یمن کے القاعدہ گروپ کا رہنما قاسم الریمی امریکی آپریشن میں مارا گیا

یمن کے القاعدہ گروپ کا رہنما قاسم الریمی امریکی فورسز کے آپریشن میں مارا گیا جس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کر دی ہے۔
خیال رہےکہ مذکورہ حملہ القاعدہ کی جانب سے امریکی بحرے اڈے پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد کیا گیا۔ قاسم الریمی 2015 سے القاعدہ جزیرہ نما عرب کی سربراہی کررہے تھے جس کا مقصد خطے میں مغربی اثر و رسوخ کوختم کرنا اور امریکا کی حمایت یافتہ حکومتوں کو گرانا ہے۔
2 فروری کو ای کیو اے پی نے 6 دسمبر کو فلوریڈا میں امریکی نیول ایئر اسٹیشن پینساکولا پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی تھی جس کے نتیجے میں سعودی فضائیہ کے افسر نے 3 امریکی ملاحوں کو ہلاک کردیا تھا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں داعش کے رہنما ابوبکر البغدادی اور اس کے 3 ماہ بعد ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا ہے۔ جنگجو گروہ نے سعودی حمایت یمنی حکومت اور دارالحکومت پر قابض باغیوں کے درمیان سالوں سے جاری خانہ جنگی میں افراتفری کو فروغ دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ قاسم الریمی کی قیادت میں خلیج نما عرب میں موجود القاعدہ نے یمن میں شہریوں پر غیرانسانی تشدد کیا اور امریکا اور ہماری فورسز کے خلاف حملوں کی کوشش کی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ اس کی موت سے اے کیو اے پی اور عالمی القاعدہ تحریک کو مزید مایوسی ہوئی اور ہم ان گروہوں کی وجہ سے ہماری قومی سلامتی کو لاحق خطرات کو ختم کرنے کے قریب ہوئے ہیں‘۔ڈونلڈ ٹرمپ نے آپریشن کے وقت اور حالات سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔
تاہم یہ ہلاکت یمن میں امریکا کی طویل ڈرون مہم کے حصے کے تحت جون 2015 میں قاسم الریمی کے پیشرو ناصر عبد الكريم الوحيشی کی ہلاکت کے بعد ہوئی ہے۔ جس کے اگلے سال اے کیو اے پی کے علاقائی امیر جلال بلعيدی عرف ابو حمزہ بھی جنگ زدہ ملک میں ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ جلال بلعیدی یمن میں متعدد صوبوں کے ذمہ دار تھے۔
امریکا نے 2013 میں یمن کے دارالحکومت صنعا میں مغربی سفارتی حکام اور مراکز پر بم حملوں کی منصوبہ بندی میں مبینہ مداخلت پر جلال بلعیدی کی موجودگی کی اطلاع دینے پر 50 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آپریشن سے متعلق کہا کہ ’ اس کی ہلاکت کے نتیجے میں امریکا، ہمارے مفادات اور ہمارے اتحادی محفوظ ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور ان کا خاتمہ کرکے امریکی عوام کی حفاظت جاری رکھیں گے‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button