ہمارا سٹریٹجک ڈیپتھ کا فوجی ڈاکٹرائن کس طرح ناکام ہوا؟

 

 

 

معروف صحافی اور لکھاری بلال غوری نے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مشورہ دیا ہے کہ سٹرٹیجک ڈیپتھ strategic depth یا تزویراتی گہرائی کے ناکام بیانیے کو زبردستی آگے بڑھانے کی بجائے حقیقت پر مبنی، شفاف اور دیرپا بیانیہ تشکیل دیا جائے، اس مقصد کے لیے فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان کھلی بحث ہو تاکہ ہماری آئندہ نسلیں ماضی کی غلطیاں دہرانے سے باز رہیں۔

 

یاد رہے کہ تزویراتی گہرائی کے موروثی منصوبے نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد سر اٹھانا شروع کر دیا تھا جو کہ عسکری سوچ پر مبنی تھا۔ اس تزویراتی گہرائی کا ایک جزو انڈیا پر نظر رکھنے کے لیے کشمیر تو تھا ہی لیکن اس کا اصل مرکز ڈیورنڈ لائن کا تحفظ کرنا اور ہمسایہ ملک افغانستان میں گہرا اثر و رسوخ حاصل کرنا بھی تھا۔ تذویراتی گہرائی کے ڈاکٹرائن کے مطابق پاکستان کو سقوط ڈھاکہ جیسے ایک اور سانحے کا انتظار کرنے کی بجائے پاکستان سے باہر اپنے کے دفاع کی حکمت عملی تیار کرنا تھی۔پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تزویراتی گہرائی کا چورن افغانستان میں جم کر فروخت کیا۔ روسی فوجوں کے خلاف امریکی سپانسرڈ افغان جہاد میں حصہ دار بننے کے لیے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے یہ جواز دیا کہ کابل میں ایک ایسی پاکستان دوست حکومت قائم ہونی چاہیئے جو بھارت کے اثر رسوخ سے آزاد ہو۔ لیکن کئی دہائیوں کی محنت کے بعد اس پالیسی کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، آج افغانستان کے طالبان حکمران کھل کر بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں اور احسان فراموشی کرتے ہوئے پاکستان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔

 

بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ ہم نے ’’تزویراتی گہرائی‘‘ یعنی عوامی زبان میں ’’سٹرٹیجک ڈیپتھ‘‘ کو ایک دفاعی نعرے کی صورت میں قبول کر لیا حالانکہ اس نظریے کی اصل حقیقت اور اس کے عملی نتائج پر کبھی اتفاق رائے نہیں رہا۔ اس تصور کو بسا اوقات افواجِ پاکستان سے منسوب کیا گیا، مگر اکثر فوجی افسران اب اس نظریئے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ تذویراتی گہرائی کا عسکری ڈاکٹرائن مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔

 

بلال غوری کہتے ہیں سٹرٹیجک ڈیپتھ کے دعوے اور اس کی افادیت پر اختلاف رائے ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اُن کے بقول، کامیابی کے دعوے آسانی سے بانٹے جاتے رہے مگر ناکامی کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں تھا۔ چنانچہ اب تزویراتی گہرائی کا ڈاکٹرائن یتیم ہوتا نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 16 اگست 2021 کو طالبان کے کابل میں داخلے کے بعد جو جھوٹی خوشخبریاں دی گئیں وہ دراصل غلط فہمی پر مبنی تھیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے افغان طالبان کے برس اقتدار آنے کو پاکستان کی تزویراتی گہرائی کی فتح بنا کر پیش کیا، مگر جلد ہی پتہ چلا کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف تحریک طالبان کا محفوظ ٹھکانے بن چکی ہے۔

 

بلال غوری یاد دلاتے ہیں کہ یہی وقت تھا جب عمران خان کی حکومت نے تحریک طالبان کے ساتھ امن معاہدے کرتے ہوئے ہزاروں جنگجوؤں کو پاکستان واپس آنے کی اجازت دی۔ ان امن معاہدوں اور جنگ بندیوں کی آڑ میں پاکستانی طالبان دوبارہ قوت حاصل کرنے لگے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہی عناصر جو افغانستان سے پاکستان مخالف کارروائیاں کر رہے تھے، پاکستانی سرزمین پر واپس آنے کے بعد یہاں سے اپنا جہادی ایجنڈا آگے بڑھانے لگے۔

 

بلال غوری کہتے ہیں کہ جب عمران خان اور فیض حمید کے اقتدار کے خاتمے کے بعد نئی قیادت نے ان عناصر کو سرحد سے دور آباد کرنے کی پیشکش کی تو کابل کے حکمرانوں نے مالی مطالبات پیش کرتے ہوئے 10 ارب روپے مانگ لیے۔ بلال غوری کے مطابق اس مرحلے پر واضح ہوا کہ محض بیانیے اور سفارتی تسلیاں مسائل کا حل نہیں۔

 

بلال غوری یاد دلاتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہا؛ بلکہ سفارتی، تجارتی اور معاشی سطح پر بھی آسکے اثرات مرتب ہوئے۔ اندرونِ ملک سیاسی صورتحال نے بھی معاملے کو پیچیدہ بنا دیا جس سے سرحدی چیلنجز میں بھی اضافہ ہو گیا۔ نتیجے کے طور پر پاکستان بیک وقت کئی محاذوں پر جدوجہد کرتا  دکھائی دیا۔

پاکستان نے انڈیا، اسرائیل اور افغانستان کو کیسے نکیل ڈالی؟

آخر میں بلال غوری نے زور دیا کہ ’’سٹرٹیجک ڈیپتھ‘‘ کو بطور بیانیہ دوبارہ اپنانے کی بجائے حقیقت پر مبنی، شفاف اور دیرپا پالیسیاں اپنائی جائیں، اور فوجی و سول قیادت کے درمیان کھری، غیر جذباتی گفتگو ہو تاکہ وہ سبق جو ماضی نے سکھائے ہیں آئندہ نسلوں کو بار بار نہ دہرانا پڑیں۔

Back to top button