فوج کوعمران کی دیوانگی کا راستہ روکنا ہوگا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمینٹ عمران خان کی دیوانگی کو مزید برداشت نہ کرنے کا فیصلہ جتنی جلدی کر لے گی، قومی سلامتی کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ انکا کہنا ہے کہ عمران نے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد فوج کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا، اسکی صفوں میں تقسیم کے بیج بوئے اور اسکے اتحاد کو کمزور کیا، چنانچہ انڈیا نے ان خدمات پر عمران کو سراہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران نے اپنی نفرت آمیز مہم سے مکالمے کا ماحول مکدر کر دیا اور آئین کو پامال کر کے زک پہنچائی۔ موصوف نے سفارتی روایات کو نقصان پہنچا کر پاکستان کو عالمی تنہائی سے دوچار کردیا۔ لہذا اب فوجی اسٹیبشلمنٹ کو اس نتیجے پر پہنچنا چاہیئے کہ اس کا ہائبرڈ سیاست کا تجربہ تباہ کن ناکامی تھا اور اس کھیل کے بنیادی کردار کو اب لگام ڈالنا ہوگی کیونکہ وہ دیوانگی کا شکار ہو چکا ہے۔
فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ عمران بے تابی سے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ وہ ایسے مودب میزبانوں کو انٹرویو دے رہے ہیں جو ان سے نرم اور من پسند سوال پوچھیں۔ گویا خان صاحب ایسی آسان گیندوں کا سامنا کررہے ہیں جن پر وہ آسانی سے چھکا لگا لیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جو خود اُن کے لیے ندامت اور پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال اُن کا وہ دعویٰ ہے جس کے مطابق اُن کی حکومت کسی ”مقامی سازش“ نے ختم کی۔ اب خان کا دعویٰ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ پی ڈی ایم گزشتہ جولائی سے ہی اُنکی حکومت ختم کرنے کے منصوبے بنا چکی تھی۔ یہاں وہ دلیل دیتے ہیں کہ اسی لیے وہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ان کی ”آنکھیں اور کان“ بن کر اپنے خلاف سازش کو جڑ پکڑنے سے پہلے ہی ختم کر دیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس فیصلے نے اُن کے اور جی ایچ کیو کے درمیان خلیج پیدا کردی کیوں کہ فوج اپنے داخلی معاملات میں باالخصوص تقرریوں اور تبادلوں میں کسی قسم کی مداخلت پسند نہیں کرتی۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ عمران کا لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا سہارا لینے اور اپنے بچاؤ کے لیے ان پر انحصار کرنے کا سلسلہ 2018 کے عام انتخابات تک پھیلا ہوا ہے جب ووٹوں کی گنتی کے دوران آرٹی سسٹم پراسرار طور پر بیٹھ گیا اور یوں تحریک انصاف کا اسلام آباد پہنچنے کا راستہ صاف ہو گیا۔ اس کے بعد ”خود بخود“ پی ٹی آئی کو حکومت سازی کے لیے آزاد اراکین، مسلم لیگ ق، جی ڈی اے، ایم کیو ایم، بی اے پی وغیرہ کی معاونت بھی حاصل ہو گئی۔ تاہم ہائبرڈ نظام حکومت کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد گزشتہ سال آرمی چیف، جنرل قمر باجوہ کی قیادت میں فوج کی ہائی کمان نے ”غیر جانبدار‘‘ ہونے کا فیصلہ کیا۔ طے ہوا کہ ہم نہ تو عمران کو سہارا دیں گے اور نہ ہی انہیں چلتا کرنے میں اپوزیشن کی مدد کریں گے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عمران نے اپنی نالائقی اور انتہائی بدعنوان حکومت کی وجہ سے خود کو سہار ا دینے والوں کی ساکھ مجروع کر دی تھی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں پر چلنے والے خان صاحب کا جانا ٹھہر گیا۔ اس کے بعد سے اب تک عمران خار کھاتے ہوئے اشارۃً بار بار کہہ رہے ہیں کہ انکی حکومت کے خاتمے میں آرمی چیف کا ہاتھ ہے۔
