صبا قمر نے بھارت اور پاکستان میں خود کو کیسے منوایا؟


ڈراموں کی دنیا سے شوبز انڈسٹری میں داخل ہونے والی اداکارہ صبا قمر نے مستقل مزاجی سے کام کرتے ہوئے خود کو پاکستانی اور بھارتی فلم انڈسٹری میں بھی منوا لیا ہے۔ صبا قمر نے حال ہی میں پاکستانی فلم ‘گھبرانا نہیں ہے’ میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، اس فلم میں ان کے کردار کو خوب پسند کیا جا رہا ہے، چند ماہ قبل ان کی ویب سیریز ‘مسز اینڈ مسٹر شمیم’ اور ‘نینا کی شرافت’ بھی ریلیز ہوتے ہی مقبول ہوگئی تھیں، اداکارہ کے چاہنے والے جلد انہیں فلم ‘کملی’ اور نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ڈرامے ‘فراڈ’ میں دیکھیں گے۔

فلمیں، ڈرامے اور ویب سیریز تینوں ہی پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے حوالے سے صبا قمر نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ان اداکاراؤں سے مختلف ہیں جو خود کو صرف ایک ہی پلیٹ فارم کے لیے موزوں سمجھتی ہیں، صبا قمرکے مطابق وہ خود کو صرف کیمرے کے سامنےموزوں سمجھتی ہیں، ویب سیریز ہو یا ٹی وی، فلم ہو یا خبریں، انہیں کیمرے کے سامنے آنا اچھا لگتا ہے۔ دو ماہ قبل بھارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارم ‘زی فائیو’ پر صبا قمر کی ویب سیریز ‘مسز اینڈ مسٹر شمیم’ ریلیز ہوئی تھی جس میں ان کے ساتھ نعمان اعجاز کی پرفارمنس کو بے حد پسند کیا گیا تھا، اس سیریز میں صبا قمر نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا تھا جو مشکلات کے باوجود حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور مشکل قدم اٹھانے سے نہیں ڈرتی۔

‘مسز اینڈ مسٹر شمیم’ میں جہاں ان کے نوجوان سے بڑھاپے کے کردار کو لوگوں نے سراہا وہیں چند نے اس پر اعتراض بھی کیا، تاہم صبا قمر سمجھتی ہیں کہ اگر انہیں کردار نبھانے کے لیے سر بھی منڈوانا پڑ جائے تو وہ اس سے دریغ نہیں کریں گی۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ فنکار ایک کریکٹر ہے جس کا عمر سے کوئی تعلق نہیں ہے،وہ کردار کے لیے 100 سال کی بڈھی بننے، 15 بچوں کی اماں بننے یہاں تک کہ اپنا سر منڈوانے کو بھی تیار ہیں، ان کے بقول کریکٹر کی جو ڈیمانڈ ہے آپ کو وہی کرنا چاہئے، اداکار تو کریکٹر کا بھوکا ہوتا ہے، گھبرانا نہیں ہے کی کہانی میرے کردار کے گرد گھومتی ہے۔

صبا قمر نے بتایا کہ جس طرح 70 کی دہائی میں پاکستانی فلموں کی کہانی اداکارہ شبنم اور 80 کی دہائی میں بابرہ شریف کے گرد گھومتی تھی ویسے ہی ‘گھبرانا نہیں ہے’ کی کہانی اُن کے کردار کے گرد گھومتی ہے، میں ایسا کردار نہیں کرتی جو میرے اندر کے ایکٹر کو چیلنج نہ کرے۔ صبا قمر کے مطابق ہمارے معاشرے میں آج بھی عورتوں کو اپنی بات منوانے میں مشکل پیش آتی ہے اور ‘گھبرانا نہیں ہے’ ایسی ہی لڑکیوں کی کہانی ہے۔ زوبی کی جدو جہد اور تگ و دو کو دیکھ کر اسکرین پر بہت ساری بچیوں کو اپنا آپ نظر آئے گا، صبا قمر کے مطابق ہمارے ہاں اچھی فلمیں تو بن رہی ہیں لیکن فلموں کو ابھی اوپر آنے میں وقت لگے گا اور وہ اس وقت تک ٹی وی نہیں چھوڑ سکتیں جب تک ہماری فلمیں اس لیول پر نہ پہنچ جائیں کہ انہیں ٹی وی چھوٹا لگنے لگے۔

اداکارہ نے بتایا کہ مستقبل میں ان کا ہدایت کاری میں آنے کا پلان ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اداکاری کو خیرباد کہہ دیں گی، احسن اور میکال کے ساتھ کام کے حوالے سے اداکارہ نے بتایا کہ ‘یہ ہم تینوں کو پتا تھا کہ ہم دس سال بعد کام کر رہے ہیں لیکن ہم نے کسی کو نہیں بتایا، شکر ہے کہ ان دس برسوں میں ہم لوگوں کی شکلوں میں اور عادتوں میں زیادہ فرق نہیں آیا۔ میکال ویسا ہی نرم مزاج اور پیارا ہے جیسے پہلے تھا، احسن اپنے کام سے اتنا ہی لگاؤ رکھنے والا ہے اور میں بھی ویسی ہی ہوں، اگر ‘پانی جیسا پیار’ والی صبا قمر سے میری ملاقات ہوجائے تو میں اس سے کہوں گی کہ غلطیاں کرتی جاؤ تاکہ مستقبل والی صبا قمر کو سیکھنے کا موقع ملے۔

Back to top button