا گیلانی کے بقول ان کے سینٹرز کو ایسی کوئی فون کالز نہیں آرہیں پر کہا کہ ’گیلانی صاحب کے سینیٹرز کو فون نہیں آرہے ہوں گے پر ہمارے سینٹرز کو آرہے ہیں اور ہم ریکارڈ دکھا سکتے ہیں۔‘ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں کو سینیٹ الیکشن میں مداخلت کےلیے استعمال کیا جارہا ہے، چیئرمین سینیٹ کےالیکشن کو متنازع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ابھی بھی وقت ہے کل کا چیئرمین سینیٹ کا الیکشن آئین کے مطابق کرایا جائے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پچھلےسینیٹ الیکشن میں جس شخص کوچیئرمین بنایا گیا اس کی پارٹی کا وجود ہی نہ تھا،جب تک وزیراعظم رہا میں اس ایوان میں نہیں گیا، میں اس ایوان کو نمائندہ ایوان نہیں سمجھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم 70 کروڑ روپے لےکرٹکٹ دے دیتا ہے،پارٹی کے دباؤپرٹکٹ واپس کردیتا ہے، پھرٹکٹ اسی کو جاری کرتا ہے،70 کروڑ روپے پاکستانی عوام کے منہ پر تھپڑ ہے۔