یاد رہے کہ اس سلسلے میں عمران بار بار سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر کا حوالہ دیتے ہیں جو غداری کرتے ہوئے انگریزوں کے ساتھ مل گیا تھا اور مسلمان فوج کو شکست ہو گئی تھی۔ یعنی وہ جنرل باجوہ کا موازنہ میر جعفر سے کر رہے ہیں جو کہ ماضی میں ان کے محسن رہے ہیں اور اب بھی انکے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایبٹ آباد کے جلسے میں عمران کی جانب سے آرمی چیف پر دوبارہ تنقید کے بعد فوجی ترجمان کی جانب سے ایک پریس پلیز جاری ہوئی جس میں کسی کا نام لیے بغیر فوج کو ملکی سیاست میں گھسیٹنے کی کوششوں کی مذمت کی گئی۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اب میدان سج گیا ہے۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نیٹ ورک نے جنرل قمر باجوہ پر بھرپور حملے شروع کردیے ہیں۔ الزام لگایا جارہا ہے کہ اُنہوں نے گریٹ خان کا ساتھ چھوڑکر حزب اختلاف کا عدم اعتماد میں ہاتھ بٹایا۔درحقیقت حاضرسروع اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے ذریعے آرمی چیف پر بے پناہ دباؤ ڈالا جارہا ہے جس کا مقصد جنرل باجوہ کی غیر جانب داری ختم کرکے عمران کو ایک بار پرمسند اقتدار پر بٹھانے میں مدد دینے پر آمادہ کرنا ہے۔ اب میدیا میں عمران کے حامیوں نے اپنی پٹاری سے دو تازہ الزامات نکالے ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ جی ایچ کیو والے اسد مجید خان کے ”خط“ سے 8 مارچ کو ہی آگاہ ہو گے تھے کیوں کہ اس کی نقول ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی ایم او اور سی او ایس کو بھی بھیجی گئی تھیں، لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسے 12 مارچ کو پڑھا۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جی ایچ کیو نے جان بوجھ کر یہ معاملہ دبایا تا کہ عمران کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہوجائے۔ لیکن بقول سیٹھی، یہ بات ہی مضحکہ خیز ہے۔ اگر پی ڈی ایم کی جی ایچ کیو سے ساز باز گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوگئی تھی تو اسے کامیاب ہونے میں نو ماہ کیوں لگے؟ یقینا اس کی کامیابی کے لیے اتنا ہی درکار تھا کہ حکومت کے حامیوں کو آنکھ کا اشارہ ہوجاتا۔ ان کے پیچھے ہٹنے سے اعتماد کا ووٹ برقرار نہ رہ پاتا اور چشم زدن میں حکومت تبدیل ہوجاتی۔ لیکن حکومت کو اس مختصر سی کاوش میں نو ماہ کیوں لگے؟ وہ اس لیے حکومت کے اتحادیوں کے ساتھ معاملات طے کرنا تھے اور عدم اعتماد کے لیے درکار ووٹوں کی گنتی پوری کرنا تھی۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اسکے بعد حکومت کی تبدیلی کے پیچھے امریکی سازش پر بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ اگر اس کا اولین اظہار 8 مارچ کا خط تھا تو عمران نے اسے ظاہر کرنے کے لیے 27 مارچ تک کا انتظار کیوں کیا؟ اگر پی ڈی ایم حکومت نے عمران کا مطالبہ مان کر اس کے مواد کی تحقیقا ت کرانے کا فیصلہ کیا ہے تو اب وہ آزاد انکوائری کمیشن کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟ اگر جی ایچ کیو اور پی ڈی ایم نے گزشتہ جولائی مین عمران کو چلتا کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا تو پھر اس میں نو ماہ بعد امریکی سازش کہاں سے آگئی اور پھر امریکہ کو پاکستان میں حکومت تبدیل کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ سوال یہ بھی ہے کہ عمران خان نے امریکہ مخالف کون سے ایسے اقدامات کیے تھے جن پر وائٹ ہاؤس نے برہم ہوتے ہوئے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کا بٹن دبا دیا تھا؟ سوال یہ بھی یے کہ جب پاکستان نے 1998 میں امریکی ترغیب کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 6 ایٹمی دھماکے کیے تھے تو کیا امریکہ نے حکومت تبدیل کرنے کا حکم دیا؟ جب پاکستان نے 1990 کی دہائی میں سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا تو کیا امریکہ نے حکومت تبدیل کرنے کا حکم دیا؟ جب پاکستان نے 2000 کی دہائی میں افغانستان میں اپنے مفادات کے لیے دہرا کھیل کھیلا تھا تو کیا امریکہ نے حکومت تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا؟ جب پاکستان نے افغانستان کے لیے نیٹو سپلائی بند کردی تو کیا امریکہ نے حکومت ختم کرنے کا حکم دیا تھا؟ ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔
نجم سیٹھی کے بقول، عمران کا یہ موقف انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ امریکہ کو فوجی ٹھکانے دینے سے انکار پر اُن کی حکومت تبدیل کرائی گئی، جب کہ امریکہ نے ایسی کوئی سہولت مانگی ہی نہیں تھی۔ نہ ہی عمران کا ایک روزی دورہ ماسکو ایسی انقلابی پیش رفت کا حامل تھا کہ اس نے عالمی سیاسی حرکیات کو تہہ و بالا کردیا ہو، یا اس دورے میں روس نے پاکستان کو ایسی کوئی رعایت دے دی تھی جس نے مغربی طاقتوں کی عائد کردہ پابندیوں کی دھجیاں بکھیر دیں اور امریکہ نے تلملاتے ہوئے پاکستان میں حکومت تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ اب عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کی سازش کو جولائی 2021 کے ذکر سے جوڑا ہے۔ اسے جی ایچ کیو اور پی ڈی ایم سے منسوب کرنے کی کوشش دراصل اس حوالے کی یاد دلاتی ہے جس کا ذکر جنرل فیض حمید کے معاملے پر کیا جاتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب عمران نے گزشتہ سال نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری میں تاخیر کی تھی۔ اب نام لے کر عمران نے خود ہی سب کچھ طشت ازبام کر دیا ہے۔ جنرل فیض یقینا سخت شرمندہ ہوں گے۔ اس حوالے سے 9 اپریل کی اہم رات وزیر اعظم ہاؤس میں پیش آنے والے کچھ واقعات کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس رات دو ہیلی کاپٹروں سے چند طاقت ور افراد اترے اور عمران کو فوج کی ہائی کمان میں تبدیلی کا نوٹی فیکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔
نجم کہتے ہیں کہ اب عمران کی امیدوں کا محور اسلام آباد کی طرف لاکھوں افراد کا مارچ ہے تاکہ ہنگامی حال برپا کرکے فوج کو مداخلت اور نئے انتخابات کے اعلان پر مجبور کردیں۔ عمران کا خیال ہے کہ اگر وہ فوج کو حکومت کے خلاف مداخلت پر اکسا لیں گے تو پھر وہی فوج ایک مرتبہ پھر انہیں وزارت عظمی کی کرسی پر بٹھا دے گی۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایسا جلد از جلد ہو جائے تاکہ جب نومبر 2023میں جنرل قمر باجوہ ریٹائر ہوں اور نئے آرمی چیف کو نامزد کرنا ہو تو اقتدار اُن کے پاس ہو اور وہ اپنی مرضی کے بندے سے فیض حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ لیکن بقول سیٹھی، حقیقت یہ ہے کہ اپنے پورے چار سالہ دور حکومت میں عمران خان نے معیشت کو دیوالیہ کردیا۔ اُنہوں نے پسند اور ناپسند کا کھیل کھیلتے ہوئے فوج کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا، اس کی صفوں میں تقسیم کے بیج بوئے، اس کے اتحاد کو کمزور کیا اور بھارت نے ان خدمات پر عمران و سراہا۔ لہذا جتنی جلدی اسٹبشلمنٹ اس نتیجے پر پہنچ جاتی ہے کہ عمران کی دیوانگی کو اب مذید برداشت نہیں کیا جا سکتا، قومی سلامتی کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا۔
